جماع نہ کرانے کی شرط رکھنا
کیا عقد نکاح ( دائمی ) میں یہ شرط کی جاسکتی ہے کہ شوہراور بیوی میں مقاربت نہ ہو ؟
عقد نکاح ( دائمی شادی ) میں یہ شرط کرنا اشکال سے خالی نہیں ہے
عقد نکاح ( دائمی شادی ) میں یہ شرط کرنا اشکال سے خالی نہیں ہے
جواب:۔ بظاہر منع کی گئی زینت کا حصّہ نہیں ہیں .
جواب:۔ بظاہر منع کی گئی زینت کا حصّہ نہیں ہیں .
جواب جو کھیل نمائش سر گرمی تفریح کے عنوان سے بعض نشستوں میں مشاہدہ میں آتے ہیں اور کسی شخص کی چالاکی اور ہاتھ کی صفائی کو ظاہر کرتے ہیں اور اس کے علاوہ کوئی دوسرا مقصد نہیں ہوتا لیکن اگر لوگوکو دھوکا دینے کے لئے ہو تو یہ بھی جادو کی ایک قسم ہے کہ جس سے کمائی کرنا حرام ہے اور ایسی نشست میں شریک ہونا بھی حرام ہے
پہلی صورت میں حرز (محفوظ جگہ) نہیں ہے اور دوسری صورت میں اگر پارکنگ کا دروازہ بند ہو تو حرز شمار ہوگا ۔
جواب :۔ چنانچہ اس شیرخوار بچہ سے جدا ہونا ، جانی خطرہ یا شدید بیماری یا دوسروں کے لئے حرج اور شدید مشقت کا باعث ہے ہو تو وہ خاتون مستطیع نہیں ہے۔
متعہ کی عدت کو بھی پورا کرے، اس کے بعد دوسرے مرد سے شادی کرے لیکن اگر متعہ کے دوران دخول نہ ہو تو متعہ کی عدت کی ضرورت نہیں ہے ۔
جواب: اگر دبائو میں آکر اعتراف کیا گیا ہے تو اس کا کوئی اعتبار نہیں ہے اور اسی طرح اگر کسی ایسے جرم کے بارے میں اقرار کیا گیا ہو جس کا کوئی وجود ہی نہیں ہے ۔
جواب: عورت کے لئے لازم نہیں ہے کہ منی اچھل کر باہر آئے بلکہ اگر رطوبت اس وقت باہر آئے کہ جب شہوت انتہا پر پہنچ چکی ہو تو وہ منی کا حکم رکھتی ہے۔
جواب : قصاص نہیں کیا جائے گا، مگر دیت دینا ہوگی ۔
جواب: شرعی طور سے، ایسا کرنے میں، اشکال ہے ۔
جواب۔مجسمہ بنانا اور اس کیخرید و فروخت میں بہر حال اشکال ہے مگر اس صورت میں کہ جب کھیلونوں کی حیثیت رکھتے ہوں .
اگر ٹھیک ہو جانے کا احتمال زیادہ ہو تو (بیمار کی اجازت سے اس کا) علاج کرنا چاہیے ، لیکن اگر احتمال کم ہو اور خطرہ زیادہ ہو تو علاج سے پرہیز کرنا چاہیے ۔
جواب:۔جب یقین رہا ہو کہ انزال نہیں ہوگا تو بعید نہیں ہے کہ اُن کا بچّہ ، شبہ کے بچّہ (وطی شبہ) کے بچہ کی طرح ہو، اور اگر انزال ہونے کا امکان و احتمال دیا تھا، تو اشکال سے خالی نہیں ہے، رہا مہرِ-- مثل تو اس سلسلے میں اگر عورت اپنی مرضی اور خواہش سے تیار ہوگئی تھی اور اس کو اس بات کا امکان بھی تھا تو مہرِ مثل نہیں رکھتی لیکن اگر اس کی نظر میں اس بات کا امکان نہیں تھا اور تفخیذ (رانوں میں) کرانے کے علاوہ (کسی دوسری چیز پر) راضی نہیں تھی تو اس صورت میں احتیاط واجب یہ ہے کہ اس کو مہر مثل دیا جائے