حیض سے پاک ہونے کے بارے میں عورت کی بات پر اطمنان کرنا
مسئلہ446 : اگر عورت کہے کہ میں حائض ہوں یا حیض سے پاک ہو چکی ہوں تو اس کی بات مان لینی چاہئے البتہ اگر بدگمانی کا مورد ہو تو اس کے لئے یہ حکم نہیں ہے۔
مسئلہ446 : اگر عورت کہے کہ میں حائض ہوں یا حیض سے پاک ہو چکی ہوں تو اس کی بات مان لینی چاہئے البتہ اگر بدگمانی کا مورد ہو تو اس کے لئے یہ حکم نہیں ہے۔
مسئلہ447 : اگر عورت نماز پڑھتے ہوئے حائض ہوجائے تو اس کی نماز باطل ہے اور اس کو نماز توڑ دینی چاہئے لیکن اگر شک ہوکہ حائض ہوئی کہ نہیں تو اس کی نماز صحیح ہے۔
مسئلہ448 :عورت جب حیض سے پاک ہوجائے تو اسے اپنی عبادتوں کو بجالانے کے لئے غسل کرنا چاہئے اور اگر پانی نہ مل سکے تو تیمم کرے، غسل حیض کا طریقہ غسل جنابت کی طرح ہے اور اس کے بعد بھی وضو کی ضرورت نہیں ہے ویسے احتیاط مستحب ہے کہ غسل سے پہلے یا بعد میں وضو بھی کرے۔
مسئلہ 449 : عورت جب خون حیض سے پاک ہو جائے چاہے ابھی غسل نہ کیا ہو پھر بھی اس کی طلاق صحیح ہے اور اس کا شوہر اس سے ہمبستری کرسکتا ہےاگر چہ احتیاط مستحب یہ ہے کہ غسل سے پہلے مجامعت نہ کرے البتہ جو دوسرے کام حیض کے وقت اس پر حرام تھے جیسے مسجدوں میں ٹہرنا، قرآن کی تحریر کو چھونا بناء بر احتیاط واجب وہ اس وقت تک جائز نہ ہوں گے جب تک غسل نہ کرلے۔
مسئلہ 450 : روزانہ کی نمازیں جن کو عورت نے حالت حیض میں نہیں پڑھی اس کی قضا نہیں ہے لیکن واجب روزے کی قضا کرنا چاہئے۔
مسئلہ 451 : جب نماز کا وقت داخل ہوجائے او رعورت کو معلوم ہو یا گمان ہو کہ اگر نماز میں تاخیر کی توحائضہ ہوجائے گی تو فورا نماز پڑھنی چاہئے۔
مسئلہ 453: اگر حائض نماز کے آخری وقت میں پاک ہو تو اسے غسل کر کے نماز پڑھنا چاہئے یہاں تک کہ اگر صرف ایک رکعت کا بھی وقت باقی رہ گیا ہے تو احتیاط واجب ہے کہ نماز پڑھے اور نہ پڑھنے کی صورت میں قضا پڑھے۔
مسئلہ 456 : حائض عورت کے لئے مستحب ہے کہ نماز کے وقت خود کو خون سے پاک کرے اور روئی یا کپڑے کے بنے ہوئے پیڈ کو بدل کر وضو کرے اور اگر وضو ممکن نہیں ہے تو تیمم کرے اور اپنی جا نماز پر روبقبلہ بیٹھ کر ذکر الہی و دعا و صلوات میں مشغول ہوجائے۔ لیکن قرآن کی تلاوت کرنا اس کا ہمراہ رکھنا، خواشی قرآن کا چھونا، دو سطروں کے بیچ کو چھونا، مہندی کا خضاب لگانا حائض کے لئے مناسب نہیں ہے(مکروه هے)۔
مسئلہ 452 : اگر عورت نماز کے اول وقت میں اتنی دیر پاک رہے کہ ایک نماز کے واجبات ادا کرسکتی تھی مگر اس نے نماز نہیں پڑھی اور حائض ہو گئی تو اس نماز کی بعد میں قضا کرے اور نماز کے واجبات کے انجام دینے کا وقت ہے کہ نہیں اس کا اندازہ لگانے کے لئے اپنی حالت کو پیش نظر رکھے مثلا مسافر کے لئے دو رکعت اور حاضر کے لئے چار رکعت کے برابر اور جو با وضو نہیں ہے وہ وضو کے وقت کو اور اسی طرح لباس و بدن کی طہارت کو بھی پیش نظر رکھے اور اگر صرف نماز کا وقت ہے تو احتیاط واجب نماز کے قضا کرنے میں ہے۔
مسئلہ 454 : اگر آخر وقت میں پاک ہو اور غسل کے لئے وقت نہ ہو بلکہ صرف تیمم کرکے نماز کے وقت میں ایک رکعت وقت کے اندر پڑھ سکتی ہو اور باقی وقت کے بعد تو اس پر نماز واجب نہیں ہے لیکن اگر تنگی وقت کے علاوہ اس کی شرعی ذمہ داری ہی تیمم ہو مثلا پانی اس کے لئے مضر ہو تو اسے تیمم کرکے نماز پڑھنا چاہئے ۔
مسئلہ 455 : اگر عورت حیض سے پاک ہونے کے بعد شک کرے کہ نماز کے لئے بمقدار کافی وقت باقی ہے کہ نہیں تو اس کو اپنی نماز پڑھنی چاہئے۔
مسئلہ 458: ایسی عورتیں ایام عادت میں خون دیکھتے ہی حائضہ ہوجاتی ہیں اور انہیں عادت کے اختتام تک حائضہ کے احکام پر عمل کرنا ہوگا چاہے عادت کے دنوں میں آنے والے خون میں حیض کی صفات ہوں یا نہ ہوں۔