مسئلہ 600 : اگر کوئی وصیت کرجائے کہ اس کو معین جگہ پر دفن کیا جائے اور اس کی وصیت پر عمل نہ کیا جائےاور کسی دوسری جگہ دفن کردیں تو پھر جائز نہیں ہے کہ قبر کھول کر میت کو وصیت کی گئی جگہ پر دفن کردیں۔
مسئلہ 601 : اگر کوئی وصیت کرے کہ دفن کے بعد اس کی قبر کھود کر میت کو مشاہد مشرفہ یا کسی اور جگہ منتقل کردیا جائے تو ایسی وصیت پر عمل کرنا مشکل ہے۔
مسئلہ 602 : اگر میت کے دفن میں تاخیر کرنا توہین اور بے حرمتی کا باعث ہو تو جائز نہیں ہے۔
شهید کے احکام
مسئله 603۔ مسلمان کی میت کو غسل و کفن دینا واجب ہے لیکن دو گروه اس حکم سے خارج ہیں : 1۔ «شهیدان راه خدا» یعنی جو لوگ اسلام کے لئے ، میدان جہاد میں، پیغمبر(ص) یا امام معصوم(ع) یا ان کے نایب خاص کے ساتھ قتل ہوگئے ، اسی طرح سے وہ لوگ کہ جو غیبت امام زمان(عج) میں دشمنان اسلام سے دفاع [بچاو]کرتے ہوئے قتل ہوجائیں، چاہے مرد ہوں ، یا عورتیں، بڑے ہوں یا بچے،ایسے موارد میں غسل و کفن اور حنوط واجب نہین ہے، بلکه ان پر نماز پڑھنے کے بعد اسی لباس میں دفن کیا جائگا۔
نمازوحشت
مسئلہ594۔ مستحب ہے کہ اس امید سے که مطلوب و مقبول پروردگار هے قبرکی پہلی رات میت کے لئے دورکعت نمازوحشت پڑھے جس کاطریقہ یہ ہے،پہلی رکعت میں الحمد کے بعدایک مرتبہ آیة الکرسی اور دوسری رکعت میں الحمدکے بعددس مرتبہ اناانزلناہ پڑھے اور سلام کے بعدکہے۔اللہم صل علی محمد و آل محمد وابعث ثوابھا الی قبر فلاں [فلاں کی جگہ پرمیت کانام لے[
مسئلہ 595- نماز وحشت کو دفن کی پہلی رات میں کسی وقت بھی پڑھ سکتے ہیں لیکن بہتر یہ ہے کہ رات کے شروع ہی میں یعنی نماز عشاء کے بعد پڑھ لے۔
مسئلہ596۔ اگر دفن میت میں کسی وجه سے تاخیر ہوجائے تونمازوحشت میں بھی قبر کی پہلی رات تک تاخیرکی جائے۔
مسئله 604۔ شہید کا حکم ان لوگوں کے لئے ہے جن کو میدان جنگ میں قتل کیا گیا ہو ، یعنی اس پہلے کہ مسلمان ان کے تک پہونچے وہ جان دے چکے ہوں ، لیکن تک مسلمان پہونچ جائیں ، یا زخمی کو اٹھا کر میدان جنگ سے خارج کردیں اور وہ اسپتال یا کسی اور جگہ پر دنیا سے چلا جائے تو اگر یہ لوگ بھی شہیدوں کے ثواب کے مستحق ہیں لیکن [غسل و کفن نہ دینے کے اعتبار سے ]یہ لوگ شہیدوں کے حکم میں نہیں ہیں۔
مسأله 605۔آجکل کی جنگوں میں -کہ جنکے میدان بہت بڑے ہوتے ہیں یہاں تک کہ کبھی کبھی کئی کلومیٹر یا کئی فرسخ تک وسیع ہوتے ہیں اور دشمن کی گولیاں اور دیگر اسلحے دور تک وار کرتے ہیں- جہاں تک فوجیوں کی اکھٹا ہونے کی جگہ ہے وہ پورا علاقہ میندان جنگ شمار ہوگا لیکن اگر دشمن ، جبہہ جنگ سے دور دراز، بمباری کے ذ ریعہ کچھ لوگوں کو قتل کردے تو شہید کا حکم ان کے لئے جاری نہیں ہوگا۔
مسئله 606۔ اگر شہید کسی وجہ سے برهنه ہوجائے تو اس کو کفن پہنا کر بغیر غسل کے دفن کریں ۔
مسئله 607۔ 2۔ جس کا قتل ، قصاص یا کسی شرعی حد کی بنا پر واجب ہو گیا ہے اور حاکم شرع نے اسے حکم دےدیا ہے کہ وہ اپنی زندگی ہی میں خود غسل میت کر لے ،اور وہ تینوں غسل کو انجام دیکر کفن کے دو ٹکڑے [پیراہن اور لنگی ]بھی پہن لیتا ہےاور میت کی طرح حنوت بھی کر لیتا ہے تو مرنے کے بعد تیسرے ٹکڑے [یعنی چادر]کو اسکے اوپر ڈال کر،اس پر نماز پڑھی جائے گی اور اسی حالت میں دفن کر دیا جائےگا اور اسکے بدن اورکفن سے خون صاف کرنا ضروری نہیں ہے یہاں تک کہ اگر وہ ڈرکر خود کو نجس بھی کرلے تو غسل کی تکرار ضروری نہیں ہے ۔
مسئلہ609۔ مقدس مقامات میں داخل ہونے کے لئے غسل کرناثواب خدا کی امید سےمستحب ہے،چنانچہ میں مکہ مکرمه اور مدینہ منورہ، مسجد الحرام اور مسجد النبی اور اسی طرح حرم آئمہ معصومین علیھم السلام میں داخل ہونے کے لئے غسل کرنامستحب ہے،اور اگر ایک دن میں کئی مرتبہ مشرف ہو تو صرف ایک غسل کافی ہے اگر کوئی چاہتا ہے کہ ایک ہی دن میں مکہ مکرمہ میں داخل ہو کر مسجد الحرام میں بھی داخل ہو یا مدینہ منورہ میں داخل ہو کر مسجدالنبی میں بھی داخل ہو تو سب کی نیت سے صرف ایک غسل کافی ہے اسی طرح زیارت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کے لئے اور زیارت آئمہ معصومین علیھم السلام کے لئے غسل مستحب ہے چاہے زیارت دور سے کرے یا نزدیک سے اور نشاط عبادت کے لئے اور سفر پر جانے کے لئے بھی اس قصید و امید پر کہ مقبول و مطلوب پروردگار ہے غسل مستحب ہے۔

