رکوع ياسجدے کے بعد ذکر واجب کے بارے ميں شک کرے
مسئلہ1052۔ اگررکوع یاسجودکرلینے کے بعد یه تو معلوم هو که ذکر واجب کو اداکیا ہے لیکن یه نہیں معلوم که شرائط کے ساتھ اور صحیح طریقه سے انجام دیا تھا که نہیں توشک کی پرواہ نہ کرے۔
مسئلہ1052۔ اگررکوع یاسجودکرلینے کے بعد یه تو معلوم هو که ذکر واجب کو اداکیا ہے لیکن یه نہیں معلوم که شرائط کے ساتھ اور صحیح طریقه سے انجام دیا تھا که نہیں توشک کی پرواہ نہ کرے۔
مسئلہ1053 اگراٹھتے وقت شک ہوکہ تشہدبجالايا کہ نہيں يا سجدہ ميں جاتے ہوئے اکرشک کرے کہ رکوع بجالايا يانہيں تو احتياط واجب هے پلٹ کر بجالائے.
مسئلہ1054 بيٹھ کرياليٹ کرنمازپڑھنے والااگرحمدياتسبيحات پڑھتے ہوئے شک کر ے کہ سجدہ ياتشہدبجالاياکہ نہيں توپرواہ نہ کرے، ليکن اگرحمدوتسبيحات شروع کرنے سے پہلے شک ہوجائے توبجالاناچاہئے.
مسئلہ 1055 : اگر محل گزرنے سے پہلے شک ہو اور وہ پلٹ کر بجالائے اس کے بعد معلوم ہو کہ اس حصے کو بجالایا تھا اور دوسری دفعہ انجام دیدیا تو اگر وہ چیز رکن تھی تب تو نماز باطل ہے اور اگر رکن نہ ہو تو نماز صحیح ہے۔
مسئلہ 1056 : اگر محل گزرنے کے بعد شک ہو اور قاعدے کے مطابق پرواہ نہ کرتے ہوئے آگے بڑھ جاءئے اور بعد میں یاد آئے کہ اس مشکوک چیز کو واقعی بجا نہیں لایا تو اگر بعد والے رکن میں مشغول نہیں ہوا ہے تو پلٹ کر بجالائے اور اگر بعد والے رکن میں مشغول ہوگیا ہے تو نمازصحیح ہے مگر یہ کہ چھوٹا ہو [مشکوک] جزء رکن رہا ہو ، تو نماز باطل ہے۔
مسئلہ1057۔ اگرشک ہوکہ نمازکے سلام کوبجالایاکہ نہیں یاشک ہوکہ صحیح کہاتھاکہ نہیں تواگردوسری نمازمیں مشغول ہوگیاہے یاکسی ایسی کام میں مصروف ہو گیا ہے کہ جس سے نمازٹوٹ جاتی ہے اورحالت نمازسے باہرآچکاہے تواپنے شک کی پرواہ نہ کرے اوراگران باتوں سے پہلے ہے توپلٹ کرسلام کہناضروری ہے۔
مسئلہ1058۔ نمازکاسلام تمام کرنے کے بعداگرشک ہوکہ اس کی نمازصحیح تھی کہ نہیں، تو اپنے شک کی پرواہ نہ کرے خواہ وہ شک نماز کی رکعتوں سے متعلق ہو یا نماز کی شرائط سے متعلق ہو جیسے قبلہ و طہارت وغیرہ اور چاہے اجزاء نماز سے متعلق ہو جیسے رکوع و سجود و غیرہ۔
مسئلہ1060۔ ظہروعصرکی نمازکاوقت گزرجانے کے بعدمعلوم ہوکہ صرف چاررکعت نماز پڑھی ہے مگریہ نہ معلوم ہوکہ ظہرکی نیت سے پڑھی تھی یاعصرکی نیت سے، تومافی الذمہ (یعنی وہ نمازجواس پرواجب ہے) کی نیت سے چاررکعت قضانمازپڑھے۔اگرمغرب وعشاء کاوقت گزرجانے کے بعدپتہ چلے کہ دونوں میں سے کوئی ایک ہی نمازپڑھی ہے، لیکن معلوم نہیں وہ مغرب کی تھی یاعشاء کی ، تومغرب اورعشاء دونوں کی قضاء کرے۔
مسئلہ 1062 : کثیر الشک وہ ہے جس کو لوگ کہیں یہ زیادہ شک کرتا ہے۔ اور اگرکوئی کسی ایک نماز میں تین مرتبہ شک کرے یاتین نمازوں میں پے در پے شک کرے تو وہ کثیر الشک ہے۔
مسئلہ 1063: اگر کسی غیر معمولی حالت کی وجہ سے مثلا بیماری، غصہ یا مصیبت کی وجہ سے وقتی طور پر کثیر الشک ہوجائے تو اپنے شکوک کی پرواہ کرے اور اس کے احکام کے مطابق عمل کرے۔
مسئلہ 1064 : شک کي پرواہ نہ کرنے کا مطلب يہ ہے کہ جس طرف اس کو فائدہ ہو اسي کو اختيار کرے مثلا اگر شک ہو کہ رکوع يا سجدہ بجالايا کہ نہيں تو بنا رکھے کہ بجالاياہے چاہے ابھي محل باقي بھي ہو ياشک ہو کہ صبح کي نماز دو رکعت پڑھي تھي يا تين تو مان لے کہ دو رکعت پڑھي تھي.
مسئلہ1065۔ اگرکسی کومخصوص جگہ پرزیادہ شک ہوتا ہو مثلا حمد و سوره میں تو اس شک کی پرواہ نہ کرے، لیکن دوسرے مقامات پرجوشک ہوں ان پرشک کے دستورکے مطابق عمل کرے، صرف جس مقام پر زیاده شک کرے ، اس کی پرواه نه کرے ، اسی طرح اگرکسی کوصرف معین نماز(مثلانمازصبح) میں شک ہوتاہے تواس میں شک کی پرواہ نہ کرے، باقی نمازوں میں شک کے احکام پرعمل کرے۔اور اگرکسی کوکسی خاص جگہ زیادہ شک ہوتاہے(مثلاجس وقت لوگوں کے درمیان نمازپڑھے) توصرف اسی جگہ پراپنی شک کی پرواہ نہ کرے،