اگر خريدار، وقت کے بعد بھي پيسہ نہ دے سکے
مسئلہ 1799:وقت اجانے کي بعد اگر خريدار قيمت نہ دے سکے تو اس کچھ مہلت ديني چاہئے.
مسئلہ 1799:وقت اجانے کي بعد اگر خريدار قيمت نہ دے سکے تو اس کچھ مہلت ديني چاہئے.
مسئلہ 1800:اگر کسي چيز کو نقد ايک قيمت سے اور قسطوں ميں اس سے زيادہ قيمت پر بيچے اور خريدار قبول کرے تو کوئي حرج نہيں ہے يہ سود بھي نہ ہوگا مثلا کہے اس چيز کو نقدار اتني قيمت پردوں گا اور قسطوںميں اتني قيمت پر.
مسئلہ ????: اگر کسي چيز کو قسطوں ميں بچے اور بعد ميں کچھ رقم کم کرکے نقد لے لے تو کوئي حرج نہيں ہے?
مسئلہ ????: بيع سلف کا مطلب يہ ہے کہ خريدار رقم پہلے ديدے اور چيز کو ايک مدت کے بعد لے? اس کے لئے اتني بات کافي ہے کہ مثلا خريدار کہے: ميں اتنے روپئے ديتاہوں اور چھ ماہ کے بعد اتني مقدار فلاں چيز لوں گا? اور بيچنے والا کہے: ميں نے قبول کيا? جبکہ اگر صيغہ بھي نہ پڑھے اور خريدار اسي نيت سے روپے دے اور بيچنے والا لے لے تو بھي کافي ہے?
مسئلہ ????: اگر روپئے کو بطور سلف بيچے اور اس کے بدلہ ميں روپئے بھي لے تو معاملہ باطل ہے? ليکن اگر کسي چيز کو بطور سلف بيچے اور اس کے عوض ميں روپئے يا کوئي دوسري چيز لے تو صحيح ہے اگر چہ احتياط مستحب يہي ہے کہ ہميشہ بدلے ميں رقم ہي لے کوئي دوسري چيز نہ لے?
مسئلہ ????: بيع سلف کے لئے چھ شرطيں ہيں:???????چيز کي ان صفات و خصوصيات معين کردے جن کيوجہ سے قيمت ميں فرق پڑتا ہے ليکن بہت زيادہ دقت کي بھي ضرورت نہيں ہے بس اگر يہ کہا جائے کہ اس س کے خصوصيات معلوم ہوگئيں تو کافي ہے اس لے جن چيزوں ميں خصوصيات کو معين نہ کياجا سکے وہ معاملہ باطل ہے مثلا گوشت و پوست کي بعض قسميں????????بيچنے والے اور خريدار کي جدائي سے پہلے پوري رقم ديدي جانے اور اگر تھوڑي سي رقم دے تو اسي مقدار کا معاملہ صحيح ہوگا? ليکن بيچنے والے کو اختيار ہے چاہے تو معاملہ کو فسخ کردے?????? مدت بھي مکمل طور سے معين ہو? لہذا اگر کہے کہ پہلي فصل ميں جنس حوالہ کروں گا (اور پہلي فصل دقيقا معين نہ ہو) تو معاملہ باطل ہے???????? جنس کا جو زمانہ معين کرے عمومي طور پر اسي زمانہ ميں وہ جنس پائي جاتي ہو???????? احتياط واجب کي بناپر جنس سپرد کرني کي جگہ بھي معين کرے کہ کس شہر ميں کس جگہ سپردکي جائے گي البتہ اگر ان کي گفتگو سے سپردگي کي جگہ معلوم ہو تو پھر معين کرنے کي ضرورت نہيں ہے??????? اس کے وزن يا پيمانہ کو بھي معين کريں? لکن جس جنس کا معاملہ عموما صرف ديکھ کر کياجاتا ہو جيسے قالين کے اقسام و غيرہ) اس کي صفات کو ذکر کرکے بطور سلف بيچيں تو کوئي حرج نہيں ہے ليکن اس ميں بھي فرق اشاکم ہو تا ہو کہ لوگ اس کواہميت نہ ديتے ہوں?
مسئلہ1806: بطور سلف خريدي ہوئي چيز کو اگر بيچنے والا معين شدہ اوصاف سے بہتر صفات والي جنس دے تو خريدار کو قبول کرنا چاہئے ليکن اگر معين شدہ بعض اوصاف نہ ہوں تو لوٹا بھي سکتا ہے.
مسئلہ 1806:اگر بيچنے والا معين شدہ جنس کے علاوہ دوسري جنس دينا چاہے يا اسي جنس کو پست صفات کے ساتھ دينا چاہے اور خريدار راضي ہو تو کوئي اشکال نہيں ہے.
مسئلہ 1808: بطور سلف بيچي ہوئي چيز سپردگي وقت اگر ناياب ہوجائے اور بايع اس کو مہيا نہ کرسکے تو خريدار کو اختيار ہے چاہے صبر کرے اور جب مل جائے تو لے اور چاہے تو معاملہ فسخ کرکے اپني دي ہوئي قيمت واپس لے لے.
مسئلہ 1810:سونے کو سونے سے اور چاندي کو چاندي سے اگر بيچا جائے تو بيجنے والے اور خريد نے والے ايک دوسرے سے جدا ہونے سے پہلے پہلے جنس و عوض کو ايک دوسرے کي سپرد کردينا ضروري ہے اور اگر سپرد نہ کريں تو معاملہ باطل ہے اور اگر صرف تھوڑي سي مقدار سپرد کريں تو صرف اسي مقدار ميں معاملہ صحيح ہوگا اور دوسرا ادمي معاملہ صحيح ہوگا اور دوسرا ادمي معاملہ کو فسخ کرسکتا ہے.
مسئلہ 1813:بيع شرط ميں مثلا ايک لاکھ کي قيمت کے مکان کو جانتے بوجھتے بچاس ہزار ميں ہيچ کر اگر يہ شرط رکھي جائے کہ بيچنے والا اگر وقت معين پر رقم ديدے گا تو معاملہ کو توڑسکتاہے، تو يہ معاملہ صحيح ہے بشرطي کہ دونوں خريد و فروخت کي نيت رکھتے ہوں اور اگر وقت معين پر رقم نہ دے تو وہ مکان خريدار کا ہوجائے گا.
مسئلہ 1814:اگر کسي جنس ميں دھو کہ بازي کرے مثلا اچھي جائے خراب چائے ميں ملا کر اچھي چائے کے نام سے بيچے تو خريدار معاملہ توڑسکتاہے.