اگر سيد فقيرکسي کا مقروض ہو
مسئلہ 1581: اگر کسي شخص کا کسي سيد پر قرض ہو تو وہ اپنے قرض کو خمس ميں حساب کرسکتاہے البتہ سہم امام کے سلسلہ ميں حاکم شرع سے اجازت کي ضرورت ہوگي.
مسئلہ 1581: اگر کسي شخص کا کسي سيد پر قرض ہو تو وہ اپنے قرض کو خمس ميں حساب کرسکتاہے البتہ سہم امام کے سلسلہ ميں حاکم شرع سے اجازت کي ضرورت ہوگي.
مسئلہ 1589: گيہوں اور جو کي زکوة اس وقت واجب ہو تي ہے جب خوشوں ميں دانہ پڑ جائے اور اس کو گيہوں اور جو کہاجانے لگے اور انگور و کشمش کي زکوة اس وقت واجب ہوتي ہے کہ جب ميوہ ہو جائے اور اس کو انگو ر وکشمش کہا جانے لگے اسي طرح کھجور ميں زکوة اسوقت واجب ہوتي ہے جب وہ کھجور ہوجائے (پک جائے )اور کھانے کے قابل ہو جائے .ليکن زکوة دينے کا وقت گيہوں اور جو ميں وہ ہے جب کھليان ميں صاف کرليں اور کھجور و کشمش ميں زکوة دينے کا وقت خشک ہو جائے کے بعد ہے البتہ اگراس کو گيلے پن ميں صرف کرنا چاہيں تو اس کي زکوة ديں بشرطيکہ وہ سو کھنے کے بعد نصاب کي مقدار تک پہچنے
مسئلہ 1600: اگر رطب و انگور کو خشک ہونے سے پہلے مصرف ميں لائيں يا ہيچ ديں تو اس پر زکوہ اس صورت ميں واجب ہوگي جب ان کا وزن خشک ہونے کے بعد نصاب برابر ہو.
مسئلہ 1604: اگر معلوم نہ ہو کہ ابپاشي سے ہوئي ہے يا کنوئيں و غيرہ سے تو اکيسواں حصہ دے.
مسئلہ 1605: اگر زراعت بارش کے پاني اور نہر کے پاني اور نہر کے پاني سے سيراب ہوئي ہو اور کنويں کے پاني سے سيراب کرنے کي ضرورت نہ ہو ليکن کنويں سے بھي سيراب کي گئي ہو اور اس سے محصول ميں کوئي تاثير نہ ہوئي تو اس کي زکوہ دسواں حصہ ہوگي اور اس کے برعکس اگر کنويں کے پاني سے سيراب کي گئي ہو مگر بارش بھي ہوئي ہو البتہ بارش کے پاني کا کوئي اثر نہ ہوا ہو تو اس کي زکوہ اکيسواں حصہ ہوگي.
مسئلہ 1606: اگر کسي زراعت کو کنويں کے پاني سے سيراب کيا گيا ہو اور اس کے پہلو ميں دوسري زراعت ہو جس نے زمين کي رطوبت سے استفادہ کيا ہو اور اس کو سيراب کرنے کي ضرورت نہ رہي تو جس زراعت کي ابپاشي کنويں سے ہوئي ہے اس کي زکوہ اکيسواں حصہ ہوگي اور بغل والے زراعت کي زکوہ دسواں حصہ ہوگي.
مسئلہ 1607احتياط واجب کي بنا پر جو خرچ زراعت کے لئے کيا گياہے اس کو حاصل سے کم نہ کريں اسي طرح بيچ کي قيمت بھي حاصل سے کم نہ کريں.
مسئلہ 1613: جو شخص مقروض ہو اور زراعت کا بھي مالک ہو اگر مرجائے اور اس کے ورثہ زراعت پر زکوہ واجب ہونے سے پہلے دوسرے اموال سے اس کا قرض ادا کرديں تو ورثاء ميں سے جس کا حصہ باندازہ زکوہ ہو وہ زکوہ دے ليکن اگر زکوة واجب ہونے سے پہلے ميت کا قرض ورثاء نہ ادا کريں اور ميت کا مال صرف اتنا ہو جس سے اسکا قرض ادا کيا جاسکتا ہو تو زکوہ واجب نہ ہوگي.
مسئلہ 1614: اگر زراعت کا محصول اچھا برا دونوں ہو تو ہر ايک کي زکوہ اسي سے دے يا قيمت کا حساب کرکے دے ليکن يہ نہيں کرسکتا کہ سب کي زکوہ برے سے ديدے ليکن اگر سب کي زکوہ اچھے سے دے تو اچھا ہے.
مسئلہ 1617: سونے چاندي پرہر سال زکوة واجب ہو تي ہے يعني اگر کسي کے پاس بمقدار نصاب سونا يا چاندي ہے اور اسي نے زکوة ديدي پھر دوسرے سال بھي اگر بمقدار نصاب سے تو زکوة واجب ہو گي يعني جب تک سونا چاندي نصاب بھر رہے گا ہر سال زکوة ہوتي رہے گي جب نصاب سے کم ہو جائے گا تو زکوة واجب نہ ہو گي بخلاف خمس اور گيہوں جو کجھور ،کشمش کے کہ جس مال کا ايک مرتبہ خمس دے ديا جائے اس پر دوبارہ خمس واجب نہ ہو گا البتہ اگر اس مال ميں اضافہ ہو جائے تو اضافہ پر زکوة نہ ہو گي اسي طرح گيہوں و غيرہ کي اگر ايک مرتبہ زکوة ديدي جائے تو دوبارہ زکوة نہ ہو گي .
مسئلہ 1620: اگر سونا وچاندي سکہ دار رائج الوقت کوعورتيں بطور زيور استعمال کريں اور زينت کے لئے استعمال کريں تو اس پر زکوة واجب نہيں ہے اور اگر کسي کے پاس سونا وچاند ي دونوں ہو ں ليکن تنہا کوئي بھي نصاب بھر نہ ہو تو زکوة واجب نہ ہو گي چاہے دونوں (سونا چاندي ) مجموعي قيمت نصاب بھر ہو .دوسري شرط
مسئلہ 1622: اگر کوئي زکوة سے بچنے کے لئے سونے چاندي کو کسي چيز سے بدل لے يا گلا کر پاني کرلے تو زکوة کا تعلق نہيں ہوگا مگر وہ خير و سعادت سے محروم ہوگا ايسے احتياط مستحب ہے کہ زکوة دے.