سوالات کو بہت مختصر، کم سے کم لاین میں بیان کریں اور لمبی عبارت لکھنے سے پرہیز کریں.

خواب کی تعبیر، استخارہ اور اس کے مشابہ سوال کرنے سے پرہیز کریں.

captcha
انصراف
انصراف
چینش بر اساس: حروف الفبا جدیدترین مسائل پربازدیدها

قرض میں مہنگائی کا حساب کرنا

آیا قیمتوں میں اضافہ (مہنگائی)کا قرض وغیرہ میں حساب کرنا سود میں شمار ہوگا؟

جواب۔ہمارے زمانہ میں قیمتوں میں اضافہ کا مسئلہ اس شدّت اور وسعت کے ساتھ جو کاغذی پیسہ (کرنسی) کی دین ہے۔ جب بھی عام لوگوں میں مرسوم اور رائج ہونے کی حیثیت سے مشہور اور معروف ہو جائے مفروضہ مسئلہ میں سود شمار نہیں ہوگا۔(جیسا کہ بعض بیرونی ممالک کے بارے میں بیان کیا جاتا ہے کہ وہاں بینک میں جمع رقم کے سلسلہ میں بھی قیمتوں میں اضافہ (مہنگائی)کا محاسبہ کرتے ہیں اور سود کا بھی حساب کرتے ہیں )۔ایسے حالات اور شرائط میں مہنگائی کا حساب کرنا سود نہیں ہے لیکن اس سے زیادہ فائدہ لینا سود ہے لیکن پمارے معاشرہ میں اور اسی طرح کی دوسری جگہوں پر کہ جہاں عاملوگوں میں مہنگائی اور قیمتوں میں اضافہ کا حساب نہیں ہوتا لہٰذا سب کا سب سود شمار ہوگا۔ اس لئے کہ جو لوگ ایک دوسرے کو قرض دیتے ہیں چند مہینہ یا اس سے زیادہ مدّت کے گزر جانے کے بعد بھی اپنی معیّن رقم کا مطالبہ کرتے ہیں اور مہنگائی کے فرق کا حساب نہیں ہوتا اور رہی ےہ بات کہ علمی نشستوں میں مہنگائی کا حساب ہوتا ہے فقط ےہی کافی نہیں ہے اس لئے کہ معیار وہ ہے جو عام لوگوں میں رائج ہے لیکن ہم ایک صورت کو مستثنیٰ(الگ)کرتے ہیں اور وہ ےہ کہ مثال کے طور پر تیس سال گزرنے کے بعد بہت زیادہ فرق ہو گیا ہو۔لہٰذا خواتین کا قدیم مہر یا انکے اسی طرح کے دیگر مطالبات کے سلسلہ میں ہم احتیاط واجب جانتے ہیں کہ آج ادا کرنے کے وقت کی قیمت کا حساب کیا جائے یا کم از کم مصالحت کی جائے ۔

دسته‌ها: ربا (سود)

مرد اور عورت کے پردے کی مقدار

دین اسلام کی رو سے پردہ کیا ہے ؟ اور عورت و مرد کے لئے کس قسم کے چھپانے کو پردہ کہتے ہیں ؟ کیا مصنوعی بال جو بعض خواتین اپنے سروں پرلگاتی ہیں وہ بھی اصلی بالوں میں شمار ہونگے ؟

جواب: خواتین کے بارے میں چہرے اور گٹے تک ہاتھوں کو چھوڑ کر تمام بدن کو چھپانا پر دہ ہے ، لیکن پردے کی بعض قسمیں جو ظاہرمیں زینت ، شمار ہوتی ہیں جیسے سر کو مصنوعی بالوں چھپالینا یہ پردے کے لئے کافی نہیں ہے ، اسی طرح ایسے لباس کے ذریعہ پردہ کرنا جو زینت میں شمار ہو، کافی نہیں ہے ، اور مردوں کے لئے ، بدن کے کچھ حصے کو چھپانا ، پردہ ہے ، جن حصوں کا مسلمان مردوں کے درمیان چھپانا رائج ہے ، لہٰذا سر ،ہاتھ ، بازووٴں کا کچھ حصہ ( چھوٹی آستین والے لباس میں) وغیرہ کو چھپانا ،مردوں پر واجب نہیں ہے ۔

دسته‌ها: پرده (حجاب)

اس شخص کا محجور (ممنوع التصرف) ہونا جو غیر معقول کام انجام دیتا ہے

ایک شخص ہے وہ غیر معقول کام کرتا ہے مثال کے طور پر اپنا پیسہ جوہاریوں کو دے دیتا ہے اور ان سے فقط بے کار سے چیک لینے پر اکتفا کر لیتا ہے ، یا اس کے بیوی بچوں کو گھر کی ضرورت ہونے کے باوجود ، گھرکو دوسروں کے حوالے کر دیتا ہے :الف) کیا اس کو اس طرح کی دخالت اور تصرف کرنے سے روکا جاسکتاہے ؛ اس مشکل کے بارے میں شریعت کا کیا نظریہ ہے ؟ ب) کیا اس کے بچے عدالت میںشکایت ( رپوٹ ) کرنے کا حق رکھتے ہیں۔ج)۔کیا حاکم شرع اور ولی فقیہ کا نمائندہ خود بخود (شکایت نہ کرنے کی صورت میں) ابتداء ہی سے اقدامات کر سکتے ہیں ؟

مفروضہ ،مسئلہ میں ، اس طرح کا شخص ، سفیہ ( سادہ لوح ) ہے اور اپنے مال میں ڈائرکٹ مداخلت کرنے کا حق نہیں رکھتا۔ب : شکایت کرنے کا حق رکھتے ہیں۔حاکم شرع اور وہ لوگ جنہیں حاکم شرع کی طرف سے اس طرح کے کاموں کے لئے اجازت دی گئی ہے ، اس طرح کے موقعوں پر جیسے ذکر کیا گیا ہے مداخلت کر سکتے ہیں ۔

دسته‌ها: حجر کے احکام

ملزموں پر پولیس کا گولی چلانا

اگر پولیس کا کوئی سپاہی کسی مجرم کا تعاقب کرتے وقت مجرم کی طرف گولی چلادے اور مجرم قتل ہوجائے کیا یہ قتل عمدی ہے یا مشابہ عمد میںشمار ہوگا؟ اس مسئلہ کا حکم کیا ہے؟

اس مسئلہ کی چند صورتیں ہیں:پہلی صورت: یہ ہے کہ بھاگنے والے شخص پر چھوٹے جرم کا الزام ہے جس کی سزا تعزیر ہوتی ہے، اس صورت میں ہوائی فائر یا پیروں کی طرف گولی چلانے کے سوا کچھ اور کام نہیں کیا جاسکتا اس لئے کہ مذکورہ فرض میں وہ مجرم، جرم کے ثابت ہونے کے بعد بھی، اسی قسم (قتل) کی سزا کا مستحق نہیں ہے ۔دوسری صورت: یہ ہے کہ اس پر اس قسم کے جرم کا الزام ہے کہ جس کے مقابلہ میں شدید ردّ عمل نہ کرنے کی صورت میں، معاشرے کا پورا نظام درہم وبرہم ہوجائے گا اور پورے معاشرے کو خطرہ ہے، اس صورت میں آسان سے آسان تر (الاسہل فالاسہل) طریقہ اپنانا چاہیے اور درجہ بدرجہ اقدامات کئے جائیں اور اگر مثال کے طور پر ملزم کے پیروں کی طرف فائر کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا اور سپاہی بھی ماہر تھا اس کے باوجود نشانہ خطا ہوگیا اور گولی ایسی جگہ لگ گئی جو اس کے لئے جان لیوا ثابت ہوئی، اس صورت میں اس کا خون (قتل) ہدر ہے یعنی نہ اس کا قصاص ہے اور نہ دیت، اس لئے کہ جو کام حاکم شرع کی اجازت سے انجم دیا گیا ہو اور مد مقابل بھی اس کا مستحق ہو، اس کی کوئی دیت نہیں ہوتی ہے ۔تیسری صورت: یہ ہے کہ وہ جرم (جس کا اس پر الزام ہے) پورے نظام کے درہم وبرہم ہونے کا باعث نہ ہو لیکن بہرحال جرم سنگین ہو اور اگر ایسے جرم کی روک تھام نہ کی جائے (جیسے جنگ کی حالت میں دشمنوں کو اسلحہ سپلائی کرنا) اور حسّاس علاقوں میں اس کے خلاف اقدام نہ کئے جائیں تو جنگ کی سرنوشت اور نتیجہ تبدیل کئے بغیر ہی بہت زیادہ لوگ قتل ہوجائیں گے، اس صورت میں بھی سلسلہ وار گولی چلانا جائز ہے اور اگر اس کے نتیجہ میں وہ قتل ہوجائے تو اس کا خون ہدر ہے یعنی اس کی دیت یا قصاص نہیں (البتہ ان شرائط کے ساتھ جو اوپر بیان کئے گئے ہیں)۔

روحی اور نفسیاتی صدموں کی وجہ سے خسارت

عدالت کے مبتلا بہ مسائل میں سے ایک -مسئلہ اشخاص کے جسمکو نقصان پہنچانا ہے ۔ کیا جسمانینقصانات مادی اورفیزیکی نقصان سے محضوص ہیں یا روحی اورنفسیانی نقصانات کو بھی شامل ہیں ؟ اس چیز کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ روحی اور نفسیاتی نقصانات کاااثرمادی اور فیزیکی نقصانات سے کئی گنازیادہ ہے ، بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک شخص روحی اور نفسیاتی نقصان کی وجہ سے پوری عمر رنج و غم میں مبتلا رہے ، اور یہ بھی ممکن ہے کہ ایک شخص ، نقصان پہنچنے کی مدت میں کام کاج سے باز رہے (خصوصاً علمی کاموں سے ) اور اپنے مد نظر اہداف کو حاصل نہ کرسکے، اور اجباراً و نا خواستہ کسی دوسرے راستے پر لگ جائے ۔ کیا شرعی طور سے ایسے نقصانات تلافی کے قابل ہیں ؟

جواب:اس چند چیز کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ روحی اور معنوی نقصانات کا اندازہ نہیں لگایا جاسکتا اور نہ ہی اس کی حدود کو معین کیا جاسکتا ہے، لہذا ان کے لئے حسارت کو معین کرنا مشکل ہے ، اور یہ کام غالباً جھگڑے کا سبب ہو جاتا ہے اور یہ ہی وہ چیز ہے جس سے اسلام شدَّت سے پرہیز چاہتا ہے؛ البتہ بعض ایسے موارد بھی ہیں جیسے کامل طور سے ہوش و حواس کا کھو بیٹھنا (جنون )یا اس سے کم کہ جسکا اندازہ لگانا ممکن ہے ، ان جیسے نقصانات کی تلاقی فقہ اسلامی میں بیان ہوئی ہے ۔

کولہے پر چوٹ لگنا اور گوشت کا کُٹ جانا

قانونی ڈاکٹر کی رپورٹ میں یہ جملہ آیا ہے ”جنایت کولہے کے گوشت کے کٹ جانے کا سبب ہوئی ہے “ کیا مذکورہ صدمہ دیت کا باعث ہوگا یا ارش کا کیا کسی بھی چیز کا نہیں؟

جواب: اگر جنایت کا اثر اسی عضو پر تھا تو نہ دیت ہے اور نہ ارش لیکن اگر عضو میں یا ہڈی میں تبدیلی ہر چند وہ ایک مدت کے لئے ہو تو اس کے لئے ارش ہے ۔

دسته‌ها: ارش

ناک کوتوڑنے یا خراب کرنے کی دیت

تعذیرات اسلامی کی دفعہ ۴۴۲/ کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ جس میں اس طرح بیان ہوا ہے: ہر اس عضو کی ہڈی توڑنے کی دیت، جس کی دیت معین ہے، اس عضو کی خُمس ۱/۵ دیت ہے اور اگر بغیر عیب کے علاج ہوجائے، تو اس کی دیت اس کے ٹوتنے کی ۴/۵ ہے اوراسی قانون کی دفعہ ۳۸۲/ اعلان کرتی ہے کہ” اگر جلانے یا توڑنے وغیرہ سے ناک کو فاسد کردیں تو صحیح نہ ہونے کی صورت میں کامل دیت ادا کرنا ہوگی اور اگر بغیر عیب کے صحیح ہوجائے تو اس کی دیت ۱۰۰ دینار ہے“ جب کہ اکثر عدالتوںمیں حاکم کے رویّوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے کہ جب بھی ناک عمدی یا غیر عمدی جنایت کی وجہ سے شکستگی سے دوچار ہوجائے تو دیت کے قاعدہ کلی (جس کو اسلامی تعذیرات کی دفعہ ۴۴۲/ میں بیان کیا گیا ہے) سے خارج جانتے ہیںاور مذکورہ قانوں کی دفعہ ۳۸۲ کو دلیل بناتے ہوئے کہتے ہیں، جنایت کرنے والاٹوٹی ہوئی ناک صحیح ہونے کی صورت میں ایک سو دینار ادا کرنے پر محکوم ہوگا اور صحیح نہ ہونے کی صورت میں کامل دیت دینا ہوگی، حالانکہ معلوم یہ ہوتا ہے اس دفعہ کا موضوع ناک کا فاسد ہوجانا ہے اور ٹوٹنا یا جلانا وغیرہ ناک کے اسباب فساد کے عنوان بیان ہوئے ہیں، نہ فاسد ہونے کے مصادےق میں سے لہٰذا ناک کے فساد مصادیق اور مفہوم کے ابہام پر عنایت رکھتے ہوئے فرمائےے:اوّلاً: بطور مشخص ناک کے فاسد ہونے سے منظور کیا ہے؟ اور کیسے اس کی تلافی ہوگی؟ثانیاً: مختلف صورتوں میں ناک کے ٹوٹنے کی دیت کی مقدار کیا ہے؟

جواب:ناک کے فاسد ہونے سے منظور یہ ہے کہ زخم کے متعفّن ہوجانے یا تیزاب ڈالنے وغیرہ کی وجہ سے پوری ناک ختم ہوگئی ہو، ثانیاً: کامل طور سے فاسد ہونے کی صورت میں اس کی کامل دیت منظور ہوئی ہے اور ٹوٹنے یا ناقص فاسد ہونے کی صورت میں چاہے تلافی ہوجائے یا نہ ہو پائے ارش کی طرف رجوع کیا جائے گا۔

دسته‌ها: اعضاء کی دیت

عاقلہ کا دیت کی ادائیگی سے انکار کرنا

عاقلہ کے دیت کو ادانہ کرنے یا ان کے ادائیگی پر عاجز ہونے کی صورت میں کیا تکلیف ہے ؟

جواب : اگر آیندہ میں ان کے ادا کرنے کی امید ہو تو نا خیر سے کام لینا چاہےے اور اگر ایسی کوئی امید نہ ہو تو بیت المال سے ادا کی جائے اور اگر وہ عمداً تاخیر کریں جبکہ وہ ادا کرنے کی توانائی رکھتے ہوں تو حاکم شرع ان کو مجبور کرسکتا ہے اور ان کو قید خانہ بھی میں ڈال سکتا ہے ۔

قرآن و تفسیر نمونه
مفاتیح نوین
نهج البلاغه
پاسخگویی آنلاین به مسائل شرعی و اعتقادی
آیین رحمت، معارف اسلامی و پاسخ به شبهات اعتقادی
احکام شرعی و مسائل فقهی
کتابخانه مکارم الآثار
خبرگزاری رسمی دفتر آیت الله العظمی مکارم شیرازی
مدرس، دروس خارج فقه و اصول و اخلاق و تفسیر
تصاویر
ویدئوها و محتوای بصری
پایگاه اطلاع رسانی دفتر حضرت آیت الله العظمی مکارم شیرازی مدظله العالی
انتشارات امام علی علیه السلام
زائرسرای امام باقر و امام صادق علیه السلام مشهد مقدس
کودک و نوجوان
آثارخانه فقاهت