سوالات کو بہت مختصر، کم سے کم لاین میں بیان کریں اور لمبی عبارت لکھنے سے پرہیز کریں.

خواب کی تعبیر، استخارہ اور اس کے مشابہ سوال کرنے سے پرہیز کریں.

captcha
انصراف
انصراف
چینش بر اساس: حروف الفبا جدیدترین مسائل پربازدیدها

دوسرے کے مال پر قبضہ کرنے کیلے وکیل کی مدد

چنانچہ کوئی شخصی حقیقی یا حقوقی کے عنوان سے کسی شخص کا وکیل ہو اور متوجہ ہو جائے کہ اس کے موکل کا ارادہ ہے کہ جو مال مد مقابل کا ہے اس کو قانونی طریقوں سے اس سے چھین لے ،کیا (یہ وکیل) شریعت کی رو سے ، ذمہ دار ہے یا نہیں ؟

جب وکیل جانتا ہو کہ اس کے موکل کا شرعی حق نہیں ہے ، تو اس کی طرف سے دفاع نہیں کرنا چاہیے یا دوسرے سے نا حق کو ئی چیز لیکر اپنے موکل کے حوالے نہیں کرنا چاہئے اور اگر وکالت کی اجرت اپنے کام کے بدلے حاصل کرتا ہے تو وہ اس صورت میں جائز ہے کہ جب شرعی حقوق کو حق ثابت کرنے کے لئیے کوشش کرے ۔

دسته‌ها: وکالت کے احکام

عدالت کی جانب سے وکیل قبول کرنا

فریقین کی جانب سے وکیل قبول کرنے کی صورت میں محکمہ عدالت کا کیا وظیفہ ہے ؟

ہمارے زمانے میں چونکہ قوانین پیچیدہ ہوگئے ہیں اور بہت سے لوگوں کو ان کے بارے میں معلومات نہیں ہوتی جو اپنا دفاع کرسکیں، لہٰذا محکمہ عدالت کا وظیفہ ہے کہ فریقین کے وکیل کو قبول کرے ۔

دسته‌ها: وکالت

وہ کمپنیاں جو شریک کرنے کی صورت میں رکن بناتی ہیں

حکومتی ادارے کی طرف سے، لوگوں کے درمیان معین رقم کے عوض، ”یتیم خانہ کا تحفہ“ کے عنوان سے فارم فروخت کئے جاتے ہیں، ان میں سے بعض فارموں پر سوالات بھی لکھے ہوتے ہیں کہ جو لوگ ان سوالوں کا صحیح جواب دیں گے، انھیں قرعہ اندازی میں شریک کیا جائے گا اور جن حضرات کا قرعہ میں نام نکلے گا انھیں انعام دیئے جائیں گے، اس کام کے ذمہ دار حضرات کے اظہار کے مطابق، اس کی آمدنی نیک کاموں میں خرچ کی جائے گی، جبکہ فارم خریدنے والے حضرات تین قسم کے ہوتے ہیں:۱۔ بعض حضرات وہ ہیں جو فقط نیک کاموں میں شریک ہونے کی غرض سے مذکورہ قسم کے فارم خریدتے ہیں ۔۲۔ بعض لوگ فقط قرعہ اندازی میں شریک ہونے کے متمنی ہوتے ہیں ۔۳۔ جبکہ کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ خواہ قرعہ اندازی میں ان کا نام آئے یا نہ آئے بہرحال اُن کے لئے کوئی فرق نہیں ہوتا ۔برائے مہربانی اس کام کے ذمہ دار حضرات ، فارم فروخت کرنے والے اور خریداروں کا حکم بیان فرمائیں؟نیز اس ادارے کی طرف سے ، سیلاب زدہ علاقوں کی امداد کے لئے دوسرے ٹکٹ فروخت ہوتے ہورہے ہیں اس میں قرعہ اندازی میں تمام خریداروں کو شریک کیا جائے گا، اس فرق کے ساتھ کہ ان میں کوئی سوال نہیں کیا گیا ہے، بلکہ جتنے لوگ خریدیں گے ان سب کو قرعہ اندازی میں شریک کیا جائے گا، اس قسم کے ٹکٹ کا کیا حکم ہے؟

یہ سب کچھ، پہلے بیان شدہ، مقدر آزمانے کی قسم کا کام ہے اور شریعت کی رو سے حرام ہے؛ مگر یہ کہ سب کے سب خریدار پہلی قسم کے ہوں، یعنی فقط مدد کرنے کی نیت سے ٹکٹ یا فارم خریدیں، لیکن ہمیں معلوم ہے کہ سب لوگ اس طرح کے نہیں ہوتے، بلکہ بہت سے قرعہ اندازی میں شریک ہونے کے ارادے سے ٹکٹ یا فارم خریدتے ہیں اور اگر انھیں معلوم ہوجائے کہ قرعہ اندازی میں انھیں شریک نہیں کیا جائے گا تو راضی نہیں ہوتے اور نیک کاموں میں سے اس آمدنی کو خرچ کرنے سے مسئلہ کی حقیقت تبدیل نہیں ہوسکتی اور اس میں سوالات لکھنے سے بھی یہ مشکل حل نہیں ہوگی، امید ہے کہ غریب ومحتاجوں کی مدد کرنے کے لئے ایسے طریقے اپنائے جائیں جو احکام شرعیہ کے مناسب ہوتے ہیں کہ معاشرے کی مصلحت اور فائدہ اسی میں ہے ۔

مسجد کے موقوفہ رہائشی مکان کو کرایہ پر دینا

ایک امام جماعت سالہا سال سے مسجد کے موقوفہ مکان میں رہتے چلا آرہے ہیں، حالانکہ ان کے پاس اپنا ذاتی مکان بھی موجود ہے، کیا وہ اس مکان کو چھوڑنے اور اپنے ذاتی مکان میں جانے کے بعد، اس موقوفہ مکان کو کرایہ پردے سکتے ہیں اور خود کرایہ لے سکتے ہیں؟

اگر مکان کو امام جماعت کی سکونت کے لئے بنایا گیا تھا تو اس کو کرایہ پر دینا جائز نہیں ہے؛ مگر یہ کہ امام جماعت اس کو استعمال نہ کرے اور معطّل پڑا رہے؛ اس صورت میں اس کو کرایہ پر دیا جاسکتا ہے اور اس کے کرایہ کو مسجد کی ضروریات میں صرف کیا جاسکتا ہے اور اگر امام جماعت مجبور ہے کہ دوسرا گھر کرایہ پر لے تو اس کے کرایہ کا پیسہ امام جماعت کو دیا جاسکتا ہے؛ لیکن اگر اس کا خود ذاتی مکان ہو تو کرایہ کے پیسہ کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہوگا ۔

چینل اور سلسلہ وار بنانے کی صورت میں قرض الحسنہ سوسائٹی کا قرض دینا

ایک قرض الحسنہ سوسائٹی عوام کو ساتھ سات لاکھ تومان کا قرض دینے کے مقصد سے درج ذیل شرائط کے ساتھ بنائی گئی ہے:۱۔ قرض کے خواہشمند حضرات ، درخواست دیتے وقت مبلغ تین ہزار تومان سوسائٹی کے کارکنان کے محنتانہ کے طور پر، ادا کریں ۔۲۔ درخواست دینے والا ہر آدمی ، قرض کے ضرورتمند تین لوگوں کو آشنا کرائے (یعنی تین ممبر بنائے) اور ان تینوں میں سے بھی ہر آدمی مبلغ تین ہزار تومانمحنتانہ کے طور پر اداکرے ۔۳۔ یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہے یہاں تک کہ درخواست دینے والا پہلا شخص، ساتویں نمبر پر پہونچ جائے ، تب اس صورت میں وہ شخص قرض لینے کے لئے اقدامات کرسکتا ہے ۔۴۔ یہ بتا دینا ضروری ہے کہ قرض الحسنہ سوسائٹی، مذکورہ محنتانہ کے علاوہ قرض لینے والوں سے مزید اور کوئی فائدہ وصول نہیں کرتی۔شریعت کی رو سے مذکورہ اقتصادی کاموں کا حکم کیا ہے؟

یہ کام حقیقت میں ایک قسم کے جوئے سے مشابہ ہے اور تھوڑا پیچیدہ ہے، افسوس اس کی اصل جڑ مغری دنیا ہے اور اس کا نتیجہ یہ ہے کہ پہلے مرحلہ میں ساٹھ لاکھ سے زیادہ رقم، محنتانہ طور پر وصول کی جاتی ہے، اور ساتھ لاکھ قرض دیا جاتا ہے جبکہ وہ بھی واپس کمیٹی کی جیب میں چلا جاتا ہے، محنتانہ ان لوگوں کی زحمتوں کا منصفانہ حق ہوتا ہے جو اس ادارے میں کوئی کام انجام دیتے ہیں، جسے اُن کے کام کی مقدار کے مطابق، اجرت کے طور پر انھیں دیا جانا چاہیے اور ایک ہی مرحلہ میں ساٹھ لاکھ تومان کی کثیر رقم کو محنتانہ کا نام دینا ایک قسم کا دھوکہ وفریب ہے، یقیناً آپ حضرات اس ناجائز کام میں ملوث ہونے کے لئے تیار نہیں ہوں گے ۔

”کارٹل“ اور ”ٹراست“ کی بنیاد پر صنعتی اور تجارتی انجمنوں کی تشکیل

گزارش ہے کہ ذیل کے دو سوالوں کا فقہی حکم بیان فرمائیں:۱۔ کارٹل، کمپنیوں کے درمیان ایک آزاد اور اختیاری یونین ہے کہ جو ایک اقتصادی کام میں مشغول ہے اور یہ کمپنیاں تقریباً ایک جیسے ہی سمامان تیار کرتی ہیں، کارٹل یونین بنانے کا اصلی مقصد یہ ہے کہ ان کے علاوہ کوئی دوسری کمپنی وہ مال نہ بنائے ۔۲۔ ٹراست: یہ اقصادی اکائیوں کی ایک ایسی یونین ہے کہ جس کامال کی تیاری اور فروخت میں ایک ہدف ہے اور اس کی کمان بھی ایک ہی ہے، ٹراسٹ کی تشکیل کا مقصد فقط یہ نہیں ہے کہ ان کے علاوہ کوئی دوسرا وہ مال نہ بنائے بلکہ اس کے علاوہ دوسرے اہداف جیسے پیداوار کی علمی روشوں سے فائدہ اٹھانا، پیداوار کے خرچ کا کم کرنا، اس گروہ کے تعاون سے بہرہ مند ہونا جو یونین کو تشکیل دیتی ہے وغیرہ، بھی مدّنظر ہیں، البتہ ”کارٹل“ اور ”ٹراسٹ“ کے درمیان عمدہ فرق بھی موجود ہے اور وہ یہ ہے کہ کارٹل میں شرکاء کی شخصیت کو محفوظ رکھا جاتا ہے اور ٹراسٹ میں شرکاء کی شخصیت اور استقلال کو ختم کیا جاتا ہے، مہربانی فرماکر کارٹل اور ٹراسٹ کے قالب میں اس طرح کی یونیوں کاشرعی حکم بیان فرمائیں؟

اگر دونوں یونینوں میں اختیارات کے حدو حدود روشن ہوں اور شرائط میں کوئی ابہام نہ پایا جاتا ہو اور معاشرے کے لئے قابل توجہ ضرر کا بھی سبب نہ ہو اور اقتصادی ترقی میں مانع نہ ہو تو کوئی حرج نہیں ہے، لیکن ضرر اور نقصان کی صورت میں ان میں سے کوئی بھی یونین بنانا جائز نہیں ہے ۔

دسته‌ها: مختلف مسایل

خاص زمانہ میںکسی چیز کا مالک ہونا

مقدس شہر میں کوئی مکان، سال کے خاص موسم یا مخصوص مہینوں کے لئے فروخت کیا جاتا ہے، مثال کے طور پر وہ مکان اس ترتیب کے ساتھ چار لوگوں کو فروخت کیا جاتا ہے کہ بہار کے موسم میں (الف) کے لئے، گرمی کے موسم میں (ب) کے لئے، خزاں کے موسم میں (ج) کے لئے اور سردی کے موسم میں (د) کے لئے ہوگا اور ہر سال مذکورہ اشخاص، ان ہی موسموں میں اس مکان کے مالک ہوں گے، یہاں پر یہ بتادینا ضروری ہے کہ گفتگو یہ نہیں ہے کہ ملکیت سب کی مشترک ہے اور مصالحت کرکے زمانے کے لحاظ سے آپس میں تقسیم کرلیا ہے یہ بات نہیں ہے بلکہ مخصوص زمانے میں اسی مکان کے مالک ہونے کی بات ہے اب آپ مذکورہ فرض میں ان سوالوں کے جواب عنایت فرمائیں:الف۔ دلیلوں کے اطلاق اور عمومات منجملہ : ”اوفوا بالعقود“، ”المومنون عن شروطھم“، احل اللّٰہ البیع“، تجارة عن تراض“ کو ملحوظ رکھتے ہوئے کیا اس قسم کی خرید وفروخت صحیح ہے؟ب) کیا ہر زمانے اور ہر موسم میں مالکیت کا باقی رہنا معاملہٴ خریدوفروخت کا تقاضا اور اس کا ہی حصّہ ہے؟ج) کیا یہ کہا جاسکتا ہے کہ اگر اس قسم کا معاملہ (خرید وفروخت) عقلاء (بماھم عقلاء) کی بنیاد پر قائم ہو تو ہر زمانے میں اس کے حلال وجائز ہونے کے لئے ایک قسم کی شارع مقدس کی اجازت ضروری ہے؟د) اگر سوال نمبر الف اور ب کا جواب مثبت ہے تب مالک کے اپنے مال پر مسلط ہونے کی توجیہ کس طرح کی جائے گی؟ مزید وضاحت یہ کہ چونکہ دوسروں کا حق ہونا، مال پر تصرف کے محدود ہونے کا تقاضا مند ہے تب اس صورت میںقاعدہٴ ”الناس مسلطون علیٰ اٴموالھم“ کی کیسے توجیہہ کی جائے گی؟

جب اس طرح کا کوئی معاملہ کسی علاقہ میں رائج ہوجائے اور عقلاء کے معاملات کا حصّہ بن جائے تو اس معاملہ کے صحیح ہونے کو ان دلیلوں سے جن کی طرف آپ نے اشارہ کیا ہے، ثابتکیا جاسکتا ہے اور زمانے کے لحاظ سے مالکیت کے محدود ہونے سے کوئی مشکل وجود میں نہیں آتی ۔

دسته‌ها: مختلف مسایل
قرآن و تفسیر نمونه
مفاتیح نوین
نهج البلاغه
پاسخگویی آنلاین به مسائل شرعی و اعتقادی
آیین رحمت، معارف اسلامی و پاسخ به شبهات اعتقادی
احکام شرعی و مسائل فقهی
کتابخانه مکارم الآثار
خبرگزاری رسمی دفتر آیت الله العظمی مکارم شیرازی
مدرس، دروس خارج فقه و اصول و اخلاق و تفسیر
تصاویر
ویدئوها و محتوای بصری
پایگاه اطلاع رسانی دفتر حضرت آیت الله العظمی مکارم شیرازی مدظله العالی
انتشارات امام علی علیه السلام
زائرسرای امام باقر و امام صادق علیه السلام مشهد مقدس
کودک و نوجوان
آثارخانه فقاهت