سوالات کو بہت مختصر، کم سے کم لاین میں بیان کریں اور لمبی عبارت لکھنے سے پرہیز کریں.

خواب کی تعبیر، استخارہ اور اس کے مشابہ سوال کرنے سے پرہیز کریں.

captcha
انصراف
انصراف
چینش بر اساس:حروف الفباشماره مسئله
مسئله شماره 2366طبقہ دوم کي ميراث (2364)

اگر وارث چند بھائي يا چند بہنيں پدري اور مادري ہوں

مسئلہ 2366: حقيقي بھائي و بہن کي موجود گي ميں پدري بھائي و بہن کو ميراث نہيں ملتي ہاں اگر حقيقي بھائي بہن نہ ہوں تو پدري بھائي و بہن کو ميراث اس تفصيل سے ملے گي کہ اگر صرف ايک پدري بہن بہن ہو يا صرف ايک پدري بھائي ہو تو پورا مال اسي کو مل جائے گا اور اگر چند پدري بھائي يا چند پدري بہنيں ہوں تو مال کو اپس ميں برابر برابر تقسيم کرليں گے اور اگر پدري بھائي و پدري بہن دونوں ہوں تو بھائي کو بہن سے دو گنا ملے گا.

مسئله شماره 2367طبقہ دوم کي ميراث (2364)

اگر ميت کا وارث صرف ايک مادري بھائي يا مادري بہن ہو

مسئلہ 2367: اگر ميت کا وارث صرف ايک مادري بھائي يا مادري بہن ہو تو پورا مال اسي کو ملے گا اور اگر کئي مادري بھائي يا کئي مادري بہن يا کئي مادري بہن و بھائي ہوں تو ان تمام صورتوں ميں مال برابر تقسيم کيا جائے گا.

مسئله شماره 2368طبقہ دوم کي ميراث (2364)

حقيقي بہن بھائي، پدري بھائي بہن کو ميراث پہنچنے ميں مانع ہيں

مسئلہ 2368:اگر ميت کا وارث حقيقي بھائي، بہن اور پدري بھائي، بہن اور مادري ايک بھائي يا ايک بہن ہو تو پدري بہن بھائي ميراث سے محروم ہوں گے اور مادري بہن يا مادري بھائي کو مال کے چھ حصہ کرکے ايک حصہ ديديں گے کہ بھائي کو دو گنا اور بہن کو ايک حصہ ملے ليکن اگر مادري بھائي يا بہن ايک سي زيادہ ہوں تو مال کے تين حصے کرکے ايک حصہ مادري بھائي و بہن کوديا جائے گا جو يہ لوگ اپس ميں برابر تقسيم کرليں گے اور دو حصہ حقيقي بھائي بہن کو دياجائے گا جس کو يہ لوگ اس طرح تقسيم کريں گے کہ بھائي کو بہن سے دو گنا ملے.

مسئله شماره 2369طبقہ دوم کي ميراث (2364)

جب ميت کے وارث پدري بھائي بہن اور ايک مادري بھائي يا بہن ہو

? مسئلہ 2369:جب ميت کے وارث پدري بھائي بہن اور ايک مادري بھاٹي يا بہن ہو تو مال کو چھ حصي پر تقسيم کرکے ايک حصہ مادري بہن يا بھائي کو دياجائے گا اور باقي پدري بھائي يا بہن کو دياجائے گا اور يہ لوگ باقي کو اس طرح تقسيم کريں گے کہ ہر بھائي کو بہن کے دو برابر ملے.

مسئله شماره 2370طبقہ دوم کي ميراث (2364)

جب ميت کے وارث، پدري بھائي، بہن اور کئي مادري بہن يا کئي مادري بھائي ہوں

مسئلہ 2370: جب ميت کے وارث پدري بھائي، بہن اور کٹي مادري بہن يا کئي مادري بھائي (يا مادري بھائي بہن) ہوں تو مال کے تين حصے کرکے ايک مادري والوں کو ديں گے اور يہ لوگ اپس ميں برابر برابر تقسيم کرليں گے اور دو حصہ پدري رشتہ داروں کوديں گے جو اپس ميں فرق کے ساتھ تقسيم کريں گے يعني بھائي کو بہن کے دو برابر دياجائے گا.

مسئله شماره 2371طبقہ دوم کي ميراث (2364)

اگر ميت کا وارث بھائي، بہن يا زوجہ ہو

مسئلہ 2371: اگر ميت کا وارث بھائي، بہن يا زوجہ ہو تو شوہر يا بيوي ايندہ تفصيل کے مطابق اپني ميراث ليں گے اور بھائي، بہن گذشتہ مسائل کے مطابق اپني ميراث ليں گے ليکن شوہر يا بيوي کي ميراث لينے کي وجہ سے مادري بھائي بہن کے حصہ ميں کوئي کمي نہيں ہوگيالبتہ حقيقي يا پدري بھائي بہن کے حصہ ميں کمي ہوجائے گي مثلا اگر ميت کے ورثا شوہر، مادري بھائي، بہن، حقيقي بھائي، بہن ہوں تو ادھا مال شوہر کا ہوگا اور اصل ترکہ کا ياک تہائي مادري بھائي، بہن کو ملے گا اور باقي مال حقيقي بھائي، بہن کو دياجائے گا مثلا اگر پورا مال چھ روپے تھے تو تين روپے شوہر کے يا ايک دو مادري بھائي بہن کے اور ايک حقيقي بھائي، بہن کے ہوں گے.

مسئله شماره 2372طبقہ دوم کي ميراث (2364)

اگر ميت کا کوئي بھائي بہن نہ ہو

مسئلہ 2372:اگر ميت کا کوئي بھائي، بہن نہ ہو تو ان کا حصہ ان کي اولاد کو ملے گا اور مادري بھتيجوں اور بھانجوں ميں مال ميرا برابر تقسيم ہوگا اور حقيقي يا پدري بھيتجوں اور بھانجوں ميں مال اس طرح تقسيم کيا جائے گا کہ لڑکے کو لڑکي کے دوبرابر ملے گا البتہ اگر حقيقي يا پدري بھتيجے سب ايک ہي بھائي کي اولاد ہوں تو احتياط يہ ہے کہ لڑکياور لڑکے ميں جو فرق ہے اس ميں اپس ميں مصالحت کريں.

مسئله شماره 2375طبقہ دوم کي ميراث (2364)

اگر وارث صرف دادا

مسئلہ 2375:اگر ميت کا ورثہ صرف دادا (يا دادي) اور نانا (يا ناني) ہو تو مال کے تين حصہ کرکے دو دادا يا دادي اور ايک حصہ نانا يا ناني کو ديديا جائے گا.

مسئله شماره 2376طبقہ دوم کي ميراث (2364)

اگر ميت کے ورثہ دادا، دادي، نانا اور ناني ہوں

مسئلہ 2376: اگر ميت کے وارث دادا، نانا ، ناني ہوں ہوں تو مال کے تين حصے کرکے دو حصے دادا، دادي کو دياجائے گا جواپس ميں اس طرح تقسيم کريں گے کہ دادا کو دوگنا اور دادي کو ايک حصہ ملے گا اور ايک حصہ نانا، ناني کو ملے گا جس کو يہ لوگ اپس ميں برابر تقسيم کريں گے.

مسئله شماره 1

تقليد

مسئلہ ۱ : کوئی بھی مسلمان اصول دین میں تقلید نہیں کرسکتا۔ بلکہ اصول دین کو ”اپنی حسب حیثیت“ دلیل سے جاننا چاہئے۔ لیکن فروع دین میں (یعنی عملی احکام و دستور میں) اگر خود مجتہد ہے (یعنی احکام الہی کو دلیل سے خود حاصل کرسکتا ہے) تو اپنے عقیدے کے مطابق عمل کرے۔ اور اگر خود مجتہد نہیں ہے تو چاہئے کہ کسی دوسرے مجتہد کی تقلید کرے۔ بالکل اسی طرح کہ جیسے لوگ جس چیز میں مہارت نہیں رکھتے تو اس چیز کے ماہر کی طرف رجوع کرتے ہیں اور اس کی پیروی کرتے ہیں۔اس کے علاوہ احتیاط پر بھی عمل کرسکتا ہے یعنی اپنے اعمال کو اس طرح بجالائے کہ اس کو یقین ہوجائے کہ اس نے اپنی شرعی ذمہ داری کو پورا کردیا ہے۔ مثلا اگر کسی چیز کو بعض مجتہدین حرام اور بعض مباح جانتے ہوںتو اس کو ترک کردے اور اگر بعض مجتہدین کسی کام کو واجب اور بعض مستحب کہتے ہوں تو اس کو لازما بجالائے۔ لیکن چونکہ احتیاط پر عمل کرنا مشکل ہے، اور فقہی مسائل میں وسیع اطلاعات کی احتیاج ہوتی ہے۔ اسی لئے زیادہ تر لوگوں کے لئے یہی بہتر ہے کہ مجتہدین کی طرف رجوع کریں اور ان ہی کی تقلید کریں ۔قرآن اور روايات کي رو سے عبادات اور شرعي واجبات کو انجام دينے کا معيار بلوغ شرعي (حکم شريعت کے مطابق بالغ هونا) هے، بلوغ شرعي کي ايک نشاني يه هے که لڑکا قمري اعتبار سے 15 سال کا هو کر سولهويں ميں اور لڑکي 9 سال کي هوکر دسويں سال ميں داخل هوجائے،هر ميلادي سال ميں قمري سال سے 11 دن زياده هوتے هيں اس فرق کو مد نظر رکھتے هوئے میلادي سال کے اعتبار سے لڑکے 14 سال 6 مهينه اور 20 دن اور لڑکياں 8 سال 8 مهينے 25 دن ميں بالغ هوتي هيں. بلوغ (بالغ هونے) کي دوسري نشانيوں کو جاننے کے لئے صفحه نمبر 377 کامطالعه فرمائيں.

قرآن و تفسیر نمونه
مفاتیح نوین
نهج البلاغه
پاسخگویی آنلاین به مسائل شرعی و اعتقادی
آیین رحمت، معارف اسلامی و پاسخ به شبهات اعتقادی
احکام شرعی و مسائل فقهی
کتابخانه مکارم الآثار
خبرگزاری رسمی دفتر آیت الله العظمی مکارم شیرازی
مدرس، دروس خارج فقه و اصول و اخلاق و تفسیر
تصاویر
ویدئوها و محتوای بصری
پایگاه اطلاع رسانی دفتر حضرت آیت الله العظمی مکارم شیرازی مدظله العالی
انتشارات امام علی علیه السلام
زائرسرای امام باقر و امام صادق علیه السلام مشهد مقدس
کودک و نوجوان
آثارخانه فقاهت