اگر کوئي کفارہ نہ دےسکتاھو
مسئلہ 445 : اگر کوئي کفارہ نہيں دے سکتا
مسئلہ 445 : اگر کوئي کفارہ نہيں دے سکتا
مسئلہ446 : اگرعورت کہے کہ ميں حائض ہوں يا حيض سے پاک ہوچکي ہوں تو اس کي بات مان ليني چاہئے البتہ اگر بدگماني کا مورد ہو تو اس کے لئے يہ حکم نہيں ہے.
مسئلہ 451 : جب نماز کا وقت داخل ہوجائے او رعورت کو معلوم ہو يا گمان ہو کہ اگر نماز ميں تاخير کي توحائضہ ہوجائے گي تو فورا نماز پڑھني چاہئے.
مسئلہ 453: اگر حائضہ نماز کے آخري وقت ميں پاک ہو تو اسے غسل کرکے نماز پڑھنا چاہئے يہاں تک کہ اگر صرف ايک رکعت کا بھي وقت باقي رہ گيا ہے تو احتياط واجب ہے کہ نماز پڑھے اور نہ پڑھنے کي صورت ميں قضا پڑھے.
مسئلہ 454 : اگر آخر وقت ميں پاک ہو اور غسل کے لئے وقت نہ ہو بلکہ صرف تيمم کرکے نمازکے وقت ميں ايک رکعت وقت کے اندر پڑھ سکتي ہو اور باقي وقت کے بعد تو اس پرنماز واجب نہيں ہے ليکن اگر تنگي وقت کے علاوہ اس کي شرعي ذمہ داري ہي تيمم ہو مثلا پاني اس کے لئے مضر ہو تو اسے تيمم کرکے نماز پڑھنا چاہئے .
جس کا فريضہ تيمم ہے اگر اس کے اعضائے تيمم ميں زخم ، پھوڑا ہو يا ہڈي ٹوٹ گئ ہو تو وہ وضوء جبيرہ کي طرح تيمم جبيرہ کرے?
مسئلہ 459 : اگر عورت کو پورے مہينہ خون آتا رہے ليکن دو ماہ مسلسل چند روز معين (مثلا يکم سے ہفتم تک) جو اس نے خون ديکھا اس ميں علامات حيض تھيں ليکن باقي دنوں ميں نہيں تھيں تو وہ عورت بھي انہيں دنوں کو عادت قرار دے.
مسئلہ 461 : وہ عورت جو عادت وقتیہ عددیہ رکھتی ہے اگر عادت سے چند روز پہلے اور چند روز بعد خون دیکھے ( جیسا کہ عورتوں میں معمول ہے کہ کبھی ان کی عادت مقدم اور کبھی موخر ہوجاتی ہے) اور سب ملا کر دس دن سے زیادہ نہ ہو تو سب حیض ہے اور اگر دس دن سے زیادہ ہوجائے تو عادت کے دنوں والا خون حیض ہوگا اور پہلے اور بعد والا استحاضہ ہوگا۔ اسی طرح اگرعادت کے دنوں میں اور چند روز عادت سے پہلے خون دیکھے یا عادت کے دنوں میں اور چند روز عادت کے بعد دیکھے تو اگر دس دن سے زیادہ نہ ہو تو سب حیض ہے اور اگر زیادہ ہو توصرف عادت کے دنوں والا خون، حیض شمار ہوگا۔
مسئلہ 467 : جو عورت خون سے پاک ہی نہیں ہوتی(پورے مہینے خون آتا ہے، لیکن دو ماہ مسلسل معین وقت میں جو خون آیا ہے اس میں حیض کی علامتیں پائی جاتی ہیں البتہ دونوں مہینوں میں جن دنوں خون میں حیض کی علامات موجود تھیں ان دنوں کی تعداد ایک جیسی نہیں ہے تو یہ عورت بھی ان تمام دنوں کو حیض قرار دے جن میں حیض کی علامتیں پائی جاتی ہیں۔
مسئلہ 479 : جو عورت صاحب عادت ہے خواہ وقتیہ عددیہ ہو یا فقط عددیہ ہو یا فقط وقتیہ ہو۔ اگر وہ دو ماہ مسلسل اپنی عادت کے خلاف خون دیکھے تو اس کی عادت بدل جائے گی اور اب یہی اس کی عادت قرار پائے گی[جن میں اس نے آخر کے دو مہینے خون دیکھا ہے]۔
مسئلہ 480 : جو عورت ايک ماہ ميں صرف ايک مرتبہ خون ديکھتي ہے اگر کسي مہينہ ميں دو مرتبہ خون آجائے اور اس ميں حيض کي علامت بھي ہو، چنانچہ درميان کے جن دنوں ميں پاک رہي تھي اگر وہ دس دن سے کم نہ ہوں تو دونوں خونوں کو حيض قرار دے.
مسئلہ 481 : اگر تين دن يا اس سے زيادہ ايسا خون ديکھے جس ميں حيض کي علامات ہوں اس کے بعد دس دن يا اس سے زيادہ ايسا خون ديکھے جس ميں استحاضہ کي علامتيں ہوں اور پھر ايسا خون ديکھے جس ميں حيض کي علامات ہوں تو اس تمام خون کو جس ميں حيض کي علامات موجود ہوں حيض قرار دينا چاہئے.