تملیک یا وقف میں ہدیہ دینے والے کی نیت
یہ بات معلوم ہونے کے لئے کہ وقف ہوا ہے یا تملیک، کیا اس سلسلہ میں دونوں صورتوں کے لئے کوئی خاص جملہ کہنا چاہیے یا ہدیہ دینے والے کی فقط نیت کافی ہے؟
جواب: نیت کافی ہے اور عمل سے معاطاتی(یعنی لفظ کے بغیر معاملہ) عمل کا پہلو ظاہر ہوجاتا ہے۔
کافر کا حمل سقط کرنا
مسلمان یا کافر کے لیے بچہ سقط کرانے کا کیا حکم ہے؟
جواب: مسلمان بچے کا سقط کرانا تو واضح ہے کہ جائز نہیں ہے، حتی کہ وہ بچہ نا جائز ہی کیوں نہ ہو، جبکہ کافر کے لیے بھی بچہ سقط کرانا جائز نہیں ہے حتی کہ اگر وہ بچہ ان کے مذہب کے مطابق نا جائز ہی کیوں نہ ہو۔
ایسا وقف جس کا متولّی مرگیا ہو
بحرین کے ایک عالم دین نے، پچاس سال پہلے عزاداری کے لئے ایک جگہ وقف کی تھی تاکہ اس کی آمدنی سے عزاداری کی جائے، اپنی زندگی میں وہ خود متولی تھے اور ان کے انتقال کے بعد، بحرین کے ادارہ اوقاف سے کچھ لوگوں کو متولی کے عنوان سے معیّن کیا گیا ہے اُن متولّیوں کا دعویٰ ہے کہ انھیں مجتہدین کی جانب سے بھی اجازت ہے حالانکہ مشہور یہ ہے کہ وہ لوگ قابل اعتماد نہیں ہیں، اس تمہید کو ملحوظ رکھتے ہوئے ہمارے دوسوالوں کے جواب عنایت فرمائیں:الف) کیا یہ وقف اپنے وقف ہونے کی حالت پر باقی ہے اور ان کو حاکم شرع کے زیر نظر رہنا چاہیے یا مجہول المالک (جس کے مالک کا پتہ نہ ہو) کے حکم میں تبدیل ہوجائے گا چونکہ ان کے موجودہ متولی غیر شرعی ہیں؟
جواب: الف) اس طرح کے مسائل سے وقف ختم نہیں ہوتا بلکہ حاکم شرع سے اجازت لینا چاہیے۔ب) اگر وقف کی حالت پر باقی رہیں تو اس صورت میں ان کی آمدنی کو، وقف شدہ چیزوںکے علاوہ دوسری جگہوں پر جیسے امام باڑے کی دوبارہ تعمیر یا امام باڑے سے متعلق کوئی عمارت بنانے کے لئے استعمال کرنا تاکہ امام باڑے کی آمدنی میں اضافہ ہوجائے، کیاایسا کرنا جائز ہے؟جواب: ب)موقوفہ کی آمدنی کو وقف کے مطابق خرچ کرنا چاہیے، جیسا کہ یہی دستور روایات میں وارد ہوا ہے اور وقف کے قریب کی مخالفت کرنا جائز نہیں ہے، مگر یہ کہ اس مورد میں مصرف کرنا ممکن نہ ہو تو اس صورت میں جو مصرف وقف کے مصرف ہیں، ان میں استعمال کرنا چاہیے۔
وصیت پر عمل کرنے کے بعد ثلث (۳/۱ )سے زیادہ مال کا حکم
ایک شخص نے وصیت کی کہ اس کے باغ کی آمدنی سے بالغ ہونے کے بعد (سے مرنے تک) ہر سال کے لئے نماز وروزہ کی خریداری کی جائے، ابھی تک جتنے سال گذرے ہیں اس پر عمل ہورہا ہے(۱) کیا تکرار عبادت لازم ہے یا اتنی مقدار پر اکتفا کی جائے؟
جواب: اتنی ہی مقدار پر قناعت کی جائے گی اور بقیہ مال وارثین سے متعلق ہے؛ مگر یہ کہ وصیت کی ہو کہ بقیہ مال کو کار خیر میں صرف کیا جائے۔۱۔ مثلاًتکلیف کے بعد وہ دس سال زندہ رہا، دس سال تک اس کی وصیت کے مطابق ہر سال نماز وروزہ کی خریداری ہوتی رہی یعنی اجارہ پر نماز وروزہ انجام دلائے گئے(مترجم)
حرام گوشت دریائی جانوروں کی خرید وفروخت
وہ دریائی جانور جن کا کھانا حرام ہے ، اگر چہ پانی سے زندہ ہی کیوں نہ پکڑے گئے ہوں ، کیا ان پر مردہ جانور کا حکم جاری ہوگا کیونکہ ان کی خرید و فروخت حرام ہے ؟ (چونکہ ان کا دوسرا استعمال بھی ہے جیسے جانوروں اور پرندوں کی خوراک اور کبھی کبھی صنعتی لحاظ سے بھی استفادہ کیا جاتاہے)۔
جواب: دیگر منافع کے لئے ان کی خرید و فروخت میں کوئی اشکال نہیں ہے ۔
غیر عرفی (بیجا) نذروں کا انجام دینا۔
میری بیٹی نوجوانی کے لطیف احساسات کی بنیاد پر عرف کے برخلاف نذر انجام دیتی ہے؛ مثلاً وہ نذر کرتی ہے کہ اگر اس کی نماز چاہے عمداً بھی قضا نہ ہو اُسی دن بغیر سحری کے روزہ رکھے گی اور دن میں چند رکعتیں مستحبی نماز پڑھے گی، قرآن کوچند بار بوسہ د ے گی اور قرآن کی کچھ آیتوں کی تلاوت کرے گی، صلوات پڑھتے وقت کاملاً حجاب میں رہے گی، اس کے علاوہ جب وہ شک کرتی ہے کہ فلاں کام کے لئے نذر کی تھی یا نہیں، تو اس خیال سے کہ شاید نذر انجام دینے میں اس سے کوتاہی نہ ہوگئی ہو، مشکوک نذروں کو بھی انجام دیتی ہے، ان نذروں کا نتیجہ اتنا افراطی ہوتا ہے کہ اس کی معمولی زندگی میں خلل کا باعث بن جاتا ہے اور کبھی کبھی تو اتنا مضحکہ خیز ہوتا ہے کہ اردگرد کے افراد اس کا مذاق اڑانے لگتے ہیں جو اس کی اجتماعی زندگی کے لئے خطرناک ہے، بصورت دیگر یعنی یہ کہ اگر وہ ان نذروں کو انجام نہیں دیتی تو اس کی نفسیات پر منفی اثر ہوتا ہے اور اس کو آخرت کا خوف ستانے لگتا ہے، مذکورہ وضاحت کو مدنظر رکھتے ہوئے فرمائیں کہ اس کے لئے کس حد تک نذر کا پورا کرنا ضروری ہے؟
جواب: مذکورہ نذ ر جب تک زندگی میں خلل، عسر وحرج اورتمسخر کا سبب نہ بنیں تو معتبر ہیں اور اس کے علاوہ کوئی نذر معتبر نہیں ہے ، لیکن اس قسم کی نذریں جیسے بغیر سحری کے روزہ رکھنا اشکال رکھتی ہے، اسی طرح مشکوک نذروں کے وفا کرنے پر اس کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے، البتہ یہ تمام احکام اس وقت لاگو ہوں گے جب نذر کا صیغہ صحیح طریقہ سے پڑھا گیا ہو اور باپ کی اذیت کا باعث بھی نہ بنے اس کے علاوہ دیگر صورتوں میں نذر کو انجام دینا لازم نہیں ہے۔
تحریری نذر
کیا تحریر کے ذریعہ نذر منعقد ہو جاتی ہے ؟
جواب: اشکال سے خالی نہیں ہے ۔
نوکری کےلئے صنف مخالف کے ذریعہ معائنہ
ڈکٹری تعلیم کی غرض سے، ملازمت کیلئے (پولس یا فوج وغیرہ میں ....) کیا کسی غیر بیمار شخص کا معائنہ کرنا اور اس کی صحت وسلامتی دیکھنا، جبکہ دونوں (یعنی دیکھنے والا اور جس کا معائنہ کررہا ہے) وہ شخص ایک صنف کے نہ ہوں ، جائز ہے ؟
جواب:۔جو امور معاشرے کیلئے ضروری ہیں ان میں جائز ہے -.
وقف شدہ قبرستان سے مسجد کی نالی کا گذارنا
ایک مسجد کی کمیٹی کے افرد کہ مسجد کے عام استعمال کے لئے بنائے گئے بیت الخلاء کی نالی، پائپ لائن کے ذریعہ ایک متروکہ قبرستان سے ، جس میں تقریباً ۳۵/سال سے کوئی میت دفن نہیں کی گئے ہے اور وہاں کے ظاہر آثار اور شواہد پر بھی قرستان کے ہونے پر دلالت نہیں کرتے، گذارنا چاہتے ہیں،بغیر اس کے قرستان کی مٹی کو نجاست مس کرے، کیا یہ کام جائز ہے؟
جواب: اشکال سے خالی نہیں ہے مگر یہ کہ قبرستان کے آثار کلی طور پر ختم ہوجائیں اور زمین بھی موقوفہ نہ ہو۔
وادی مشعر میں کارکنوں کا وقوف نہ کرنا
شب عید قربان ،قافلوں کے کار کن اشخاص ، خواتین کے ساتھ آدھی رات کے بعد ، منیٰ میں جاتے ہیں اور پھر مشعر میںواپس پلٹ کر نہیں آتے ، کیا ان پر کفارہ ہے اور ان کاحج صحیح ہے ؟
جواب :۔ چنانچہ راہنمائی اور خواتین ان کی وضیعت کی دیکھ بھال کے لئے ان کے ساتھ جانا ضروری ہے تو کوئی حرج نہیں ہے اور ان پر کفارہ بھی لازم نہیں ہے ۔
مصالحت (صلح) کی رقم کے عنوان سے بیٹی کی شادی
کسی مقام پر دوقبیلوں کے درمیان لڑئی جھگڑا ہو جاتا ہے، اسمیں ایک بچّہ کی آنکھ نا بینا ہو جاتی ہے، پرصلح کے عنوان سے ایک دس سالہ لڑکی کا نکاح اس کے ولی کی اجازت سے اس نابینا بچہ کے آٹھ سالہ بھائی سے کردیا جاتا ہے، خود وہ لڑکی دعویٰ کرتی ہے کہ وہ راضی نہیں تھی اور نہ اب راضی ہے، لڑکی اور لڑکے کی قانونی عمر جس میں وہ لوگ اپنے کاموں میں مستقل مداخلت کرسکتے ہیں، ۱۸ سال ہے اٹھارہ سال سے کم عمر میں عدالت میںجایا جاتا ہے اور عدالت ان کو متخصص (اسپیشلسٹ) ڈاکٹر کے پاس بھےجتی ہے کہ بالغ وعاقل ہوگئے ہیں یا نہیں، چنانچہ سرکاری متخصص ڈاکٹر،ان کے بالغ ہونے کی گواہی دیدے تو عدالت اٹھارہ سال کی عمر سے پہلے بھی بالغ ہونے کا حکم (سرٹیفکٹ)جاری کردیتی ہے . مذکورہ مورد میں اس طرح کا کوئی اقدام نہیں ہوا ہے لیکن سولہ سال کی عمر میں دونوں (شوہر و زوجہ) کے درمیان ایک نشست کی صورت میں یہ طے ہوا کہ درمیانی سطح کی تعلیم کے ختم ہونے تک دونوں حضرات تعلیم جاری رکھیں گے ، اس نشست کے بارے میں بھی اس لڑکی کا دعویٰ ہے کہ میرے ماں باپ نے مجھے دھمکی دی تھی جس کی وجہ سے میں نے اس معاہدہ پر دستخط کردیے تھے، اس طرح کی شادی، بعض دیہاتوں میں، مرسوم تھی اور رائج ہے ملحوظ رہے کہ امام خمینی ۺ کی کتاب تحریر الوسیلہ کی فصل ، نکاح کے اولیاء کے مسئلہ نمبر ۴ میں آیا ہے کہ ((یشترط فی صحة تزویج الاب والجد ونفوذہ عدم المفسدہ)) اور مسئلہ آخر میں بیان ہوا ہے ((الاحوط مراعات المصلحة)) کیا یہ مفسدہ نہ ہونا اور مصلحت کی رعایت کرنا لڑکی سے متعلق ہے یا لڑکی باپ اور فیملی سے مربوط ہے ؟ دوسرا سوال یہ کہ حقیقت میں اس قسم کا عمل، صحیح بھی ہے یا نہیں ؟
جواب:۔مصلحت ومفسدہ کی رعایت کرنا، لڑکی سے متعلق ہے، یعنی لڑکی کی مصلحت اور فائدہ، مد نظر ہونا چاہئے، اس کا ماں باپ سے کوئی تعلق نہیں ہے، فیملی اور خاندان کے ملاحظہ اور گھاٹے و نقصان کا پورا کرنا، جواز نہیں بن سکتا ہے کہ نابالغ بچہ، صلح کا مال بن جائے ،رہا شریعت کی رو سے بالغ بچہ ، تو اس کا حکم واضح ہے کہ اس کی اجازت کے بغیر اس کا نکاح کرنا صحیح نہیں ہے
دھوکاد ھڑی اور زور ربردستی سے اقرار لینا
ایک شخص ایک پر جمعیت عمومی جگہ پر ، یا حکومت کے کارکنان کے کام کرنے کی جگہ پر ، بمب گذاری یا دہشت گردی کے عملیات کے جرم میں ملزِم ہے یا اغوا اور فساد فی الارض کے جرم میں ملوث ہے، جب بھی وہ شواہد وقرائن کہ جو قاضی کی فائل میں موجود ہیں، قاضی کے لئے علم آور ہوں، یا ملزم اقرار کرلے اور نتیجةً جرم ثابت ہوجائے، لیکن اس کے باوجود یہ مذکورہ شخص بمب گذاری کے نقشہ کے فاش کرنے ، زمان ومکان کے دقیقاً بتانے اور شرکاء کے نام لینے سے خودداری کرے ، کیا قاضی ،ملزِم سے ان مہم اطلاعات کو حاصل کرنے کے لئے اور دہشتگردی کے عملیات کا سدباب کرنے کے لئے کہ اگر یہ عملیات محقق ہوجائیں تو بہت زیادہ نقصان کا باعث بنیں گے، ان جیسے استدلال ”دفع افسد بہ فاسد“ افسد کو فاسد سے دفع کرنا، ”ترجیح اہم برمہم “ مہم پر اہم کو ترجیح دینا ”الضرورات تبیح المحذورات“ ضرورتیں، ممنوعہ کام کو مباح کردیتی ہیں، ”اوجب بودن حفظ نظام“ نظام کی حفاظت کرنا زیادہ واجب ہے، کے ذریعہ ملزِم کو شکنجہ کرنے کا حکم دے سکتا ہے تاکہ اس قضیہ کی فوریت کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے کم سے کم وقت میں اقرار کرلے؟ کیا ایسا اقرار حجت ہے؟
جواب: شکنجہ کرنا جائز نہیں ہے۔

