ارتماس سے روزہ کے باطل ہونے کے شرائط
مسئلہ 1366: اگر آدھے سر کو ایک دفعہ اورا آدھے سرکو دوسری دفعہ پانی میں ڈبوئے تو اس کا روزہ صحیح ہے۔ لیکن اگر پورے سرکو پانی میں ڈبو دے صرف تھوڑے سے بال پانی سے باہر ہوں تو روزہ میں اشکال ہے۔
مسئلہ 1366: اگر آدھے سر کو ایک دفعہ اورا آدھے سرکو دوسری دفعہ پانی میں ڈبوئے تو اس کا روزہ صحیح ہے۔ لیکن اگر پورے سرکو پانی میں ڈبو دے صرف تھوڑے سے بال پانی سے باہر ہوں تو روزہ میں اشکال ہے۔
مسئلہ 1367: اگر کوئي ڈوبتے کو بچانے کے لئے سر ڈبونے پر مجبور ہے تو اس کے روزے ميں اشکال ہے ليکن چونکہ مسلمان کي جان کو بچانا واجب ہے اس لئے اس کو بچائے اور روزے کي بعد ميں قضا کرےمسئلہ 1368: غوطہ خور اگر اپنے سر کو غوطہ خوري کے ٹوپي ميں چھپاليں اور اس کو پہن کر غوطہ لگائيں تو ان کا روزہ صحيح ہے.
مسئلہ 1369: اگر روزہ دار غير اختياري طور سے پاني ميں گرجائے يا کوئي اس کو پاني ميں دھکيل دے اور اس کا سرپاني ميں ڈوب جائے يا بھولے سے خود ہي سر کو پاني ميں ڈبولے تو روزہ باطل نہيں ہوگا ليکن اگر ياد جائے تو بناء بر احتياط واجب فورا سرکو پاني سے نکال لينا چاہئے.
مسئلہ 1370: اگر روزہ ياد نہ ہوا در بھولے سے غسل کي نيت سے سر کو پاني ميں ڈبولے تو روزہ اور غسل دونوں صحيح ہے ليکن اگر معلوم ہو کہ روزہ واجب معين ہے اور عمدا ايسا کرے تو بناء بر احتياط واجب روزے کي قضاء کرے اور غسل کو بھي دوبارہ بجالائے.
مسئلہ ۱۳۷۲: اذان صبح تک جناب پر باقی رہنے سے روزے کے باطل ہونے کا حکم صرف رمضان اور اس کی قضا کے لئے ہے۔ دوسرے روزوں میں باطل ہونے کا سبب نہیں بنتا۔
مسئلہ ۱۳۷۳: اگر ماہ رمضان میں مجنب غسل کرنا بھول جائے اور ایک یا چند دنوں کے بعد یاد آئے تو جتنے دنوں کے روزوں کے بارے میں یقین ہے کہ جنابت سے تھا
مسئلہ ۱۳۷۴: جو شخص کے پاس ماہ رمضان کی رات میں غسل و تیمم کا وقت نہیں ہے اگر وہ خود کو مجنب کرے تو اس کے روزے میں اشکال ہے اور اس کو احتیاط واجب کی بنا پر قضا و کفارہ دونوں کو بجالانا چاہئے، یہی حکم ہے اگر غسل کے لئے وقت نہ ہو صرف تیمم کے لئے وقت ہو۔
مسئلہ۱۳۷۶: جو شخص ماہ رمضان کی رات جنب ہوا ور جانتا ہوکہ اگر سوجائے گا تو صبح تک بیدار نہ ہوپائے گا۔ تو اس کو سونا نہیں چاہئے اور اگر وہ سوجائے اور صبح تک بیدار نہ ہو تو اس کے روزے میں اشکال ہے۔ احتیاط واجب ہے کہ قضا و کفارہ (دونوں) بجالائے۔ البتہ اگر بیدار ہوجانے کا احتمال ہوتو سوسکتا ہے لیکن احتیاط واجب یہی ہے کہ دوبارہ بیدار ہونے پر غسل کئے بغیر نہ سوئے۔
مسئلہ 1379: جس نيند ميں احتلام ہوا ہودہ پہلي نيند شمار نہيں ہوگي ليکن اگر اس نيند سے بيدار ہوکر پھر سوجائے تو وہ پہلي نيند شمار ہوگي.
مسئلہ 1381: اگر کوئي رمضان ميں صبح کي اذان کے بعد بيدار ہو اور ديکھے کہ اسے احتلام ہوگيا ہے تو اس کا روزہ صحيح ہے خواہ وہ جانتا ہو کہ صبح کي اذان سے پہلے احتلام ہوا ہے يا صبح کي اذان کے بعد يا اس کو شک ہو.
مسئلہ ۱۳۸۲: جو شخص ماہ رمضان کے روزہ کی قضا رکھنا چاہتا ہوا گروہ صبح کی اذان کے بعد بیدار ہوا ور دیکھے کہ اسے احتلام ہوگیا ہے اور وہ جانتا ہوکہ احتلام صبح کی اذان سے پہلے ہواہے تو اگر روزے کی قضا کا وقت تنگ نہ ہو تو بناء بر احتیاط واجب دوسرے دن روزہ رکھے اور اگر وقت تنگ ہو مثلا اس کے ذمہ پانچ دن کے قضا روزے ہوں اور رمضان میں پانچ دن سے زیادہ باقی نہ ہوں تو پھرا سی دن روزہ رکھے اور اس کا روزہ صحیح ہے۔
مسئلہ 1383: اگر عورت رمضان ميں صبح کي اذان سے پہلے حيض يا نفاس سے پاک ہوجائے اور غسل کے لئے وقت نہ ہو تو تيمم کرلے اس کا روزہ صحيح ہے اور اگر غسل و تيمم دونوں ہي کے لئے وقت نہ ، ہوتو بعد ميں غسل کرے اس کا روزہ صحيح ہے.