سوالات کو بہت مختصر، کم سے کم لاین میں بیان کریں اور لمبی عبارت لکھنے سے پرہیز کریں.

خواب کی تعبیر، استخارہ اور اس کے مشابہ سوال کرنے سے پرہیز کریں.

captcha
انصراف
انصراف
چینش بر اساس:حروف الفباشماره مسئله
مسئله شماره 1707زکات فطرہ(1692)

ملازم اور کام کرنے والوں کافطرہ

مسئلہ 1707: انسان اگر کسي کو ملازم رکھے اور اس سے شرط کرے کہ تمھا را خرچ بھي ميں دو ں گا تو اس کا فطرہ بھي دينا ہوگا ليکن کاريگر جس کا خرچ مالک ديتا ہو (يعني تنخواہ ديتاہو) اس کا فطرہ مالک پر واجب نہيں ہے اسي طرح وہ مہمانخانہ جہاں کام کرنے والے اپنا کھانا کھاتے ہيں ان کا فطرہ انھيں پر ہے صاحب کار (مالک ) پر نہيں ہے.

مسئله شماره 1708زکات فطرہ(1692)

فوجيوں کا فطرہ

مسئلہ 1708: فوجيوں کے اخراجات فوجي مراکز ميدان جنگ ميں حکومت پر واجب ہيں ليکن ان لوگوں کا فطرہ حکومت پرواجب نہيں ہے اگر فوجيوں ميں شرايط موجود ہوں تو وہ خود اپنا فطرہ ديں?.

مسئله شماره 1709زکات فطرہ(1692)

مہينہ کي آخري تاريخ کو غروب آفتاب کے بعد مرنے والے کا فطرہ

مسئلہ 1709:جو شخص مہينہ کي ا?خري تاريخ کو غروب افتاب کے بعد مرجانے اس کا اور اس کے اہل و عيال کا فطرہ اس کے مال سے ادا کيا جائے گا ليکن اگر غروب سے پہلے مرجائے تو واجب نہيں ہے اگر اس کے عيال کے اندر شرائط فطرہ موجود ہوں تو وہ لوگ خود اپنا فطرہ ديں.

مسئله شماره 1710زکات فطرہ کا مصرف (1710)

فطرہ لينے والے فقير کے شرائط

مسئلہ 1710:{ OL 1 }فطرہ بناء بر احتياط واجب صرف فقراء و مساکين کو دينا جاہيے بشرطيکہ وہ مسلمان و اثنا عشري شيعہ ہوں شيعوں کے ضرورت مند بچوں کو بھي فطرہ ديا جاسکتا ہے چاہے بچوں کے مصرف ميں خرچ کياجائے يا ان کے ولي کے واسطہ سے بچوں کي ملکيت بنادي جائے.

مسئله شماره 1711زکات فطرہ کا مصرف (1710)

فطرہ لينے والے فقير کو عادل ہونا ضروري نہيں ہے

مسئلہ 1711: فطرہ لينے والے فقير کو عادل ہونا ضروري نہيں ہے ليکن پھر بھي احتياط واجب ہے کہ شرابي اور علي الاعلان گناہ کبيرہ کرنے والے کو فطرہ نہ دياجائے اسي طرح جو لوگ فطرہ کو گناہ کے کام ميں خرچ کريں ان کو بھي نہ دياجائے.

مسئله شماره 1716زکات فطرہ کے احکام (1713)

اگر بعد ميں معلوم ہو کہ فطرہ لينے والا فقير نہيں تھا

مسئلہ 1716: اگر کسي کو فقير گمان کرتے ہوئے فطرہ ديدے اور بعد ميں معلوم ہو کہ فقير نہيں تھا تو اس سے مال واپس لے کر مستحق کودے سکتا ہے اور اگر اس سے واپس نہ لے تو اپنے مال سے دے اور اگر اصل مال ختم ہوچکا ہو اور فطرہ لينے والا جانتا تھا کہ يہ فطرہ ہے تو وہ اس کا عوض دے اس کے علاوہ صورت ميں اس پرعوض دينا لازم نہيں ہے اور اگر فطرہ دينے والے نے فقير کي تحقيق کرنے ميں کوتاہي نہ کي ہو تو اس پربھي کچھ واجب نہيں ہے.

مسئله شماره 1717زکات فطرہ کے احکام (1713)

فطرہ لينے والے فقير پر اطمينان ضروري ہے

مسئلہ 1717:جو شخص فقير ہونے کا مدعي ہو اس کو جب تک اطمينان نہ ہوجائے کو واقعا فقير ہے يا کم از کم اس کي ظاہري حالت سے معلوم ہو کہ فقير ہے يا يہ جانتا ہو کہ پہلے فقير تھا اور مالدار ہو نا ثابت نہ ہوا ہو، فطرہ نہيں ديا جاسکتا.

قرآن و تفسیر نمونه
مفاتیح نوین
نهج البلاغه
پاسخگویی آنلاین به مسائل شرعی و اعتقادی
آیین رحمت، معارف اسلامی و پاسخ به شبهات اعتقادی
احکام شرعی و مسائل فقهی
کتابخانه مکارم الآثار
خبرگزاری رسمی دفتر آیت الله العظمی مکارم شیرازی
مدرس، دروس خارج فقه و اصول و اخلاق و تفسیر
تصاویر
ویدئوها و محتوای بصری
پایگاه اطلاع رسانی دفتر حضرت آیت الله العظمی مکارم شیرازی مدظله العالی
انتشارات امام علی علیه السلام
زائرسرای امام باقر و امام صادق علیه السلام مشهد مقدس
کودک و نوجوان
آثارخانه فقاهت