چوری کی سزا کا نصاب
یہ بات ملحوظ رکھتے ہوئے کہ چوری کی حد (سزا) کا نصاب ایک چوتھائی شرعی دینار (کی مقدار )ہے اور اِس زمانے میں دینار ودرہم کا موضوع منتفی ہے یعنی درہم ودینار موجود ہی نہیں ہیں، اس صورت میں چوری کی حد کے نصاب کو کیسے حاصل کریں اور کیسے سمجھیں؟ کیا رائج الوقت سکّہ یا غیر سکّہ سونے کو معیار بنایا جاسکتا ہے؟
اہل علم وجانکار حضرات سے معلوم کرنا چاہیے کہ اگر دینار (سونے) کا سکّہ ہوتو اس کی کیا قیمت ہوگی جو بھی قیمت ہو اس کی ایک چوتھائی قیمت، حد سرقت کا نصاب ہوگی اور آخر کار جب بھی مقدار میں شک ہو تو قدر متیقن (جو یقینی مقدار ہو اس) کا حساب کرنا چاہیے ۔
جس کا مال گیا ہے اس کی طرف سے سزا کا تقاضا ہونا
چور پر چوری کی حد (سزا) جاری کرنے کے سلسلے میں، اس کے تمام شرائط کے علاوہ کیا اس کی طرف سے، جس کا مال چورایا گیا ہے، تقاضا ومطالبہ کرنا بھی لازم ہے، یا حاکم شرع کے پاس فقط شکایت کرنے سے حد کا اجرا کرنا واجب ہے البتہ جب دوسرے تمام شرائط موجود ہوں، ؟
اس کا شکایت کرنا کافی ہے اور تقاضا یا مطالبہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔
لوٹے ہوئے شخص کی طرف سے رپورٹ سے کئے بغیر چوری کے مال کا برآمد ہونا
چنانچہ قاضی کے پاس، مسروقہ مال کے مالک کی شکایت کرنے سے پہلے، چوری کے مال کو پولیس چور سے، وصول اور ضبط کرکے، مال کے مالک کو واپس دینے کی غرض سے اپنے پاس محفوظ رکھے کہ جب بھی مالک تقاضا و مطالبہ کرے اس کا اس کے حوالہ کردیا جائے لیکن مالک اس بات کو جانتے ہوئے بھی، اپنا مال وصول کرنے سے پہلے، قاضی کے یہاں شکایت کردے، کیا اس صورت میں بھی چور کی حد کا جاری کرنا واجب ہے؟
چوری کی حد، اس صورت میں جاری نہیں ہوگی اور ایسا ہی اس صورت میں ہوگا جب جیسے مال اس کے مالک کے ہاتھ میں پہنچ گیا ہو ۔
چوری کا الزام
اگر کوئی شخص دوسرے آدمی پر مسلّح چوری کا الزام لگائے اور عدالت میں اس الزام لگائے اور عدالت میں اس الزام کو ثابت نہ کرسکے اور ملزم کو بری کردیا جائے اس صورت میں الزام لگانے والے شخص کی کیا سزا ہے؟
ایسے شخص کو تعزیر کیا جائے گا اور تعزیر کی مقدار حاکم شرع کی صواب دید پر ہے ۔
چور پر حدّی اور تعذیری چوری کا ایک ساتھ ثابت ہونا
اگر ایک ہی شخص کے سلسلے میں ایسی چوری ثابت ہو جس میں حدّی سرقت کے تمام شرائط پائے جاتے ہوں اور ایسی چوری میں بھی ثابت ہو جس میں حدّی سرقت کے شرائط نہ پائے جاتے ہوں ، کیا حد جاری کرنا، تعذیر سے کفایت کرے گا ؟ یا واجدالشرائط سرقت کے لحاظ سے حد جاری ہوگی اور فاقد الشرائط کی وجہ سے تعذیر ؟
جواب: مفروضہ مسئلہ میں چونکہ دونوں ایک ساتھ ثابت ہوئی ہےں(ہر چند کہ دونوں چوریاںدو مختلف زمانوں میں واقع ہوئی ہو)فقط حد کا فی ہے۔
چوری کے مال کو رکھنا اور چھپانا
کیا چوری کے مال کا رکھنا، چھپانا، اٹھاناہر ایک جدا جرم شمار ہوگا ، یا عمل واحد کے حکم میں ہے؟۔
جواب: اس صورت میں جب اس پر حد شرعی جاری ہو تو ان امور کی وجہ سے کوئی چیز اس کے اوپر عائد نہیں ہوتی۔
حد کے جاری ہونے کے بعد چور کے علاج کا مخارج
کیا مجرم کے قطع عضو ےا تازیانوں کی ضرب کے بعد کے مخارج، اسلامی حکومت کے ذمہ ہیں ؟ آےا مخارج سے منظور معمولی مخارج ہےں ، یا حتمی الوقوع مخارج ، جیسے پٹی ،ڈریسنگ وغیرہ ۔
جواب: احتیاط یہ ہے کہ قابل توجہ مخارج بیت المال سے ادا کئے جائیں ۔
چوری کا اقرار کے بعد انکار کرنا
اگر ملزم، انتظامیہ کے پاس یا دوسرے اےسے قاضی کے پاس جو رائے کا صادر کرنے والا نہیں ہے، چوری کا اقرار کرلے ،اس کے بعد مقدمہ محلی یا ذاتی عدم صلاحےت کی وجہ سے میرے پاس رسیدگی کرنے والے قاضی کے عنوان سے بھےجا جائے اور ملزم سرقت کا منکر ہوجائے تو حکم کیسے ہوگا؟
جواب: جب بھی دوسرے قاضی کے پاس معتبر شہود ملزم کے اقرار کی شہادت دیں تو مالی حقوق ثابت ہوجائیں گے لیکن حد وتعذےر ثابت نہیں ہوگی۔
عدالتوں میں چوری کی حد کا جاری نہ ہونا
قانون اسلامی کے زمانہٴ تصویب سے لیکر اب تک بہت کم قاضیوں اور عدالتوں کا سراغ لگاسکتے ہیں جنہوں نے چوری مےں حد الٰہی کے جاری کرنے پر کوئی اقدام کیا ہو، وہ اپنے اس عمل کی توجیہ میں رسول اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وائمہ اطہار علیہم السلام کی احادیث سے استناد کرتے ہیں کہ جن کا مضمون اس طرح ہے:”چنانچہ قاضی، حد الٰہی کے جاری نہ کرنے کی غلطی ، حد الٰہی جاری کرنے کی غلطی سے بہتر ہے “ کچھ دوسرے قاضی مقام توجیہ میں بیکاری اور ان برے نتائج کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو دشمنوں کی طرف سے پروپیکنڈہ کئے جاتے ہیں، خلاصہ یہ کہ ہر ایک خصوصاً سرقت اور محاربہ کی حد کوجاری کرنے سے شانہ خالی کرتا ہے ، نوبت یہاں تک پہونچ گئی ہے کہ گویا ملک میں کوئی بھی ایسی سرقت نہیں ہوتی جو حد الٰہی کا سبب ہو؛ اس سلسلے میں حضور کی نظر کیا ہے ؟
جواب: جب بھی حد سرقت کے شرائط مکمل ہوں تو قاضی کو وسوسہ نہ کرنا چاہئے اور حدود الٰہی جاری کرنا چاہئے البتہ ضروری نہیں ہے کہ حد ملاٴعام میں جاری ہو تاکہ مخالفین اس کے اوپر منفی پروپیکنڈہ نہ کرےں۔
احتیاط پر عمل کرنے کے سلسلے میں میت مجتہدین کے نظریات
وہ شخص جو احتیاط پر عمل کرتا ہو کیا اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ احکام جو مردہ مجتہدین کی طرف سے صادر ہوئے ہیں ان کا بھی لحاظ کرے؟
جواب:اگر اس کا مقصد احتیاط مطلق ہے تو اس کو چاہئے کہ تمام علماء کے اقوال کو دیکھے اور اگراحتیاط سے اس کا ہدف ان افراد کے درمیان ہے جن کی مرجعیت کا احتمال دیا جا سکتا ہو تو ایسی صورت میں صرف زندہ علماء کے اقوال سے واقف ہونا کافی ہے۔
خواتین کا اجتہاد
کیا عورت اسلامی علوم کو حاصل کرکے اجتہاد کے درجے تک پہنچ سکتی ہے ؟
جواب : کوئی حرج نہیں ہے اور ممکن ہے کہ اجتہاد کے درجے تک پہنچ جائے ۔
مطلقہ اجتہاد کا ممکن ہونا
کیا اس زمانے میں جبکہ مسائل اور مشکلات زندگی بہت زیادہ اور پیچیدہ ہوچکے ہیں اور اس طرح کے مسائل میں احکام کے استنباط پر قدرت حاصل کرنے کے لئے مختلف علوم پر احاطہ رکھنا ضروری ہے تو کیا ایسی صورت میں کوئی شخص اجتہاد مطلق کے مرتبہ تک پہونچ سکتا ہے؟
جواب: جی ہاں ایسا ممکن ہے اور اس کے امکان پر بہترین دلیل، خود اس کا متحقق ہونا ہے جیسا کہ ہم حوزہ علمیّہ قم میں اس کے شاہد و ناظر ہیں۔
ہرزمانے کی مشکلات کا حل فقہ میں
علمی پیشرفت ہونے کی وجہ سے ممکن ہے کہ کچھ ایسے مسائل پیش آجائیںجن کا قرآن مجید یا احادیث وغیرہ میں تذکرہ نہ ہواہو اور صرف عقل سے ان مسائل کو حل کرناکافی اس لئے نہیں ہوسکتا کیونکہ اس عقل سے غلطیاں ہونے کا امکان زیادہ ہے اس بات کو پیش نظر ہوئے کیا مجتہدین آنے والی نسلوں کے سارے شرعی مسائل کا جواب دے سکتے ہیں ؟
جواب: اسلام کے کچھ ایسے قانون اور قواعد عام ہیں جن سے ہر زمانے کی مشکلات حل کی جاسکتی ہےں یہی وجہ ہے جب بھی ہم سے کوئی نئے مسائل کے بارے کوئی سوال کیا جاتا ہے تو بفضل الہی ہم ان ہی قواعد اور قانون سے جواب دیتے ہیںاور کسی بھی مسئلے میں لاجواب نہیںرہتے ہیں ۔
احتیاط واجب میں دوسرے مجتہد کی طرف رجوع کرنا
سوال ۱۴۔ حضرت عالی سے درخواست ہے کہ آپ کے جن مسائل میں احتیاط بیان ہوئی ہیں ان احتیاط میں کس مجتہد کی طرف رجوع کریں؟
جواب : جو مراجع تقلید علمی نشستوں میں مشہور ہیں ان میں سے ایک کی طرف رجوع کرسکتے ہیں ۔

