فحش فلموں اور معاشرے کو خراب کرنے والے آلات کو نابود کرنا
ہمارے زمانے کے مہم مسائل میں سے ایک مسئلہ اخلاقی فساد کا مسئلہ ہے کہ جس نے ہمارے جوانوں کو بگاڑ دیا ہے اور ان کو ہلاک کرنے کے درپے ہے، اس کے بہت سے پہلو ہیں ان میں سے سب سے واضح پہلو ویڈیو فلمیں اور کیسٹیںہیں کہ جن کا معاشرے کی تہذیب کو خراب کرنے اور جوانوں کو منحرف کرنے میں بہت بڑا حصّہ ہے، اور افسوس کہ انتظامیہ اور عدلیہ اس سلسلے میںبہت سست عمل کرتے ہیں، کیا ایسی چیزوں کو اس دلیل سے کہ یہ اسلامی تہذیب کو ختم کررہی ہیں، نابود کرسکتے ہیں؟ کیا ان جیسی چیزوں کو جیسے ڈش انٹینا وغیرہ کہ جس کا کردار فحش ویڈیو فلموں جیسا یا اس سے شدید ہے، نابود کیا جاسکتا ہے؟
یقیناً فحشا اور فساد کے آلات کو نابود کیا جاسکتا ہے اور یہ کام ضمان کا سبب بھی نہیں ہےن لیکن لوگوں کو یہ اجازت نہیں ہے کہ اپنی مرضی سے یہ کام کریں؛ کیونکہ اس صورت میں ہرج ومرج لازم آئے گا، بلکہ منصوبہ بندی اور قوانین کے تحت، اور حاکم شرع اور مربوطہ حکّام کی ریز نگرانی انجام دیا جائے ۔
کن مسائل میں میت کی تقلید کرسکتے ہیں
مردہ مجتہد کے کن فتووں پر عمل کیا جاسکتا ہے؟
جواب: صرف ان مسائل میں مردہ مجتہد کے فتوی پر باقی رہ سکتے ہیں جس پر پہلے عمل کرچکے ہوں ۔
لباس شہرت ( شہرت کا لباس )
لباس شہرت کیاہے اور اس کا استعمال کرنا کیسا ہے ؟
جواب : لباس شہرت یعنی محض دکھا وے کے لئے ایسا لباس پہنا کہ جس سے زاہد اور مقدس ہونا ظاہر ہو ، یعنی لوگوں کے درمیان زاہد و مقدس ، مشہور ہونے کے لئے ایسا لباس پہنے ، اور اس طرح کے لباس پہنے میں شرعاً اشکال ہے ۔
پردہ نہ کرنے کی وجہ سے پٹائی کرنا
اگر کسی شخص کی کوئی محرم خاتون، شرعی پردے کی پابندنہ ،ہوکیا اس بنا پر وہ شخص اس خاتون کو مار نے کا حق رکھتا ہے البتہ اس کو مختلف طریقوں سے سمجھانے اور قانعکرنے اور کوئی نتےجہ حاصل نہ ہونے کے بعد ؟
جواب:۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے مقصد سے حاکم شرع کی اجازت کے بغیر مار نا جائز نہیں ہے .
قطب میں قبلہ کی سمت
کوئی شخص کسی بھی طور پر ، سفر پر یا کسی کام کے باعث قطب کے سفرپر چلاگیا اوروہاں پر اس کا کافی مدت تک قیام کا ارادہ ہے ( ملوظ رہے کہ قطب میں چھ مینہ دن اور اور چھ مہینہ رات ہوتی ہے ) اس صورت میں اس کی نماز روزہ اور قبیلے کی کیا کیفیت ہے ؟ اسی طرح اگر کوئی شخص چاند پر جانے کا رادہ رکھتا ہو تو راستے ،راکٹ اور چاند پر اس کے نماز اور روزے کی کیفیت کیا ہوگی؟
جواب :۔ معتدل علاجات کے مطابق عمل کرے اس مطلب کو ہم نے ”کتاب نماز و روزہ در قطبین “میں تفصیل سے بیان کیا ہے ، قطبی علاقوں میں ، قبلہ کی کوئی شکل نہین ةے ، اس لئے اسی سمت میں کھڑا ہو جائے جس سمت میں مکہ کا سب سے کم فاصلہ ہو اور یہیں سے فضائی سفر میں ، نماز و روزے کا حکم بھی روشن ہو جاتا ہے ، فضائی مسافروں کا قبلہ اس سمت میں ہے جدھر زمین اور اس کامتداد آسمان میں پایا جاتا ہے ۔
میت کی نمازوں اور روزوں کی قضا سے لاعلمی
اگر کوئی شخص مرجائے اور اس کی اولاد کو معلوم نہ ہو کہ میّت پر قضا نماز یا روزے تھے یا نہیں؟ اس کی اولاد کا کیا وظیفہ ہے؟
ان کو صحت پر حمل کرنا چاہیے اور کہیں کہ انشاء الله اس کے ذمہ کوئی چیز نہیں ہے ۔
اجرت پر عمل ( نماز وغیرہ) کرنے والے (اجیر) کیلئے ثواب
جو لوگ اجرت پر عبادت کرنے کے لئے ( یعنی اجرت پر نماز اور روزہ و حج بجا لاتے ہیں )یا اجرت پر دوسرے کام کرنے کے لئے آتے ہیں مثال کے طور پر مزدوری پر مسجد اور مام باڑہ کی تعمیر کرتے ہیں اور اپنی مزدوری بھی لیتے ہیں ،کیا ان کو خدا وند عالم ثواب بھی دے گا ؟
چنانچہ ،مزدور اور اجرت پر کام کرنے والے لوگوں کا قصد ، بندوں کو ان کی ذمہ داریوں اورقرضوں سے نجات دلانا ہو، تو انہیں ثواب بھی ملے گا۔
عدالت میں اعتراف کرنے کے لئے زانی کو حاضر کرنا
برای مہربانی درج ذیل سوالات کے جواب عنایت فرمائیں:الف) کیا زناکے ملزم کو، اعتراف کرنے کے لئے، عدالت میں لانا جائز ہے؟ب) جائز ہونے کی صورت میں کیا قاضی کو اجازت ہے کہ ملزم کو یہ سمجھائے کہ اس کا جرم کیا ہے؟ج) دوسرے سوال کے جائز ہونے اور ملزم کے قبول کرنے کی صورت میں، کیا سمجھانے کے ذریعہ قبول جرم کرنا، اقرار کی حیثیت رکھتا ہو، یا یہ کہ اقرار کرے اور اس عمل (بد) کی صراحت بیانی، کو موضوعیت حاصل ہے، نیز ایک بار اقرار کی صورت میں، کیا متعدد بار اور متعدد نشستوں میں، سوال کو دہرانا، لازم یا جائز ہے؟د) کیا ملزم کی خاموشی سے اس کا انکار، ظاہر ہوتا ہے؟
جواب: الف) زنا کے ملزم کو عدالت میں حاضر نہیں کیا جاسکتا مگر یہ کہ عدالت میں جاکر پہلے گواہ ، گواہی دیدں، یا یہ کہ جبراً اور زور زبردستی زنا کیا گیا ہو اور وہ عورت جس سے زنا کیا گیا ہے، عدالت میں شکایت کرے یا ملزم کچھ دوسرے جرائم کا مرتکب ہوا ہو جیسے پرائی عورت کے ساتھ خلوت، کہ اس طرح کے جرم کی وجہ سے عدالت میں حاضر کیا جائے ۔جواب: ب) گذشتہ جواب سے اس کا جواب بھی معلوم ہوگیا ہے ۔جواب: ج) اقرار صاف وشفاف ہونا چاہیے اور اقرار کے لئے، قاضی کے اصرار کرنے کی کوئی وجہ اورحیثیت نہیں ہے ۔جواب: د) خاموشی سے کوئی چیز ثابت نہیں ہوتی اور اس طرح کے موقعہ پر، انکار لازم نہیں ہے بلکہ اقرار ہونا چاہیے ۔
مولف یا ورثاء کی اجازت کے بغیر کتاب چھاپنا
اگر کوئی ناشر کسی شاعر کا دیوان یا کسی دانشمند کی تالیف و تصنیف کو اس کی یا مرحوم ہونے صورت میں اس کے ورثاء کی اجازت کے بغیر چھابے اور بیچے اور اس سے خود ذاتی فایدہ اٹھائے تو اس کا کیا حکم ہے؟
حق تالیف ایک عقلایی حق ہے جسے ساری دینا کے عقلاء مانتے ہیں اور جس کی رعایت کی جاتی ہے، اس کی رعایت نہ کرنا ظلم اور ممنوع ہے، کسی مولف کی کتاب یا کسی شاعر کا دیوان اس کی اجازت کے بغیر چھاپبا نایز نہیں ہے۔ اس بات کی طرف توجہ ہونی چاہیے کہ ہمیشہ مصداق عرف سے لیے جاتے ہیں اور احکام شرع سے۔ لہذا اس میں کوئی ممنوعیت نہیں ہے کہ زمانہ گزرنے کے ساتھ ساتھ عقلاء کے نزدیک نئے نئے حقوق وجود مین آئیں اور اسلام انہیں اپنے کلی احکام میں شامل کر لے۔
لوگوںکی اُن جائدادوں کا حکم جو ماسٹر پلان میں آگئی ہوں
مینسپلٹی نے لوگوں کے بہت سے مکانوں اور دوکانوں کو ماسٹر پلان میں لے لیا ہے جس کی وجہ سے بہت سے خاندان بے گھر اور بہت سی اجتماعی اور خاندانی مشکلات میں مبتلا ہوگئے ہیں ۔ اس طرح کہ اب ۹ افراد پر مشتمل تین خاندان سالوں سے آوارہ ہیں، اس کا شرعی حکم کیا ہے؟
جائز نہیں ہے کہ حکومت کسی کی جائداد کو ماسٹرپلان میں لے، اور ان کی تکلیف روشن نہ کرے ۔ اگر واقعاً حکومت کو ان کی ضرورت ہے تو ان کی حالیہ تو قیمت کو ان کے مالکان کو ادا کرے ۔ بلاتکلیف رکھنا شرعیت کے خلاف ہے ۔
بلاد کبیرہ کا حکم (جواب کے شروع کی یہ عبادت
بلاد کبیرہ سے کیامراد ہے ؟ ایران میں کتنے شہر بلاد کبیرہ ہیں اور بلاد کبیرہ میں شہر کے آخر سے مسافت کا حساب کرنا چاہئیے یامحلہ کے آخر سے ؟
جواب:۔ جیسا کہ پہلے بیان ہوا ہے کہ بڑے یاچھوٹے شہر میںکوئی فرق نہیں ، بلکہ بلاد کبیرہ و صغیرہ ، مسافر کے احکام میں برابر ہیں ، مگر یہ کہ شہر اس قدر بزرگ اور وسیع ہو کہ اس کا ہرمحلہ ایک الگ اور مستقل شہر شمار ہوتا ہو جیسے شمیر ان اور شہر رَی کہ تہران سے ملے ہونے کے باوجود، مستقل شہر کا درجہ رکھتے ہیں ، لیکن دیگر محلہ ، تہران کا حصہ شمار ہوتے ہیں اور ان محلوں میں جو مستقل شہر کا درجہ رکھتے ہیں اگر ان کا در میانی فاصلہ ،قصر ہونے کی حد تک ہو تو نماز قصر ہے ، ورنہ نماز کا مل ہے اور مسافت کا معیار شہر کے آخری گھر ہیں ۔
الکحل کی نجاست و طہارت
بعض کیمیکل، شعبہ کے طالب علموں کے نقل کے مطابق، صنعتی اورطبی الکحل بنانے کا مادہ ایک ہی ہے،فقط اس وجہ سے کہ صنعتی الکحل پینے کے قابل نہ رہے اس میں ایک رنگین مادہ ملادیتے ہیں،اس فرض کے ساتھ ان دونوں الکحل کا کیا حکم ہے؟
جواب: طبّی اورصنعتی الکحل پاک ہے کیونکہ رنگین مادہ کے قطع نظر بھی وہ پینے کے قابل نہیں ہے اور یہ ایک قسم کا زہر شمار کیا جاتا ہے ، اس وجہ سے مست کرنے والے سیال کی دلیل اس کوشامل نہیں ہوگی۔

