فطرہ کو حلال مال سے دينا چاہئے
مسئلہ 1706: جو شخص اپنے اہل و عيال کا خرچ مال حرام سے ديتا ہو اس پر بھي واجب ہے کہ فطرہ حلال مال سے دے.
مسئلہ 1706: جو شخص اپنے اہل و عيال کا خرچ مال حرام سے ديتا ہو اس پر بھي واجب ہے کہ فطرہ حلال مال سے دے.
مسئلہ 1707: انسان اگر کسي کو ملازم رکھے اور اس سے شرط کرے کہ تمھا را خرچ بھي ميں دو ں گا تو اس کا فطرہ بھي دينا ہوگا ليکن کاريگر جس کا خرچ مالک ديتا ہو (يعني تنخواہ ديتاہو) اس کا فطرہ مالک پر واجب نہيں ہے اسي طرح وہ مہمانخانہ جہاں کام کرنے والے اپنا کھانا کھاتے ہيں ان کا فطرہ انھيں پر ہے صاحب کار (مالک ) پر نہيں ہے.
مسئلہ 1708: فوجيوں کے اخراجات فوجي مراکز ميدان جنگ ميں حکومت پر واجب ہيں ليکن ان لوگوں کا فطرہ حکومت پرواجب نہيں ہے اگر فوجيوں ميں شرايط موجود ہوں تو وہ خود اپنا فطرہ ديں?.
مسئلہ 1709:جو شخص مہينہ کي ا?خري تاريخ کو غروب افتاب کے بعد مرجانے اس کا اور اس کے اہل و عيال کا فطرہ اس کے مال سے ادا کيا جائے گا ليکن اگر غروب سے پہلے مرجائے تو واجب نہيں ہے اگر اس کے عيال کے اندر شرائط فطرہ موجود ہوں تو وہ لوگ خود اپنا فطرہ ديں.
مسئلہ 1710:{ OL 1 }فطرہ بناء بر احتياط واجب صرف فقراء و مساکين کو دينا جاہيے بشرطيکہ وہ مسلمان و اثنا عشري شيعہ ہوں شيعوں کے ضرورت مند بچوں کو بھي فطرہ ديا جاسکتا ہے چاہے بچوں کے مصرف ميں خرچ کياجائے يا ان کے ولي کے واسطہ سے بچوں کي ملکيت بنادي جائے.
مسئلہ 1711: فطرہ لينے والے فقير کو عادل ہونا ضروري نہيں ہے ليکن پھر بھي احتياط واجب ہے کہ شرابي اور علي الاعلان گناہ کبيرہ کرنے والے کو فطرہ نہ دياجائے اسي طرح جو لوگ فطرہ کو گناہ کے کام ميں خرچ کريں ان کو بھي نہ دياجائے.
مسئلہ 1712: احتياط واجب ہے کہ ايک فقير کو سال بھر کے خرچ سے زيادہ اور ايک صاع (تين کيلو) سے کم نہ دياجائے.
مسئلہ 1714: ادھا صاع ايک جنس (مثلا گيہوں) اور ادھا صاع دوسري جنس (مثلا جو) فطرہ ميں نہيں دے سکتا البتہ اگر وہاں کي غذا ہي دونوں کو ملا کر ہو تب کوئي حرج نہيں ہے.
مسئلہ 1715:اپنے ضرورت مند رشتہ داروں کو دوسروں پر مقدم کرنا مستحب ہے اس کے بعد ضرورت مند پڑوسيوں کو مقدم کرے اور اگر اہل علم و فضل محتاج ہوں تو ان کو دوسروں پر مقدم کرنا مستحب ہے.
مسئلہ 1716: اگر کسي کو فقير گمان کرتے ہوئے فطرہ ديدے اور بعد ميں معلوم ہو کہ فقير نہيں تھا تو اس سے مال واپس لے کر مستحق کودے سکتا ہے اور اگر اس سے واپس نہ لے تو اپنے مال سے دے اور اگر اصل مال ختم ہوچکا ہو اور فطرہ لينے والا جانتا تھا کہ يہ فطرہ ہے تو وہ اس کا عوض دے اس کے علاوہ صورت ميں اس پرعوض دينا لازم نہيں ہے اور اگر فطرہ دينے والے نے فقير کي تحقيق کرنے ميں کوتاہي نہ کي ہو تو اس پربھي کچھ واجب نہيں ہے.
مسئلہ 1717:جو شخص فقير ہونے کا مدعي ہو اس کو جب تک اطمينان نہ ہوجائے کو واقعا فقير ہے يا کم از کم اس کي ظاہري حالت سے معلوم ہو کہ فقير ہے يا يہ جانتا ہو کہ پہلے فقير تھا اور مالدار ہو نا ثابت نہ ہوا ہو، فطرہ نہيں ديا جاسکتا.
مسئلہ 1718: فطرہ ميں بھي زکوة کي طرح قصد قربت لازم ہے يعني فرمان خدا کي اطاعت کے لئے فطرہ دے فطرہ کي نيت بھي ضروري ہے.