شراب کا مطلب کيا ہے
مسئلہ 2265: شراب سے مراد ہر وہ سيال ہے جو مست کرنے والا ہو اور اب جو بھي ايک قسم کي شراب ہي ہے شراب کا ايک قطرہ يا اس سے بھي کم پينا حرام ہے.
مسئلہ 2265: شراب سے مراد ہر وہ سيال ہے جو مست کرنے والا ہو اور اب جو بھي ايک قسم کي شراب ہي ہے شراب کا ايک قطرہ يا اس سے بھي کم پينا حرام ہے.
مسئلہ 2267: اگر کسي مسلمان کي جان بھوک يا پياس سے خطرہ ميں ہو تو سب پر واجب ہے کہ اس کے لئے کھانے پينے کا انتظام کرکے اس کو نجات ديں.
مسئلہ 2321:اگر مسجد کي تعمير، امام جماعت و موذن کے اخراجات و غيرہ کے لئے کوئي جائيداد وقف کي جائے تو اگر يہ معلوم ہو کہ کس کے لئے کتني رقم معين کي گئي ہے تب تو اسي کے مطابق عمل کريں اور اگر کوئي مقدار معين نہ ہو تو متولي کي رائے کے مطابق جس طرح طرح مصلحت ہو اس کو صرف کياجائے.
مسئلہ 2335: اگر وصيت کرنے والا کسي معين چيز کے لئے وصيت کرے کہ فلاں کو ديدي جائے اس کے بعد وصيت کرے کہ اس کا ادھا دوسرے کو ديديا جائے تو اس چيز کے دو حصہ کرکے ادھا ادھا دونوں کو ديدياجائے.
مسئلہ 2349: اگر کوئي دعوي کرے کہ ميت نے فلاں مال مجھے دينے کي وصيت کي تھي اور دو عادل مرد اس کے دعوے کے تصديق کريں يا يہ شخص قسم کھائے اور ايک عادل مرد اس کي تصديق کرے يا ايک مرد عادل اور دو عادل عورتيں يا چار عادل عورتيں اس کي تصديق کريں تو اس شخص کي بات ماني جائے گي اور اگر وصيت کرتے وقت کوئي عادل مرد نہ رہا ہو صرف ايک عادل عورت گواہي دے تو اس مال کا 1/4 اس کو دياجائے گا اور اگر دو عادل عورتيں گواہي ديں تو نصف مال دياجائے گا اور اگر تين عادل عورتيں گواہي ديں تو 3/4 اس کو دياجائيگا نيز اگر دو کافر ذمي جو اپنے دين ميں عادل ہو گواہي ديں اور ميت مجبور ہو کہ وصيت کرے اور کوئي مسلمان مرد يا عورت جو عادل ہوں وہاں پرنہ رہے ہوں تو وصيت پر عمل کرنا چاہئے.
مسئلہ 2387: اگر وارث حقيقي چچا و پھوپھي يا پدري چچا و پھوپھي اور ايک ماموں يا ايک خالہ ہوں تو مال کے تين حصے کرکے ايک حصہ ماموں يا خالہ کو ديں گے اور باقي ميں سے دو حصے حقيقي چچا کو اور اکي حقيقي پھوپھي کو ملے گا (پدري چچا پھوپھي کو کچھ نہ ملے گا) بنابرايں اگر مال کے حصے کئے جائيں تو تين حصے ماموں يا خالہ کو اور چار حصے چچا کو اور دو حصے پھوپھي کو مليں گے/
مسئلہ 2388: اگر ميت کے وارث حقيقي يا پدري چچا و پھوپھي اور ايک مادري چچا يا ايک مادري پھوپھي اور ايک ماموں يا ايک خالہ ہوں تو مال کے تين حصے کرکے ايک حصہ ماموں يا خالہ کو دياجائے گا اور باقي دو حصے کي چھ حصے کئے جائيں گے ان مين سے ايک حصہ مادري چچا يا پھوپھي کو ملے گا اور پانچ حصي حقيقي چچا، پھوپھي کو اور وہ نہ ہوں تو پدري چچا پھوپھي کو مليں گے يہ لوگ اس طرح اس کو تقسيم کريں گے کہ چچا کو پھوپھي کے دوبرابر ملے گا.
مسئلہ 2389: اگر وارث حقيقي چچا، پھوپھي اور پدري چچا، پھوپھي اور مادري چچا و پھوپھي اور ايک ماموں يا ايک خالہ ہوں تو مال کے تين حصے کرکے ايک حصہ ماموں يا خالہ کوديں گے اور باقي دو حصوں کو تين حصوں ميں تقسيم کرکے ايک حصہ مادري چچا و پھوپھي کوديں گے (ليکن بنابر احتياط واجب يہ لوگ تقسيم ميں اپس مين مصالحت کريں) اور دو حصے حقيقي چچا پھوپھي کو اور وہ نہ ہوں تو پدري چچا و پھوپھي کوديں گے اور اس ميں چچا پھوپھي سے دوگنا ملے گا.
مسئلہ 2390: اگر وارث کئي ماموں اور کئي خالہ ہوں اور سب کے سب حقيقي ہوں يا سب پدري ہوں يا سب مادري ہوں اور چچا بھي ہوں تو مال کے تين حصےکرکرکے دو حصے سابقہ مسئلہ کے مطابق چچا، پھوپھي بھي ہوں تو مال کے تين حصے کرکے دو حصہ سابقہ مسئلہ کے مطابق چچا، پھوپھي کوديں گے اور وہ لوگ اپس ميں تقسيم کرليں گے اور ايک مامووں اور خالاوں کوديں گے جو برابر برابر تقسيم کرليں گے.
مسئلہ 2391: اگر وارث مادري ماموں يا مادري خالہ ہو اور چند حقيقي يا پدري ماموں و خالہ اور چچا، پھوپھي ہوں تو مال کو تين حصوں پرتقسيم کرکے دو حصے چچا و پھوپھي ميں سابقہ تفصيل کے مطابق تقسيم کرديں گے اور ايک حصہ جوبچاہے تو اگر ميت کي ايک مادري خالہ يا مادري ماموں ہو تب ت و اس کو چھ حصوں پر تقسيم کرکے ايک حصہ مادري ماموں يا مادري خالہ کوديں گے اور باقي حقيقي ماموں و خالہ ک و اور يہ نہ ہوں تو پدري ماموں و خالہ کودين گے جس کو يہ لوگ اپس ميں بطور مساوي تقسيم کريں گے اور اگر کئي مادري ماموں يامادري خالہ ہوں يا مادري ماموں و خالہ دونوں ہوں تو اس حصہ کو تين حصوں پرتقسيم کرکے ايک حصہ مادري ماموں اور خالہ کو بطور مساوي دين گے اور باقي حقيقي ماموں و خالہ کوديںگے اور يہ لوگ بھي اپ ميں بطور مساوي تقسيم کريں گے.
مسئلہ 2392: اگر ميت کے چچا، پھوپھي اور ماموں، خالہ نہ ہوں تو چچا و پھوپھي کا حصہ ان کي اولاد کو اور ماموں و خالہ کا حصہ ان کي اولاد کو دياجائے گا.
مسئلہ 2381: اگر وارث صرف چند مادري چچا يا صرف چند مادري پھوپھي ہوں تو مال سب ميں برابر برابر تقسيم ہوجائيگا ليکن اگر صرف مادري چچا و پھوپھي دونوں ہوں تو احتياط واجب کي بنا پر تقسيم مال ميں مصالحت کرليں.