جماعت کو ميں شرکت کے لئے خود کو رکوع تک پہنچانا
مسئلہ ۱۲۵۲ : پہلی رکعت کے علاوہ ، دوسری رکعتوں میں بھی اپنے کو امام کے رکوع سے ملحق کرنا چاہئے ورنہ اس کی جماعت میں اشکال ہے۔
مسئلہ ۱۲۵۲ : پہلی رکعت کے علاوہ ، دوسری رکعتوں میں بھی اپنے کو امام کے رکوع سے ملحق کرنا چاہئے ورنہ اس کی جماعت میں اشکال ہے۔
مسئلہ1253 : جس وقت امام رکوع ميں ہے اسي وقت اگر اقتدا کرے اور بمقدار رکوع جھکنے سے پہلے امام رکوع سے کھڑا ہوجائے تو فرادي کي نيت کرے اس کي نماز صحيح ہے اور اعادہ کے بھي ضرورت نہيں ہے.
مسئلہ ۱۲۵۶ : اگر دوسری رکعت میں اقتدا کرے تو قنوت و تشہد امام کے ساتھ ہی پڑھے اور احتیاط واجب یہ ہے کہ تشہد پڑھتے وقت گھٹنوں کو زمین سے بلند کرے صرف ہاتھوں کی انگلیوں کو اور پیروں کو زمین پر رکھے رہے(بالکل اس طرح بیٹھے جیسے اٹھنا چاہتا ہو)اور امام کے تشہد کے بعد کھڑا ہوجائے ، حمد و سورہ پڑھے اگر سورہ کے لئے وقت نہ ہو تو صرف حمد پڑھے اور اپنے کو امام کے ساتھ رکوع میں پہونچادے۔
مسئلہ ۱۲۵۷ : جو شخص امام کی دوسری رکعت میں شریک ہو وہ اپنی دوسری رکعت میں (جو امام کی تیسری ہے)دونوں سجدوں کے بعد بیٹھ کر بمقدار واجب تشہد پڑھے اور اٹھ کر امام کے ساتھ شریک ہوجائے اب اگر تین مرتبہ تسبیحات پڑھنے کا وقت نہ ہو تو ایک مرتبہ پڑھ کر رکوع میں امام کے ساتھ شریک ہوجائے۔
مسئلہ 1258 : اگر امام کي تيسري يا چوتھي رکعت ہو اور ماموم جانتا ہو کہ اگر ابھي شريک ہو کر حمد پڑھے گا تو امام کو رکوع ميںنہيں پائے گا تو احتياط واجب ہے کہ صبر کرے جب امام رکوع ميں جائے تو نيت کرکے شريک ہوجائے.
مسئلہ 1260 : جس شخص کو اطمينان ہو کہ سورہ پڑھ کر بھي امام کو رکوع ميں پالے گا تو احتياط واجب ہے کہ سورہ کو پڑھے اور ايسي صورت ميں اگر وہ سورہ کو پڑھے او راتفاق سے رکوع ميں امام کے ساتھ نہ پہونچ پائے تو اس کي جماعت صحيح ہے.
مسئلہ ۱۲۶۱ : اگر امام حالت قیام میں ہے اور ماموم کو نہیں معلوم کہ یہ امام کی کونسی رکعت ہے تب بھی شریک جماعت ہوسکتا ہے ، شریک ہو کر قصد قربت سے حمد و سورہ پڑھے اس کی نماز صحیح ہے، چاہے معلوم ہوجائے کہ امام کی تیسری یا چوتھی رکعت ہے یا پہلی یا دوسری ہے بشرطیکہ نماز ظہر وعصر ہو کہ جس میں امام حمد و سورہ کو آہستہ پڑھتا ہے۔
مسئلہ 1262 : اگر يہ خيال کرتے ہوئے کہ امام کي پہلي يادوسري رکعت ہے وہ حمد و سورہ نہ پڑھے اور رکوع کے بعد معلوم ہو کہ تيسري يا چوتھي تھي تو اس کي نماز صحيح ہے ليکن اگر رکوع سے پہلے معلوم ہوجائے تو حمد و سورہ دونوں پڑھے اور اگر وقت نہ ہو تو صرف حمد پڑھے اور رکوع ميں امام کے ساتھ شريک ہوجائے.
مسئلہ 1265 : اگر امام کي نماز ختم ہوجائے او رماموم تشہد يا سلام پڑھنے ميں مشغول ہو تو ضروري نہيں ہے کہ فرادي کي نيت کرے.
مسئلہ ۱۲۶۶ : جو شخص امام سے ایک رکعت پیچھے ہو اس کو چاہئے کہ جب امام تشہد پڑھنے لگے تو احتیاط واجب یہ ہے کہ وہ اپنے گھٹنوں کو زمین سے اٹھا کر اور اپنی انگلیوں کو اور پیروں کے پنجوں کو زمین پر ٹیک کر اٹھنے والے کی صورت میں بیٹھ جائے اور احتياط مستحب يه هے کہ امام کے ساتھ تشہد پڑھے یا ذکر کرے اوراگر امام کی آخری رکعت ہے تو احتياط واجب کي بناپرصبر کرے یہاں تک کہ امام سلام کہہ لے پھر اٹھ کر یہ اپنی باقی نماز پڑھے۔
null
مسئلہ ۱۲۸۰ : اگر ماموم یہ خیال کرکے کہ امام نے سجدہ سے سر اٹھالیا ،خود بھی سر اٹھالے(اب اگر امام سجدہ ہی میں ہے)تودوبارہ سجدہ میں چلا جائے اور اگر یہی صورت دونوں سجدوں میں پیش آجائے تو دو سجدے کی زیادتی(جو رکن ہے)نماز کو باطل نہیں کرے گی لیکن اگر وہ دوبارہ سجدہ میں جائے اور امام سجدہ سے اسی وقت سر اٹھالے تو اگر یہ صورت صرف ایک سجدہ میں پیش آئے تب تو نماز صحیح ہے لیکن اگر دونوں سجدوں میں یہی صورت پیش آئے تو نماز باطل ہے۔