زکات دينے سے گناہ کرنے پر مدد نہ ہو
مسئلہ 1654 زکوة دينے سے گناہ کرنے پر مدد نہ ہو اسي لئے جو شخص زکوة کو گناہ ميں خرچ کرتا ہو اس کو زکوة نہيں دي جا سکتي اور احتياط واجب ہے کہ شرابي کو بھي زکوة نہ ديں.
مسئلہ 1654 زکوة دينے سے گناہ کرنے پر مدد نہ ہو اسي لئے جو شخص زکوة کو گناہ ميں خرچ کرتا ہو اس کو زکوة نہيں دي جا سکتي اور احتياط واجب ہے کہ شرابي کو بھي زکوة نہ ديں.
مسئلہ 1656: واجب النفقہ نہ ہو يعني بيٹے، بيوي، مال، باپ کو زکوة نہيں دي جا سکتي ليکن اگر يہ لوگ مقروض ہوں اور اپنے قرض کي ادائيگي پرقادر نہ ہوں تو بمقدار قرض ان کو زکوة دي جا سکتي ہے.
مسئلہ 1661: 4 زکوة لينے والا سيد نہ ہو ہاں اگر زکوة دينے والا بھي سيد ہو تو کوئي حرج نہيں ہے ليکن اگر خمس و ديگر وجوہات اس کے اخراجات کے لئے پورے نہ ہوتے ہوں اور وہ زکوة لينے پر مجبور ہو تو پھر غير سيد کي بھي زکوة لے سکتا ہے اور ايسي صورت ميں احتياط واجب ہے کہ صرف روزانہ کے اخراجات کے برابر لے.
مسئلہ 1655 زکات ميں نہ تو عدالت کي زرط ہے اور نہ گناہ کبيرہ نہ کرنےکي شرط ہے.
مسئلہ 1656: واجب النفقہ نہ ہو يعني بيٹے، بيوي، مال، باپ کو زکوة نہيں دي جا سکتي ليکن اگر يہ لوگ مقروض ہوں اور اپنے قرض کي ادائيگي پرقادر نہ ہوں تو بمقدار قرض ان کو زکوة دي جا سکتي ہے.
مسئلہ 1658: اگر بيٹا ديني کتابوں کا محتاج ہو تو باپ کتابوں کے خريد نے کے لئے بيٹے کو زکوة دے سکتا ہے.
مسئلہ 1659:جو شوہر اپني بيوي کو اخراجات نہ ديتا ہو اور بيوي حاکم شرع يا اس کے علاوہ کسي اور کے ذريعہ اپنا حق لے سکتي ہو تو اس بيوي کو زکوة لينے کا حق نہيں ہے.
مسئلہ 1662: زکوة ميں قصد قربت شرط ہے يعني فرمان خداوند ہي کي اطاعت کے لئے بجالائے اور اپني نيت ميں معين کرے کہ يہ مال کي زکوة ہے يا فطرہ ہے ليکن اگر اس پر گيہوں، جو اور دوسرے اموال کي زکوة واجب ہو تو نيت ميں معين کرنا ضروري نہيں ہے کہ کس کي زکوة ہے.
مسئلہ 1663: جس کے او پر کئي مال کے زکوة واجب ہو اگر وہ تھوڑي سي زکوة دے اور کسي کي نيت نہ کرے تو زکوة ميں دي ہوئي چيز اگر کسي کے ہم جنس ہو تو اسي کي زکوة شمار ہوگي اور اگر کسي کي جنس سے نہ ہو تو سب پر تقسيم ہوگي مثلا اگر کسي نے ايک بھيڑ زکوة ميں دي تو وہ بھيڑ کي زکوة شمار ہوگي اور اگر چاندي کا سکہ دے اور اس کے ذمہ بھيڑ اور گائے کي زکوة ہو تو وہ چاندي کا سکہ دونوں کي زکوة پر برابر تقسيم ہوگا.
مسئلہ 1664: جس شخص نے کسي کو مال کي زکوة دينے کے لئے وکيل کرديا ہو تو اگر مالک کي نيت ہے تو کافي ہے وکيل نيت کرے يا نہ کرے ليکن اگر مالک نيت نہ کرے بلکہ تمام چيزوں کي وکالت کسي کو ديدي ہو تو پھر وکيل کو نيت کرنا جاہئے.
مسئلہ 1665:اگر کوئي اپني مرضي سے زکوة نہ دے تو حاکم شرع اس سے جبرا زکوة کو وصول کرسکتا ہے اور يہ زکوة شمار ہوگي يہاں قصد قربت ساقط ہے ليکن احتياط يہ ہے کہ حاکم شرع قصد قربت کرے.
مسئلہ 1667: زکوة کے ادا کرنے ميں کوتاہي نہيں کرنے چاہئے بلکہ جس وقت زکوة واجب ہو اس کو فقير يا حاکم شرع کو پہونچادے ليکن اگر کسي معين فقير کا منتظر ہو يا کسي ايسے فقير کو دينا چاہتا ہو جو کسي اعتبار سے برتري رکھتا ہو تو انتظار کرسکتا ہے مگر اس صورت ميں احتياط واجب ہے کہ زکوة کو الگ کرکے رکھ دے.