نذر و عہد کے مسائل
مسئلہ 2272: خدا کے لئے کسي اچھے کام کرنے کي ذمہ داري کو اپنے اور پرلينا يا جس کا نہ کرنا بہتر ہو اس کے ترک کو اپنے ذمے لے لينے کو نذر کہاجاتاہے.
مسئلہ 2272: خدا کے لئے کسي اچھے کام کرنے کي ذمہ داري کو اپنے اور پرلينا يا جس کا نہ کرنا بہتر ہو اس کے ترک کو اپنے ذمے لے لينے کو نذر کہاجاتاہے.
null
مسئلہ 2305: جس چيز کو وقف کياجاتاہے وہ وقف کرنے والے کي ملکيت سے نکل جاتي ہے نہ تو وقف کرنے والا اور نہ دوسرا کوئي اس کو بيچ سکتاہے نہ ہي کسي کو بخش سکتاہے اور نہ کوئي اس کا وارث ہوسکتاہے ہاں مسئلہ 1786 کے مطابق بعض حالات ميں اس کو بيچا جاسکتاہے.
مسئلہ نمبر 2323: انسان کا اپنے موت کے بعد کچھ کاموں کے انجام دہي کيلئے کہنے کو وصيت کہاجاتاہے اس کو وصيت عہديہ کہتے ہيں جيسے کفن، محل دفن ارو ديگر مراسم کے لئے وصيت کي جاتي ہے جيسے کفن، محل دفن اور ديگر مراسم کے لئے وصيت کي جاتي ہے يا انسان يہ کہے يہ مرسے مرنے کے بعد ميرے اموال يا ميري جائيداد ميں سے کوئي چيز کسي کي ملکيت ميں ديدي جائے (اس کو وصيت تمليکيہ کہاجاتاہے) اپني اولاد کے لئے سرپرست معين کرجانا ايک وصيت ہے.
مسئلہ 2352 رشتہ داري کي بنا ء پر بناء ميراث پانے والوں کے تين قسميں ہيں1 ماں، باپ اولاد اور اولاد نہ ہوں تو ان کي اولاد اسي طرح چاہے جتنے نيچے تک پہونچ جائيں ليکن يہ ملحوظ رہے کو جو ميت سے نزديکتر ہو گاو ہي ميراث پائے گا اور جب تک اس طبقہ کا ايک فرد بھي ہوگا دوسرے طبقہ والوں کو ميراث نہيں ملے گي2 دادا، دادي، نانا، ناني (اور ان کے اوپر کے اوپر والے جہاں تک بھي ہو) خواہ پدر ہو يا مادري اسي طرح بھائي، بہن اور اگر بھائي بہن نہ ہوں تو ان کي اولاد در اولاد (جہان تک نيچے سلسلہ جائے) ان ميں سے جو بہت سے زيادہ نزديک ہوگا وہ ميراث پائيگا اور جب تک اس دوسرے طبقہ کا ايک فرد بھي موجود ہو تيرے طبقہ والوں کو ميراث نہيں ملے گي.3 چچا، پھوپھي، ماموں، خالہ اور جوان کے اوپر ہوں اور ان کي اولاد در اولاد چاہے جہان تک بھي نيچے چلي جائے.جوسب سے نزديک ہے ميراث اسي کو ملے گي اور جب تک چچا، پھوپي، مامو، خالہ ميں سے ايک فرد بھي موجود ہو تو ان کي اولادوں کو ميراث نہيں ملے گي اور جب تک ان کي اولاد زندہ ہيں اولاد کي اولاد کو کچھ نہيں ملے گا صرف ايک مسئلہ مستشي ہے کہ اگر ميت کا باپ کي طرف سے چچا ہو اور حقيقي چچا کا بيٹا ہو تو ميراث حقيقي چچا کے بيٹے کو ملے گي اور باپ کي طرف سے نزديک ہونے کے با وجود ميراث نہيں پائے گا.
مسئلہ 2411: مسلمانوں کے شہروں يا سرحدوں پر اگر دشمن حملہ کرديں تو تمام مسلمانوں پر واجب ہے کہ جان، مال يا اور جس طريقہ سے ممکن ہو اس کا دفاع کريں اور اس دفاع ميں حاکم شرع کي اجازت بھي ضروري نہيں ہے البتہ نظم و ترتيب اور دفاعي پروگرام کے لئے امکاني صورت ميں حاکم شرع کي صوا بديد کے مطابق ايک يا کئي افرير معين کردئيے جائيں جو تجربہ کار اور قابل اعتماد ہوں.
مسئلہ 2414: ہر بالغ ، عاقل انسان پر درج ذيل شرائط کے ساتھ امر بالمعروف و نہي عن المنکر واجب ہے.1 امر و نہي کرنيوالے کو يہ يقين ہو کہ جس کو امر يا نہي کررہاہے و ہ فعل حرام يا ترک واجب ميں مشغول ہے.2 يہ احتمال ہو کہ امر و نہي کا اثر بھي ہوگا چاہے وہ اثر فوري ہو يا دير ميں ہو، مکمل اثر ہو يا ناقص ہو، لہذا اگر معلوم ہو کہ کوئي بھي اثر نہ ہوگا تو امر و نہي واجب نہيں ہے.3 امر و نہي ميں کوئي مفسدہ يا ضرر نہ ہو بنابرايں اگر علم ہو يا خوف ہو کہ امر و نہي سے قابل توجہ مالي يا جاني يا ابروئي ضرر اس کو يا بعض مومنين کو پہونچے گا تو امر و نہي واجب نہيں ہے ليکن اگر معروف و منکر ايسے امور ميں سي ہو کہ شارع مقدس نے اس کو بہت زيادہ اہميت دي ہو جيسے قران و اسلام کے ضروري احکام کي حفاظت تو پھر ضرر کا خيال نہيں کرنا چاہئے بلکہ جان و مال ديگر بھي اس کے لئے حفاظت کے لئے کوشش کرے.
مسئلہ 2420: لوگ جو ر قوم کرنٹ اکاونٹ کے حساب سے بينکوں ميں رکھتے ہيں جو قرض الحسنہ کي صورت ميں ہوتي ہے کہ جب چاہيں اس کو نکال ليں اگر اس رقم کے مقابلہ ميں رودکي قرارداد ہو تو حرام ہے اور قرض بھي باطل ہے اور بينک اس رقم ميں تصرف کرنے کا حق نہيں رکھتا.
مسئلہ 1733: حج کا مطلب خانہ ي خدا کي زيارت اور ايسے اعمال کے بجالانے کا نام ہے جس کو (مناسک حج) کہاجا تا ہے تمام ان لوگوں پر جو درج ذيل شرائط کے مالک ہوں عمر ميں ايک مرتبہ حج کرنا واجب ہے.1 بالغ ہوں2عاقل ہوں3حج کرنے سے کوئي ايسا عمل نہ ترک ہو رہاہو جو حج سے زيادہ اہم ہو يا ايسے حرام کام ارتکاب نہ ہو رہا ہو جس کي اہميت شريعت کي نظر ميں زيادہ ہو.4 مستطيع ہوں.1راستے کا خرچ اور جن چيزوں کي حج کے سفر ميں ضرورت ہوتي ہو اس کا مالک ہواس طرح سواري جس کي ضرورت ہو يا اتنا مال ہو جس کے ذريعہ ان چيزوں کو حاصل کرسکتا ہو.2راستہ ميں کوئي مانع نہ ہوکوئي خطرہ نہ ہو اپنے مال و ابرو و جان کے لئے ضرر نہ ہو اس لئے اگر راہ بند ہو يا کوئي خطرہ ہو تو حج واجب نہ ہوگا ليکن اگر دوسرا راستہ ہوچاہے دور کاہو تو اس سے حج بجالانے کي جسماني طاقت ہو3 مناسک حج بجالانے کي جسماني طاقت ہو?4مکہ مکرمہ پہونچنے اور اعمال حج بجالانے کے لئے کافي وقت ہو.5جن لوگوں کا شرعا يا عرفا خرچ لازم ہو ان کے مصارف رکھتا ہو.6 مال يا تجارت يا کوئي بھي ايسا ذريعہ رکھتا ہو جس سے واپسي کے بعد اپني زندگي بسر کرسکے
null
مسئلہ1736: جس عورت کے پاس حج کے اخراجات نہ ہوں ليکن دوسرا اس کو مال بخش دے يا اس کے اختيار ميں اتنا مال ديدے جس سے وہ حج کرسکتا ہو اور اس مدت ميں اس کے بيوي بچوں کا خرچ بھي برداشت کرے تو اس شخص پر حج واجب ہے چاہے وہ مقروض ہو اور واپسي کے بعد امدني کا ايسا معقول ذريعہ نہ رکھتا ہو جس سے زندگي بسر کرسکے اور ايسے ہديہ کا قبول کرنا واجب ہے البتہ اگر زير بار احسان ہو تا ہو يا ضرر ہو يا نا قابل برداشت مشقت ہو تو ہديہ کا قبول کرنا واجب نہيں ہے اور اس کا يہ حج واجبي حج سے کفايت کرے گا.
مسئلہ 1736 جس کے پاس حج کے اخراجات نہ ہوں ليکن دوسرا اس کو مال بخش دے يا اس کے اختيار ميں اتنا مال ديدے جس سے وہ حج کر سکتا ہو، اور اس مدت ميں اس کے بيوي بچوں کا خرچ بھي برداشت کرے تو اس شخص پر حج واجب ہے چاہےوہ مقروض ہو اور واپسي کےبعد امدني کا ايسا معقول ذريعہ نہ رکھتا ہو جس سے زندگي بسر کر سکے اور ايسے ہديے کا قبول کرنا واجب ہے ، البتہ اگر زير بار احسان ہوتا ہو يا ضرر ہو يا ناقابل برداشت مشقت ہو تو ہديہ کا قبول کرنا واجب نہيں ہےاوار اس کا يہ حج واجبي حج سے کفايت کريگا.