سوالات کو بہت مختصر، کم سے کم لاین میں بیان کریں اور لمبی عبارت لکھنے سے پرہیز کریں.

خواب کی تعبیر، استخارہ اور اس کے مشابہ سوال کرنے سے پرہیز کریں.

captcha
انصراف
انصراف
چینش بر اساس:حروف الفباشماره مسئله
مسئله شماره 938رکوع (927)

وظيفه کسي که به خاطر بيماري يا پيري کمرش خميده شده

مسئلہ 938 : اگر کوئی بڑھاپے کی وجہ سے جھک گیا ہو یابیماری یا کسی اور مجبوری کی وجہ سے وہ رکوع کی طرح جھک گیا ہو تو نماز میں قرائت کے لئے اپنی کمر کو جتنا بھی سیدھی کر سکتا ہو کرے اور اگر یہ نہ کرسکتا ہو تو کم از کم رکوع سے پہلے کمر کو تھوڑی سی سیدھی کرے پھر رکوع میں جائے اور اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو رکوع کے لئے ذرا اور جھک جائے بشرطیکہ حالت رکوع سے خارج نہ ہو۔ اور اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو احتیاط واجب یہ ہے کہ سر سے اشارہ کرے اور قصد بھی کرے کہ اس کی حالت، رکوع کا جزء شمار ہو۔

مسئله شماره 940رکوع (927)

رکوع ختم کرکے سيدھا کھڑا ہونا

مسئلہ 940 : رکوع ختم کرکے سيدھا کھڑا ہونا واجب ہے پھربدن ساکن ہونے کے بعد سجدہ ميں جائے اور اگر کوئي عمدا اس کام کو ترک کردے تو اس کي نماز باطل ہے البتہ اگر بھولے سے ہو تو کوئي اشکال نہيں ہے.

مسئله شماره 669

نماز

نماز کی اہمیت نماز انسان کے خدا سے رابطے کانام ہے اور روح کی پاکیزگی ، قلب کی طہارت روح تقوی کی پیدائش ، انسان کی تربیت، گناہوں سے پرہیز کا ذریعہ ہے، تمام عبادتوں میں سب سے زیادہ اہم ہے۔ روایت میں ہے کہ اگر نماز قبول ہوگئی تو دیگر اعمال بھی قبول کر لئے جائیں گے اور اگر نماز نہ قبول کی گئی تو دیگر اعمال بھی قبول نہ کئے جائیں گے۔اسی طرح روایت میں ہے کہ نماز پنجگانہ پڑھنے والے کے گناہ اس طرح بخش دئیے جاتے ہیں جس طرح نہر کے پانی سے پانچ وقت نہانے والے کے بدن سے کثافت دور ہوجاتی ہے۔ اسی دلیل کی روشنی میں قرآنی آیات، اسلامی روایات، پیغمبر اکرم(ص) و ائمہ معصومین کی ہدایات میں جس اہم چیز کی سب سے زیادہ تاکید کی گئی ہے وہ یہی نماز ہے۔ اس لئے نماز ترک کرنا عظیم ترین گناہ کبیرہ شمار ہوتا ہے۔انسان کے لئے بہتر ہے کہ نماز کو اول وقت میں پڑھا کرے اور اس کی اہمیت کا قائل ہو اور تیزی سے نماز پڑھنےسے - جو کہ ممکن ہے نماز کی خرابی کا سبب بن جائے- بہت زیادہ پرہیز کرے۔چنانچہ حدیث میں ہے کہ ایک دن رسول خدا(ص) نے ایک شخص کو مسجد میں نماز پڑھتے دیکھا جو رکوع و سجود کامل طور سے نہیں بجالا رہا تھا تو آنحضرت نے فرمایا : اگر یہ شخص مرجائے اور اس کی نماز کا یہی عالم ہو تو میرے دین پر نہیں مرے گا۔اور نماز کی روح حضور “قلب” ہے ۔ جو چیزیں حواس کی پراکندگی کا سبب بنتی ہیں ان سے پرہیز کرنا بہتر ہے۔ نماز میں کلمات کے معانی کی طرف توجہ رکھنا اور خضوع و خشوع سے نماز پڑھنا، اور یہ سمجھنا کہ کس سے گفتگو کر رہا ہے ۔ اپنے کو عظمت و بزرگی خدا کے مقابلے میں بہت ہی چھوٹا جاننا (یہ سب چیزیں)مطلوب ہیں۔ معصومین(ع)کے حالات زندگی میں لکھا ہے کہ نماز کے وقت یاد خدا میں اس طرح محو ہوجاتے تھے کہ اپنے سے بھی بے خبرہو جاتے تھے۔ حضرت علی علیہ السلام کے پاؤں میں تیر کا پھل رہ گیا تھا نماز کی حالت میں نکال لیا گیا آپ کو خبر بھی نہیں ہوئی۔نماز کو قبولیت اور اس کی فضیلت و کمال کے لئے واجب شرائط کے علاوہ درج ذیل امور کی بھی رعایت کرنی چاہئے۔1۔ نماز سے پہلے اپنی خطاؤں سے توبہ اور استغفار کرے۔2۔ جو گناہ نماز کی قبولیت میں رکاوٹ بنتے ہیں ان سے پرہیز کرے جیسے حسد، تکبر، غیبت، حرام مال کھانا، نشہ آوز چیزوں کا پینا، خمس و زکات نہ دینا، بلکہ ہر گناہ سے پرہیز کرناچاہئے۔3۔ جو امور حضور قلب او رنماز کی قدر وقیمت کو کم کرتے ہوں ان کو انجام نہ دینا مثلا غنودگی کی حالت میں ، پیشاب و پاخانہ روک کر، شورو غل کے درمیان نماز نہ پڑھے، ایسی جگہ بھی نماز نہ پڑھے جہاں تو جہ ہٹ جاتی ہو۔4۔ جن چیزوں سے نماز کا ثواب زیادہ ہو ان کوبجا لانا مثلا پاکیزہ لباس پہننا، بالوں میں کنگھا کرنا، مسواک کرنا، خوشبو لگانا، عقیق کی انگوٹھی پہننا۔

مسئله شماره 943رکوع (927)

احکام رکوع در نمازهاي مستحبي

مسئلہ 943 : واجب و مستحب نماز کے درميان احکام رکوع کے سلسلہ ميں کوئي فرق نہيں ہے حتي کہ بناء بر احتياط واجب زيادتي رکوع ميں بھي کوئي فرق نہيں ہے.

مسئله شماره 1040نماز (669)

جو چيزيں نماز ميں مکروه هيں

مسئلہ1040: جو کام نمازی کے خضوع و خشوع کو ختم کردے وہ مکروہ ہے۔ مثلا داهنے، بائیں دیکھنا (اور اگر چہرہ کو بہت گھمائے تو نماز میں اشکال ہے) اسی طرح ڈاڑھی یااپنے ہاتھوں سے کھیلنا انگلیوں کوایک دوسرے میں پھنسانا، تھوکنا، انگوٹھی کی تحریردیکھنا مکروہ ہے،اسی طرح حمد و سورہ و ذکر پڑھتے ہوئے کسی کی بات سننے کے لئے چپ ہوجانا،اسی طرح پیشاب، پاخانہ روک کر یا نیندکی حالت میں یا تنگ وچست لباس پهن کر نماز مکروہ ہے.

مسئله شماره 983قرآن کے واجب سجدے (979)

واجب سجدوں کے پڑہنے کے شرائط

مسئلہ983۔ بناء براحتیاط واجب قرآن کے واجب سجدوں میں بھی پیشانی ایسی چیزپررکھے جس پرسجدہ جائزہے،اسی طرح شرمگاه چھپانے اور غصبی نه هونے کی بھی رعایت کرے لیکن وہ تمام شرائط جونماز میں واجب ہیں اس میں واجب نہیں ہیں۔

مسئله شماره 882قيام (879)

اگربھولے سے قيام کي حالت ميں حمدوسورہ کے لئے بدن کوحرکت دے

مسئلہ882۔ اگربھولے سے قیام کی حالت میں حمدوسورہ کے لئے بدن کوحرکت دے یاکسی طرف جھک جائے تونمازباطل نہیں ہے لیکن اگرتکبیرةالاحرام کہتے ہوئے یاقیام متصل بہ رکوع کے وقت ہوتوبناء براحتیاط واجب نمازکوتمام کرکے دوبارہ پڑھے۔

مسئله شماره 886قيام (879)

نمازکے واجب ذکراداکرتے ہوئے بھي بدن ساکن ہوناچاہئے،

مسئله 886 : نمازکے واجب ذکراداکرتے ہوئے بھی بدن ساکن ہوناچاہئے، بلکہ مستحبی ذکروں میں بھی کہ جن کي جگه نماز ميں معين هے اس بات کی رعایت کی جائےالبتہ اگر رعایت نہ کرے تو اس کي نماز صحيح هے ليکن اس نے خلاف شرع کام کيا هے ۔

قرآن و تفسیر نمونه
مفاتیح نوین
نهج البلاغه
پاسخگویی آنلاین به مسائل شرعی و اعتقادی
آیین رحمت، معارف اسلامی و پاسخ به شبهات اعتقادی
احکام شرعی و مسائل فقهی
کتابخانه مکارم الآثار
خبرگزاری رسمی دفتر آیت الله العظمی مکارم شیرازی
مدرس، دروس خارج فقه و اصول و اخلاق و تفسیر
تصاویر
ویدئوها و محتوای بصری
پایگاه اطلاع رسانی دفتر حضرت آیت الله العظمی مکارم شیرازی مدظله العالی
انتشارات امام علی علیه السلام
زائرسرای امام باقر و امام صادق علیه السلام مشهد مقدس
کودک و نوجوان
آثارخانه فقاهت