اگر ايک مسلمان اور ايک کافر شکار کريں
مسئلہ نمبر 2235: اگر دو ايسے ادمي شکار کريں شکار کريں جن ميں ايک مسلمان ہو اور ايک کافر يا ايک ادمي خدا کا نام لے اور دوسرا عمدا نہ لے تو بنا بر احتياط واجب وہ حيوان حلال نہيں ہے.
مسئلہ نمبر 2235: اگر دو ايسے ادمي شکار کريں شکار کريں جن ميں ايک مسلمان ہو اور ايک کافر يا ايک ادمي خدا کا نام لے اور دوسرا عمدا نہ لے تو بنا بر احتياط واجب وہ حيوان حلال نہيں ہے.
مسئلہ2214: جنگلي حلال گوشت جانور شکار سے اس وقت حلال ہوتا ہے جب اس ميں بھاگنے کي طاقت برقرار ہو اسلئے مرن کا وہ بچہ جو بھاگ نہ سکتا ہو اور چکور کا وہ بچہ جو اڑنہ سکتا ہو شکار کرنے سے حلال نہيں ہوتا.
مسئلہ 2215: وہ حلال گوشت حيوان جو مچھلي کي طرح خون جہندہ نہ رکھتا ہو اگر خود ہي پاني ميں مرجائے تو پاک ہے ليکن اس کا گوشت حرام ہے.
مسئلہ 2216: جو حرام گوشت جانور خون جہندہ نہ رکھتا ہو جيسے سانپ وہ ذبح کرنے سے حلال تو نہيں ہوگا ليکن اس کا مردہ پاک ہے.
مسئلہ 2217: سور، کتا ذبح کرنے يا شکار کرنے سے پاک نہيں ہوتا اور ان کا گوشت بھي حرام ہے البتہ درندہ و گوشت خوار حيوان حرام گوشت جيسے بھيڑيا، چيتا و غيرہ اگر ان کو شرعي طريقہ سے ذبح کياجائے يا اسلحہ سے شکار کياجائے تو پاک ہے ليکن گوشت حرام ہي رہے گا يہي صورت اس وقت بھي ہے جب شکاري کتے سے ان کا شکار کياجائے.
مسئلہ 2218: ہاتھي،، ريچھ ،بندر، چوہا اور وہ جانور جو سانپ اور مگر مچھ (گوہ) کي طرح زمين کے اندر زندگي بسر کرتے ہيں تو ان ميں جو خون جہندہ رکھتے ہوں اگر خو د بہ خود مرجائيں تو نجس ہيں ليکن اگر ان کو ذبح کياجائے يا شکار کياجائے تو پاک ہيں.
مسئلہ 2219: اگر زندہ حيوان کے پيٹ سے مردہ بچہ پيدا ہو يا باہر نکالا جائے تو اس کا گوشت کھانا حرام ہے.
مسئلہ 2242: شکاري اگر کتے کو بھيجنے کے بعد ايسے وقت پہنچے کہ اس جانور کو ذبح کرسکتا ہو ليکن اس کے پاس چھري نہ ہو يا چھري تلاش کرنے ميں اتنا وقت لگ جائے کہ شکار مرجائے تو بنابر احتياط واجب اس کے کھانے سے اجتناب کريں .
مسئلہ 2249: پاني سے باہر ا?جانے والي مچھلي خواہ خود بخود باہر اجائے يا موجوں کي زوميں اکر باہر اجائے يا جزر و مد کے ذريعہ سے خشکي پر اجائے اور وہيں مرجائے تو حرام ہے ليکن مرنے سے پہلے ہاتھ سے يا کسي اور ذريعہ سے پکڑ لے اور بعد ميں مرجائے تو حلال ہے.
مسئلہ 2258: اگر زندہ حيوان کا کوئي حصہ کاٹ لے چاہے وہ دنبہ کا گوشت ہي ہو تو اس کا کھانا حرام ہے.
مسئلہ 2260 وہ خبيث و پليد چيز جس سے انساني طبيعت نفرت کرتي ہے (جيسے حيوانوں کا گوبر، پيشاب، ناک کي گندگي و غيرہ) اسکا کھانا حرام ہے چاہے وہ پاک ہو.
مسئلہ 2264: شراب پينا حرام بلکہ گناہ کبيرہ ہے اور اگر کوئي شخص اس بات کے طرف متوجہ ہوتے ہوئے کہ حلال سمجھنے کا مطلب خدا و رسول کي تکذيب ہے پھر بھي حلال سمجھ کرپئے تو وہ کافر ہے حضرت امام جعفر صادق نے فرمايا تمام برائيوں اور گناہوں کي جڑ شراب ہے جو شخص شراب پيتا ہے وہ اپنے ہاتھ سے اپني عقل کو ضائع کرديتا ہے اور اس وقت خدا کو نہيں پہچانتا، کسي گناہ کو کرنے سے نہيں ہچکچاتا، کھلم کھلا برائيوں سے منہ نہيں موڑتا، روح ايمان اور خدا کي معرفت اس کے بدن سے نکل جاتي ہے اور ناقص خبيث روح جو رحمت خدا سے دورسے اس ميں رہ جاتے ہے، خدا، فرشتے، مومنين اس پر لعنت کرتے ہيں اور چاليس دن تک اس کي نماز قبول نہيں ہوتي اور قيامت کے دن اس کا چہرہ سياہ ہوگا.