سوالات کو بہت مختصر، کم سے کم لاین میں بیان کریں اور لمبی عبارت لکھنے سے پرہیز کریں.

خواب کی تعبیر، استخارہ اور اس کے مشابہ سوال کرنے سے پرہیز کریں.

captcha
انصراف
انصراف
چینش بر اساس: حروف الفبا جدیدترین مسائل پربازدیدها

شرعی فرائض کے بارے میں ذہنی بیماروں کا حکم

کیا بہرے بچّے، اجتماعی رشد میں تاخیر ہونے کی وجہ سے (البتہ لغت کے خزانہ میں کمی کی خاطر) صحیح وسالم حضرات سے کچھ دیر سے، مکلف ہوتے ہیں؟

اگر کافی حد تک شعور، تمیز اور اچھے بُرے کی پہچان رکھتے ہوں تاکہ عبادات بجالاسکیں تو اس صورت میں ان کے اوپر شرعی احکام لازم ہیں

دسته‌ها: بالغ

ایک ہی شخص (وکیل یا خود شخص) کے ذریعہ نکاح کا صیغہ جاری ہونا

کیا کوئی ایک شخص ،اپنی طرف سے یا کسی کی وکالت میں ،صیغہ نکاح کو ،فارسی یا عربی میں جاری کر سکتا ہے؟

مرد ،عورت ( ہونے والی بیوی ) کاوکیل ہوسکتا ہے اور صیغہ نکاح پڑھ سکتاہے اور اپنی جانب سے نکاح کو قبول کر سکتا ہے ، مثال کے طور پر یہ کہے : اپنی موکلہ فلاں خاتون کو ، فلاں مدت میں فلاں مہر پر اپنے متعہ میں لے لیا ، اس کے بعد کہے کہ میں نے قبول کیا ،اگر عربی میں پڑھ سکتا ہے تو عربی میں پڑھے اور اگر عربی میں نہیں پڑھ سکتا تو فارسی ( یعنی دوسری کسی زبان) میں پڑھے اور عورت بھی مرد کی طرف سے وکیل ہوسکتی ہے ۔

لاٹری کی رقم سے خریدا ہوا مکان

ایک شخص نے انقلاب آنے سے پہلے شاہ کی حکومت کے دوران پانچ تومان میں لاٹری کا ایک ٹکٹ خریدا ، جس کے ذریعہ ا سکو ایک لاکھ تومان حاصل ہوا اس رقم سے اس نے مکان بنایا، کیااس مکان میں نماز پڑھنا جائز ہے ؟

جواب : اسے چاہےئے کہ اس مکان کا مجہول المالک ( یعنی جس کے مالک کا پتہ نہ ہو) کے عنوان سے ، حاکم شرع کی اجازت سے ، صدقہ دے اور اگر خود ہی مستحق ہو تو حاکم شرع کی اجازت سے اس مکان میں تصرف کرسکتا ہے ۔

جواب: اگر لوگوں کی نظر میں ایسا کرنا، میت کی توہین کا باعث نہ ہو تو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا جاسکتاہے لیکن بہتر یہ ہے کہ دوسری جگہ منتقل ن

میت کو دفن کرنے کے بعد کتنی مدت تک نبش قبر حرام ہے ؟

جواب: نبش قبر کے لئے کوئی خاص مدت معین نہیں ہے ، اس لئے کہ اشخاص کا بدن اور اسی طرح قبر کی زمینیں مختلف ہیں، فقط اس صورت میں نبش قبر جائز ہے کہ جب یقین ہو جائے کہ میت کے بدن کے تمام آثار و نشا نات، ختم ہوگئے ہیں ۔

عدالتوں میں چوری کی حد کا جاری نہ ہونا

قانون اسلامی کے زمانہٴ تصویب سے لیکر اب تک بہت کم قاضیوں اور عدالتوں کا سراغ لگاسکتے ہیں جنہوں نے چوری مےں حد الٰہی کے جاری کرنے پر کوئی اقدام کیا ہو، وہ اپنے اس عمل کی توجیہ میں رسول اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وائمہ اطہار علیہم السلام کی احادیث سے استناد کرتے ہیں کہ جن کا مضمون اس طرح ہے:”چنانچہ قاضی، حد الٰہی کے جاری نہ کرنے کی غلطی ، حد الٰہی جاری کرنے کی غلطی سے بہتر ہے “ کچھ دوسرے قاضی مقام توجیہ میں بیکاری اور ان برے نتائج کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو دشمنوں کی طرف سے پروپیکنڈہ کئے جاتے ہیں، خلاصہ یہ کہ ہر ایک خصوصاً سرقت اور محاربہ کی حد کوجاری کرنے سے شانہ خالی کرتا ہے ، نوبت یہاں تک پہونچ گئی ہے کہ گویا ملک میں کوئی بھی ایسی سرقت نہیں ہوتی جو حد الٰہی کا سبب ہو؛ اس سلسلے میں حضور کی نظر کیا ہے ؟

جواب: جب بھی حد سرقت کے شرائط مکمل ہوں تو قاضی کو وسوسہ نہ کرنا چاہئے اور حدود الٰہی جاری کرنا چاہئے البتہ ضروری نہیں ہے کہ حد ملاٴعام میں جاری ہو تاکہ مخالفین اس کے اوپر منفی پروپیکنڈہ نہ کرےں۔

دسته‌ها: چوری

حق الطبع کی مشروعیت

کیا حضور کی نظر میں حق تالیف مشروع حق اور انتقال کے قابل ہے ؟

حق تاٴلیف عقلائی حقوق میں سے ہے، جس پر شارع مقدس نے کتاب وسنت کی بنیاد پر امضاء کیے ہیں، کیونکہ عقلاء کے عرف میں اس کی عدم رعایت ایک طرح کا ظلم شمار ہوتا ہے ۔ اور یہ حق دوسروں کی طرف انتقال کے قابل بھی ہے ۔

دسته‌ها: طباعت کے حقوق

ولد الزنا (ناجائز اولاد)

کیا زنا کے ذریعہ پیدا ہونے والا بچہ ، شرعی اولاد کے حکم میں ہوتا ہے؟

زنا کے ذریعہ پیدا ہونے والے بچہ کا حکم، پرورش اور اس کے اخراجات وغیرہ کے لحاظ سے (ان صورتوں کے علاوہ جہاں دلیل مستثنیٰ قرار دیتی ہے جیسے میراث کا مسئلہ) وہی ہے جو شرعی بچہ کا ہوتا ہے لہٰذا اس بناپر، محرم ہونے، اس کی پرورش، نگہداشت اور تربیت کے تمام احکام ولد الزنا کے بارے میں جاری ہوں گے فقط اس کو میراث نہیں ملے گی ۔

دسته‌ها: ناجائز اولاد