سوالات کو بہت مختصر، کم سے کم لاین میں بیان کریں اور لمبی عبارت لکھنے سے پرہیز کریں.

خواب کی تعبیر، استخارہ اور اس کے مشابہ سوال کرنے سے پرہیز کریں.

captcha
انصراف
انصراف
چینش بر اساس:حروف الفباشماره مسئله
مسئله شماره 1399روزہ کو باطل کرنيوالي چيزوں کے احکام(1394)

جہاں قضا و کفارہ دونوں واجب ہيں

مسئلہ ۱۳۹۹: روزہ کو باطل کرنے والی چیزوں کو اگر عمدا اور علم و اطلاع کے ساتھ بجالائے تو روزہ تو باطل ہو ہی جاتاہے قضا و کفارہ بھی واجب ہوتاہے لیکن اگر مسئلہ نہ جاننے کی وجہ سےہو تو کفارہ نہیں ہے لیکن اسکی قضا واجب ہے۔

مسئله شماره 1401روزہ کو باطل کرنيوالي چيزوں کے احکام(1394)

روزے کا کفارہ

مسئلہ ۱۴۰۱: روزے کا کفارہ تین چیزوں میں سے ایک ہے۔۱۔۔غلام آزاد کرنا۲۔۔ دو ماہ (مسلسل) روزے رکھنا۳۔۔ ساٹھ فقیروں کو کھاناکھلانا۔ اگر ہرفقیرکو ایک مد (جو تقریبا ۷۵۰ گرام ہوتا ہے) گیہوں یا جو یا اسی طرح کی کوئی چیز دیدے تو کافی ہے۔ اور ہمارے زمانہ میں چونکہ غلام آزاد کرنے کا موضوع ہی منتفی ہے اس لئے دو چیزوں میں سے کسی ایک کو اختیار کرلے اور گیہوں کی جگہ اتنی روٹی بھی دے سکتا ہے جو ایک (مد) گیہوں کی ہو۔

مسئله شماره 1403روزے کا کفارہ (1401)

روزے کے کفارہ کے احکام

مسئلہ ۱۴۰۳: جو شخص ساٹھ روزے رکھنا چاہتا ہے اس کے لئے احتیاط واجب ہے کہ ۳۱ دن تو پے در پے رکھے۔ لیکن [جو شخص ساٹھ روضے نہیں رکھ سکتا اس کے لئے جو ۱۸ دن کے روزے کے لئے کہا گیا ہے] ان ۱۸ روزوں کا پے در پے رکھنا واجب نہیں ہے۔

مسئله شماره 1423قضا روزوں کے احکام (1427)

جہاں پر صرف قضا لازم ہے

مسئلہ ۱۴۲۳: چند صورتوں میں صرف روزہ کی قضا واجب ہے کفارہ نہیں ہے وہ درج ذیل ہیں:۱۔جو شخص رمضان کی رات میں مجنب ہوا ور سوکر بیدار ہو جائے پھر دوسری یا تیسری دفعہ سوجائے او ر بیدار نہ ہوتو ایسی صورت میں احتیاط واجب ہے کہ اس روز ے کی قضا بعد میں رکھے ۔ البتہ اگر پہلی ہی نیند میں بیدار نہ ہوتو قضا نہیں ہے اور روزہ بھی صحیح ہے ۔ ۲۔اگر مبطلات روزہ کوتو انجام نہ دے لیکن روزے کی نیت ہی نہ کی ہو یا روزہ توڑ نے کاارادہ کرے یاریاکار ی سے روزہ باطل کردے۔ ۳۔۔ رمضان میں غسل جنابت کرنا بھول جائے اوراسی حالت میں ایک یاچند روزہ رکھ لے تو بناء بر احتیاط واجب قضا رکھے۔ ۴۔۔ رمضان میں یہ تحقیق کئے بغیر کہ صبح ہو گئی ہے کہ نہیں ایسا کام کرے جس سے روزہ باطل ہو جاتاہے بعد میں پتہ چلے کہ صبح ہوچکی تھی اسی طرح اگر تحقیق کے بعد شک یا گمان ہو صبح ہو گئی ہے (تو بعد میں قضا رکھے ) لیکن اگر تحقیق سے یقین ہو جائے کہ صبح نہیں ہوئی ہے اور کچھ کھا لے بعد میں پتہ چلے کہ صبح ہو چکی تھی توقضا واجب نہیں ہے۔ ۵۔۔ اگر کوئی ناقابل اعتبار شخص کہے کہ صبح نہیں ہوئی ہے ابھی وقت باقی ہے اور انسان اس کے کہنے سے ایسا کام کرے جو روزہ باطل کردیتا ہے اور بعد میں پتہ چلے کہ صبح ہو چکی تھی تواس صورت میں بھی قضا لازم ہے ليکن اگر يه بات معتبر شخص کهے يا انسان تحقيق کے بعد يقين کرلے که صبح نهيں هوئي هے اور کچھ کھاتے بعد ميں معلوم هو که صبح هوگئي تھي تو اس پر قضا واجب نهيں هے۔۶۔اگر کوئی کہے کہ صبح ہو چکی ہے لیکن انسان کو یقین نہ آئے یا خیال کرے کہ مذاق کررہاہے اور ایسا کام کرے جس سے روزہ باطل ہو جاتا ہے پھر پتہ چلے کہ صبح ہو چکی تھی تو قضا لازم ہے۔۷۔ اگر عادل شخص مغرب ہوجانے کی خبر دے اور کوئی افطار کرلے بعد میں معلوم ہو کہ مغرب نہیں ہوئی تھی تو قضا کرے۔۸۔اگر آسمان صاف ہو اور تاریکی کی وجہ سے یقین ہوجائے کہ مغرب ہوچکی ہے اور افطار کرلے بعد میں پتہ چلے کہ مغرب نہیں ہوئی تھی۔۹۔ اگر ٹھنڈک پہونچانے کے لئے یابغیر کسی مقصد کے منہ میں پانی لے کر چاروں طرف پھر ائے اور غیر اختیاری طور سے پانی حلق سے نیچے چلا جائے تو قضا رکھے۔ لیکن اگر بھولے سے ایسا کرے اور پانی نیچے اترجائے تو قضا نہیں ہے اسی طرح اگر وضو کے لئے کلی کررہا ہو اور بےاختیار پانی پیٹ میں چلاجائے تو اس کی قضا واجب نہیں ہے۔۱۰۔ ۔ اگر کوئی شخص اخراج منی کے قصد کے بغیر اپنی بیوی سے شوخی کررہا ہو اور منی نکل آئے (تو قضا کرے) لیکن اگر اطمینان ہوکہ اس کام سے منی نہیں خارج ہوگی اور اتفاق سے منی خارج ہوجائے تو روزہ بھی صحیح ہے او قضا بھی نہیں ہے۔

مسئله شماره 1424قضا روزوں کے احکام (1427)

جہاں پر قضا لازم نہيں ہے

مسئلہ 1424: اگر بہنے والي چيزوں کے علاو ہ کسي چيز کو منہ ميں رکھي اور بي اختيار منہ ميں چلي جائے يا ناک ميں پاني ڈالتے وقت بے اختيار پاني پيٹ ميں چلا جائے تو قضا واجب نہيں ہے.

مسئله شماره 1427روزه (1314)

قضا روزوں کے احکام

مسئلہ ۱۴۲۷: دیوانگی کی حالت میں نہ رکھے ہوئے روزوں کی قضا عاقل ہونے کے بعد واجب نہیں ہے۔ اسی طرح اگر کافر مسلمان ہوجائے تو کفر کے زمانے کے چھوٹے ہوئے روزوں کی قضا اس پر واجب نہیں ہے۔ لیکن اگر مسلمان مرتد ہونے کے بعد پھر تائب ہوکر مسلمان ہوجائے تو جتنے دن مرتد رہا اس زمانے کے روزوں کی قضا کرے۔

مسئله شماره 1440روزه (1314)

مسافر کے روزے کے احکام

مسئلہ ۱۴۴۰: مسافر کو روزہ نہیں رکھنا چاہئے۔ قاعدہ کلیٖہ یہ ہے کہ مسافر جہاں پر نماز قصر پڑھے و ہاں روزہ نہ رکھے اور جہاں پر نماز پوری پڑھے (جیسے وہ مسافر جس کا شغل ہی سفر ہو یا کسی جگہ دس دن ٹہرنے کا ارادہ کرے) وہاں روزہ بھی رکھے۔

مسئله شماره 1450روزه (1314)

جن لوگوں پر روزہ واجب نہيں ہے

مسئلہ ۱۴۵۰: وہ بوڑھا مرد اور بوڑھی عورت جس کے لئے روزہ رکھنا مشکل ہے روزہ چھوڑ سکتے ہیں۔ البتہ روزانہ ایک مد تقریبا (۷۵۰ گرام) گیہوں یا جو یا اس کے مانند دوسری چیز فقیر کو دینا ہوگا۔ اور بہتر ہے کہ گیہوں اور جو کے بدلے روٹی دیں اور روٹی دینے کی صورت میں احتیاط واجب ہے کہ اتنی روٹی دیں کہ وہ روٹیاں ایک مد خالص گیہوں کے مقدار کے برابر ہوں (یعنی ایک مد گیہوں کی جتنی روٹیاں ہوتی ہیں اتنی روٹیوں سے کم نہ دیں۔ مترجم۔

مسئله شماره 1456روزه (1314)

مہنيہ کي پہلي تاريخ کے ثابت ہونے کا طريقہ

ًمسئلہ ۱۴۵۶: مہینہ کی پہلی تاریخ پانچ طریقوں سے ثابت ہوتی ہے۔۱۔ آنکھ سے چاند دیکھنا، لیکن دور بین یا اسی طرح کے دیگر وسائل سے چاند کا دیکھنا کافی نہیں ہے۔۲۔ اتنے لوگوں کی گواہی جس سے یقین ہوجائے (خواہ وہ لوگ عادل بھی نہ ہوں) اسی طرح ہر وہ چیز جس سے یقین حاصل ہوجائے۔۳۔دو عادل مردوں کی گواہی۔ لیکن اگر دونوں چاند کے اوصاف ایک دوسرے سے مختلف بتائیں یا کئی علامتیں بتائیں جس سے ان لوگوں کی غلطی ثابت ہو توان کے کہنے سے چاند ثابت نہ ہوگا۔۴۔ شعبان کے تیس دن گزرجانے سے رمضان کی پہلی تاریخ ثابت ہوجاتی ہے یا پہلی رمضان سے تیس دن گذرجانے سے شوال کی پہلی تاریخ ثابت ہوجاتی ہے [لیکن یہ اسی صورت میں ہے کہ جب پہلی مہینہ کی پہلی انھیں طریقوں سے ثابت ہوئی ہو[۵۔ حاکم شرع کا حکم۔اس کی صورت یہ ہے کہ مجتہد عادل کے نزدیک پہلی تاریخ ثابت ہوجائے او ر وہ اس کے بعد حکم کرے کہ فلاں روز مہینے کا پہلا دن ہے۔ ایسی صورت میں تمام لوگوں پر اس کی اطاعت ضروری ہے صرف جن لوگوں کو یقین ہے کہ مجتہد نے غلطی کی ہے ان پر اطاعت واجب نہیں ہے۔

مسئله شماره 1462روزه (1314)

حرام روزے

مسئلہ 1462: سال ميں دو دن روزہ رکھنا حرام ہے عيد الفطر (شوال کي پہلي تاريخ کو) اور عيد قربان (ذي الحجہ کي دسويں تاريخ کو).

مسئله شماره 1469روزه (1314)

مکروہ روزے

مسئلہ 1469: عاشوراء کے دن روزہ مکروہ ہے اسي طرح اگر شک ہو کہ اج عرفہ ہے يا عيد قربان ہے تو روزہ رکھنا مکروہ ہے نيز مہمان کا روزہ ميزبان کي اجازت کے بغير مکروہ ہے.

مسئله شماره 1470روزه (1314)

مستحب روزے

مسئلہ ۱۴۷۰: حرام اور مکروہ روزوں کے علاوہ پورے سال کا روزہ مستحب ہے۔ البتہ بعض روزں کے لئے تاکید زیادہ آئی ہے۔ ان میں سے چند کا ذکر کیا جارہا ہے۔۱۔ہر مہینے کی پہلی اور آخری جمعرات اور پہلا بدھ جو مہینے کی دسویں تاریخ کے بعد آئے بلکہ اگر کوئی ان روزوں کونہ رکھے تو مستحب ہے کہ قضا کرے۔۲۔ ہر مہینے کی تیر ہویں، چو دھویں، پندر ہویں تاریخ۔۳۔رجب و شعبان کے پورے مہینے کا روزہ اور اگر پورے مہینے کا روزہ نہ رکھ سکے تو کچھ دنوں کا رکھے چاہے ایک ہی دن کا رکھے۔۴۔ ۔۔ چو بیسویں (۲۴)ذی الحجہ اور انتیسویں (۲۹) ذی القعدہ کا روزہ ۵۔ ذی الحجہ کی پہلی تاریخ سے نویں تاریخ تک کا روزہ البتہ اگر روزہ سے کمزوری کی وجہ سے عرفہ کی دعائیں نہ پڑھ سکتا ہو تو عرفہ کا روزہ مکروہ ہے۔۶۔ عید غدیر کے مبارک دن یعنی ۱۸ ذی الحجہ۷۔ محرم کی پہلی، تیسری، ساتویں تاریخ۔۸۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ولادت با سعادت کے دن (۱۷ ربیع الاول)۔۹۔۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی بعثت کے دن (۲۷ رجب)۔۱۰۔ عید نوروز کا روزہ۔

قرآن و تفسیر نمونه
مفاتیح نوین
نهج البلاغه
پاسخگویی آنلاین به مسائل شرعی و اعتقادی
آیین رحمت، معارف اسلامی و پاسخ به شبهات اعتقادی
احکام شرعی و مسائل فقهی
کتابخانه مکارم الآثار
خبرگزاری رسمی دفتر آیت الله العظمی مکارم شیرازی
مدرس، دروس خارج فقه و اصول و اخلاق و تفسیر
تصاویر
ویدئوها و محتوای بصری
پایگاه اطلاع رسانی دفتر حضرت آیت الله العظمی مکارم شیرازی مدظله العالی
انتشارات امام علی علیه السلام
زائرسرای امام باقر و امام صادق علیه السلام مشهد مقدس
کودک و نوجوان
آثارخانه فقاهت