اعضا ء بدن پر جرم وجنایت کرنے کے سلسلے میں قسم
کیاقسم کھانے کے ذریعہ قصاص کو ثابت کیا جاسکتا ہے؟
عضو بدن کو زخمی کرنے کے بارے میں بھی قسم ثابت ہے لیکن قسم کے ذریعہ دیت ثابت ہوتی ہے قصاص نہیں ۔
عضو بدن کو زخمی کرنے کے بارے میں بھی قسم ثابت ہے لیکن قسم کے ذریعہ دیت ثابت ہوتی ہے قصاص نہیں ۔
جواب:۔ جس قدر اس سال میں جلانے کے لئے استعمال یا دیگر کام کے لئے ذخیرہ کیاہے ، خمس نہیں ہے اور جس قدر آئندہ سال کے لئے ذخیرہ کیاگیا ہے۔اس پر خمس ہے ۔
اگر ڈاکٹر کی بات پر یقین اور اطمینان حاصل ہو جائے تو کافی ہے اور اگر یقین نہ ہو تو کافی نہیں ہے۔
ہر اس چیز کا استعمال جو مفید اور بے خطر جانداروں کی جان کو خطرہ میں ڈالے، اشکال سے خالی نہیں ہے۔
جواب : پہلے قصاص کیا جائے گا پھر محارب کی حد جاری ہوگی۔
مذکورہ شخص بہت بڑا منحرف تھا، اور قومی تعصبات کی خاطر اس کے پیچھے نہ لگیں، اور اس راہ میں بیت المال یا غیر بیت المال کو خرچ کرنا جائز نہیں ہے
جواب: ٹوٹے بغیر اندر کی طرف دھنسے کی کوئی دیت نہیں ہے، بلکہ اس کے لئے ارش ہے اور اگر عضو میں کوئی نقص پیدا نہ ہوا ہو تو اس کا ارش کم ہے اور اگر عضو ناقص ہوگیا ہو تو اس کا ارش زیادہ ہے اور ارش فیصد کے معیار پر طبیب حاذق کی نظر سے معین ہوگا۔
جواب :کوئی حرج نہیں ہے
جواب : مضاف نہیں ہے بلکہ یہ ہوا کے بلبلے ہیں جو پانی کو اس رنگ کا کردیتے ہیں۔
جواب : جی ہاں، لازم ہے ، مدعین کے منسوبین ، علم کی صورت میں قسم کھائیں، ایسے ہی اس صورت میں جب مدعی علیہ قسم کھائے۔
جواب: اگر ایسا ضرر ہے، جو درد سے نجات دلانے کے لیے دی جانے والی دوا کے مقابلہ میں عقلاء کے نزدیک قابل قبول ہوتا ہے تو ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن اگر ضرر ایسا ہو جو اس کی جان کو خطرہ میں ڈال رہا ہو تو جائز نہیں ہے اور اگر مریضہ کو ضرر نہ پہچا کر شکم میں موجود بچے کو نقصان پہچا رہی ہو تو بھی جائز نہیں ہے ۔
جواب:۔ کوئی حرج نہیں ہے ۔
جواب: ۔ احتیاط واجب یہ ہے کہ اس کا خمس ادا کیا جائے ۔
جواب: حاکم شرع یا اس کے نمائندے کی اجازت سے، جائز ہے۔
جواب : اس طرح کا پانی مضاف نہیں ہے اور ایسے پانی سے دھلنا طہارت کا باعث بنتاہے ۔