تشہد میں امام سے پیچھے رہ جانا
مسئلہ 1265 : اگر امام کي نماز ختم ہوجائے او رماموم تشہد يا سلام پڑھنے ميں مشغول ہو تو ضروري نہيں ہے کہ فرادي کي نيت کرے.
مسئلہ 1265 : اگر امام کي نماز ختم ہوجائے او رماموم تشہد يا سلام پڑھنے ميں مشغول ہو تو ضروري نہيں ہے کہ فرادي کي نيت کرے.
مسئلہ ۱۲۶۶ : جو شخص امام سے ایک رکعت پیچھے ہو اس کو چاہئے کہ جب امام تشہد پڑھنے لگے تو احتیاط واجب یہ ہے کہ وہ اپنے گھٹنوں کو زمین سے اٹھا کر اور اپنی انگلیوں کو اور پیروں کے پنجوں کو زمین پر ٹیک کر اٹھنے والے کی صورت میں بیٹھ جائے اور احتياط مستحب يه هے کہ امام کے ساتھ تشہد پڑھے یا ذکر کرے اوراگر امام کی آخری رکعت ہے تو احتياط واجب کي بناپرصبر کرے یہاں تک کہ امام سلام کہہ لے پھر اٹھ کر یہ اپنی باقی نماز پڑھے۔
null
مسئلہ ۱۲۸۰ : اگر ماموم یہ خیال کرکے کہ امام نے سجدہ سے سر اٹھالیا ،خود بھی سر اٹھالے(اب اگر امام سجدہ ہی میں ہے)تودوبارہ سجدہ میں چلا جائے اور اگر یہی صورت دونوں سجدوں میں پیش آجائے تو دو سجدے کی زیادتی(جو رکن ہے)نماز کو باطل نہیں کرے گی لیکن اگر وہ دوبارہ سجدہ میں جائے اور امام سجدہ سے اسی وقت سر اٹھالے تو اگر یہ صورت صرف ایک سجدہ میں پیش آئے تب تو نماز صحیح ہے لیکن اگر دونوں سجدوں میں یہی صورت پیش آئے تو نماز باطل ہے۔
مسئلہ 1281 : اگر ماموم اشتباہا رکوع يا سجدہ سے سر اٹھالے اور سہوا يا اس خيال سے کہ اگر دوبارہ رکوع يا سجدہ ميں جاؤں گا تو امام کو نہ پاسکوں گا اس لئے رکوع يا سجدہ ميں نہ جائے تو اس کي نماز صحيح ہے.
مسئلہ 1282 : اگر ماموم سہوا امام سے پہلے رکوع ميں اس طرح چلاجائے کہ اگر سر اٹھالے تو امام کي قرائت کا کچھ حصہ مل جائے گا تو فورا سر اٹھالے اور امام کي قرائت کو درک کرے پھر امام کے ساتھ رکوع ميں جائے اور اگر يہ جانتا ہے کہ سر اٹھانے کے بعد امام کي قرائت کا کوئي حصہ نہيں ملے گا تو احتياط واجب ہے کہ سر اٹھالے اور امام کے ساتھ نماز تمام کرے اور دوبارہ پھر نماز پڑھے.
مسئلہ 1283 : جن صورتوں ميں ماموم کو پلٹنا چاہئے اگر عمدا نہ پلٹے تو اس کي نماز ميں اشکال ہے.
مسئلہ ???? : اگر امام تيمم يا وضوئے جبيرہ کے ساتھ نماز پڑھ رہا ہو تو اس کي اقتدا کي جاسکتي ہے? ليکن اگر کسي عذر کي بنا پر مجبورا نجس لباس ميں نماز پڑھ رہا ہو تو بنا برا حتياط واجب اس کي اقتدا نہيں کي جاسکتي? اسي طرح جو شخص پيشاب يا پاخانہ کے روکنے پر قادر نہيں ہے اس کي بھي اقتدا نہيں کي جاسکتي اور نہ مستحاضہ کي اقتدا ہوسکتي ہے قاعدہ کليہ يہ ہے کہ جو شخص کسي عذر کي وجہ سے ناقص نماز پڑھ رہا ہو اسے دوسروں کے لئے امام جماعت ہونے کا حق نہيںہے ناقص نماز پڑھ رہا ہو اسے دوسروں کے لئے امام جماعت ہونے کا حق نہيں ہے (بنا برا حتياط واجب)صرف تيمم يا وضو جبيرہ والا امامت کرسکتا ہے?
مسئلہ ???? : اگر امام تيمم يا وضوئے جبيرہ کے ساتھ نماز پڑھ رہا ہو تو اس کي اقتدا کي جاسکتي ہے? ليکن اگر کسي عذر کي بنا پر مجبورا نجس لباس ميں نماز پڑھ رہا ہو تو بنا برا حتياط واجب اس کي اقتدا نہيں کي جاسکتي? اسي طرح جو شخص پيشاب يا پاخانہ کے روکنے پر قادر نہيں ہے اس کي بھي اقتدا نہيں کي جاسکتي اور نہ مستحاضہ کي اقتدا ہوسکتي ہے قاعدہ کليہ يہ ہے کہ جو شخص کسي عذر کي وجہ سے ناقص نماز پڑھ رہا ہو اسے دوسروں کے لئے امام جماعت ہونے کا حق نہيںہے ناقص نماز پڑھ رہا ہو اسے دوسروں کے لئے امام جماعت ہونے کا حق نہيں ہے (بنا برا حتياط واجب)صرف تيمم يا وضو جبيرہ والا امامت کرسکتا ہے?
مسئلہ ???? : جذام يا برص کي بيماري والا آدمي بنا برا حتياط امام جماعت نہيں ہوسکتا يہاں تک کہ اپنے جيسے لوگوں کے لئے بھي نہيں ہوسکتا?
مسئلہ ۱۲۹۳ : اگر وقت گزرنے کے بعد معلوم ہو کہ پورا گہن لگا تھا تونماز آیات کی قضا واجب ہے لیکن اگر پورا نہ لگا ہو تو قضا واجب نہیں ہے۔
مسئلہ ۱۲۹۴ : اگر کوئی خبر دے کہ گہن لگا ہے لیکن سننے والے کو یقین نہ آئے اور نماز نہ پڑھے۔ اور بعد میں معلوم ہو کہ خبر دینے والے نے صحیح خبر دی تھی تو اگر گہن پورا لگا تھا تو نماز آیات پڑھے ورنہ واجب نہیں ہے۔