مسئلہ 581 : غیر مسلمانوں کے قبرستان میں مسلمان کا دفن کرنا اور مسلمانوں کے قبرستان میں کافر کو دفن کرنا بناء براحتیاط واجب جائز نہیں ہے اسی طرح مسلمان کو ایسی جگہ دفن کرنا جہاں اس کی بے حرمتی ہو حرام ہےجیسے اس جگہ پر دفن کرنا جہاں کوڑا ڈالا جاتا ہے۔
مسئلہ 582 : میت کو غصبی جگہ پر دفن نہیں کرنا چاہئے اور نہ ان جگہوں پر دفن کرنا چاہئے جو دفن کے لئے وقف نہیں ہیں - جیسے مساجد و دینی مدارس- البتہ اگر ابتداء ہی سے دفن کے لئے ایک جگہ مخصوص کرلیں اور وقف میں اس کو وقف سے الگ رکھیں تو وہاں دفن جائز ہے۔
مسئلہ 583 : دوسرے مردے کی قبر میں میت کو دفن کرنا اگر نبش قبر کا سبب نہ ہو یعنی پہلے والے مردہ کا بدن ظاہر نہ ہونے پائے اور زمین بھی مباح ہو یا وقف عام ہو تو جائز ہے۔
مسئلہ 584 : بناء بر احتیاط واجب میت کی جو چیزیں جدا ہوجائیں چاہے وہ بال، ناخن یا دانت ہی ہوں اس کو میت کے ساتھ دفن کردینا چاہئے لیکن اس طرح سے دفن کریں کہ نبش قربر کا سبب نہ ہو لیکن جو ناخن یا دانت زندگی میں جدا ہوجائے اس کا میت کے ساتھ دفن کرنا واجب نہیں ہے اگر چہ بہتر ہے۔
مسئلہ 585 : اگر کوئی کنویں میں مرجائے اور اس کا نکالنا ممکن نہ ہو تو کنویں کو بند کردیں اور اسی کنویں کو اس کی قبر قرار دیدیں اور اگر کنواں کسی اورکی ملکیت ہو تو اس کو کسی بھی طرح راضی کریں۔
مسئلہ 586 : اگر ماں کے رحم میں بچہ مرجائے اور اس کا رحم میں رہنا ماں کےلئے خطرہ ہو تو جو سب سے آسان راستہ ہو اس طرح اس کو نکال لیں یہاں تک کہ اگر مجبور ہوں کہ بچہ کو ٹکڑے ٹکڑے کرنا پڑے تو کردیں اور اس کام میں پہلے نمبر پر اس کا شوہر ہے کہ وہ اس کام کو انجام دے، بشرطیکہ وہ اہل فن ہو اور دوسرے نمبر پر وہ عورت ہے جو اہل فن ہو اور اگر یہ ممکن نہ ہو تو جو محرم مرد اہل فن ہوں یہ کام انجام دے اور یہ بھی نہ ہوسکے تو مجبورا نا محرم اہل فن مرد سے استفادہ کیا جاسکتا ہے۔
مسئلہ 587 : اگر ماں مرجائے اور پیٹ میں بچہ زندہ ہو تو فورا ان لوگوں کے ذریعہ جن کا اس سے پہلے مسئلہ میں کیا گیا ہے جس طرف سے بھی سالم نکل سکتا ہو نکال لیں پھر دوبارہ اس کے پیٹ کو سی دیں اور حتی الامکان یہ کام اہل فن کے زیر نگرانی انجام دیاجائے او راگر اہل فن نہ ہوں تو بائیں پہلو کو چاک کرکے بچہ کو فورا نکال لیں۔
مسئلہ 577 : اگر کوئی شخص کشتی میں مرجائے اور اس کے بدن کے خراب ہونے کا ڈر نہ ہو اور کشتی میں رکھنے سے کوئی چیز مانع نہ ہو تو صبر کریں اور خشکی پر پہونچ کر اس کو دفن کردیں۔ ورنہ غسل و حنوط و کفن دے کر نماز پڑھ کر کسی ایسی چیز میں رکھ کر اس کا منہ مضبوطی سے بند کردیں جس کی وجہ سے پانی کے جانور اس تک رسائی حاصل نہ کرسکیں اور اس کو سمندر میں ڈال دیں اور اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو اس کے پیروں میں کوئی وزنی چیز باندھ کر سمندر میں ڈال دیں اور واجب ہے کہ جہاں تک ممکن ہو اسے ایسی جگہ ڈالیں جہاں وہ فورادریائی جانوروں کی غذا نہ بن جائے۔
جو چیزیں نمازمیت میں مستحب ہیں
مسئلہ 573۔ نمازمیت پڑھنے والے کو با وضو باغسل یا با تیمم ہونا مستحب ہے اور احتیاط مستحب یہ ہے کہ تیمم اس وقت کرے جب وضو و غسل ممکن نہ ہو یا اگر وضو یا غسل کرتاہے تو نمازمیت میں شریک نہیں ہوسکتا اس کے علاوہ چند دوسری چیزوں کا ثواب حاصل کرنے کے لئے نماز میت میں خیال رکھنا چاہئے جو مندرجہ ذیل ہیں ۔1۔ اگرمردکی میت ہے تو امام جماعت یا فرادی نماز پڑھنے والا میت کے کمرکے سامنے کھڑا ہو اور اگر میت عورت کی ہے تو اس کے سینے کے مقابل کھڑا ہو۔2۔ ننگے پاؤں نماز پڑھے۔3۔ ہرتکبیرکہتے وقت ہاتھوں کو بلندکرے۔4۔ میت اور اس میں اتناکم فاصلہ ہو کہ اگر ہوا کی وجہ سے اس کا لباس ہلے توجنازہ سے لگے۔5۔ اگرجماعت ہو تو پیش نماز تکبیر اور دعاؤں کو بلند آواز سے پڑھے اور جو لوگ ساتھ پڑھ رہے ہیں وہ آہستہ پڑھیں۔6۔ نمازپڑھنے والے میت اور مؤمنین کے لئے بہت دعاکریں۔7۔ نماز سے پهلے تین مرتبه الصلواة کهے.8۔ نمازمیت ایسی جگہ پڑھے جہاں زیادہ تعداد میں لوگ نماز میت کے لئے آتے ہوں۔9۔ مسجد الحرام کے علاوه بهتر هے که نمازمیت کو مسجد میں نه پڑھیں 10۔ حائض اگرنمازمیت جماعت سے پڑھے تو ایک صف میں الگ کھڑی ہو۔
مسئلہ589۔ صاحبان عزاء کوتعزیت پیش کرنامستحب ہے، لیکن اگرایک مدت گزرچکی ہواوروہ مصیبت فراموش ہوگئی ہواورتعزیت دینے سے پھروہ مصیبت یادآنے کا اندیشہ ہوتوترک کرنابہترہے، نیزیہ بھی مستحب ہے کہ میت کے گھروالوں کے لئے تین دن تک کھانابھیجیں
مسئلہ590۔ بهتر ہے کہ انسان رشتہ داروں کی موت پراورخصوصا بیٹے کی موت پرصبرکادامن ہاتھ سے نہ چھوڑے اورجب بھی میت کی یاد ائے اناللہ واناالیہ راجعون کہے، میت کے لئے قرآن پڑھے
مسئلہ591۔ کسی کی موت پربدن وچہرے کونوچنا، طمانچہ مارناجائز نہیں ہے ۔اسی طرح باپ اوربھائی کی موت کے علاوہ کسی اورکی میت پر گریبان چاک کرناجائزنہیں ہے ۔

