چاندنی راتوں میں نماز
چاندنی راتوں میں نماز کو دیر سے پڑھنا آپ کی نظر میں کیسا ہے ؟
جواب : چاندنی راتوں اور اندھیری راتوں میں کوئی فرق نہیں ہے ۔
جواب : چاندنی راتوں اور اندھیری راتوں میں کوئی فرق نہیں ہے ۔
جواب: ضرورت کی صورت میں ان ہی کے جیسی چیزوں کا خریدنا مقدّم ہے۔
جواب: قاضی کا ایسا کوئی وظیفہ نہیں ہے۔
جواب : اگر اس نمازکو پڑھتے وقت، نافلہ کا قصد کیا ہے ، تو نافلہ میں شمار ہوگا اور امید ہے کہ مخصوص نماز کا ثواب بھی ملے گا۔
جواب: جب بھی جسم کے لئے کوئی خاص نقصان نہ ہو اور ایسی تصویریں بھی نہ ہوں جو اخلاق کے خراب ہونے کا باعث بنیں تو جائز ہے، بہر حال وضو اور غسل کے لئے کوئی رکاوٹ ایجاد نہیں کرتے ۔
جواب:۔ جائز ہے چنانچہ عسرو حرج( شدید مشقت) کا باعث نہ ہوتو حج کا احرام پہن کر مُحرِم ہو جائیں ۔
جواب:۔ اس طرح پردہ کرنا چاہیےٴ کہ چہرہ اور ہاتھوں سے زیادہ حصہ نمایاں نہ ہوں .
جواب: اس صورت میں جبکہ پانی قدیم الایام سے مذکورہ راستے سے گذرتا تھا اور گھروں اور باغوں کے مالکان بھی اسی راستے پر عملاً توافق رکھتے تھے، پانی کے راستے سے کو تبدیل کرنا اشکال رکھتا ہے، اسی طرح پائپ بچھانا یا نالی کو سمینٹ سے بنانا بھی بغیر مالکوںکی رضایت کے اشکال رکھتا ہے، لیکن اگر پانی کے راستے میں کوئی خرابی ہو تو صاحبان باغ اس کو درست کرائیں، ورنہ پانی کے مالکان اپنے پانی کو ضائع ہونے سے بچانے کے لئے بندوبست کرسکتے ہیں اور اس پانی کو باغوں کے لئے استعمال کرنا جائز نہیں ہے مگر یہ کہ اس پانی میں حصہ رکھتے ہوں۔
جواب: آباد کرنے والوں کے اذن اور رضایت کے بغیر اس میں کسی بھی طرح کا تصرف جائز نہیں ہے۔
جواب: کوئی اشکال نہیں ہے؛ بشرطیکہ قرض الحسنہ سوسائٹی کے خرچ سے زیادہ نہ ہو۔
جواب:۔ اگر اِس کام کو ترک کرنے سے، فساداورمہم اختلافات کا گمان ہو تو جائز ہے، اس صورت میں حتی الامکان لیڈی ڈاکٹر سے اگر ممکن ہو تو دیکھے بغیر دستانوں وغیرہ کے ذریعہ، غیر مستقیم طور پر یہ کام انجام پائے .
جواب: اسی مسجد یا امام باڑے کی ضرورتوں کے علاوہ جائز نہیں ہے، مگر یہ کہ وقف کرنے والے شخص نے صراحت سے بیان کیا ہو کہ ان چیزوں کا استعمال عام ہے۔
جواب :۔ احرام کا لباس پہنا واجب نہیں ہے اور احتیاط واجب یہ ہے کہ سعی اور تقصیر کابھی اعادہ کرے ۔
جواب: اگر وقف کے دوسرے شرائط موجود ہیں تو اس صورت میں وقف صحیح ہے۔
دین کے احکام کو جاننے کے لیے یا انسان درس پڑھے اور اجتہاد کرے اور احکام کو ادلہ چہار گانہ (قرآن، سنت، اجماع و دلیل عقل) سے استنباط و استخراج کرے اور اگر ایسا نہیں کر سکتا تو تقلید کرے۔