میراث کے تمام طبقوں کو قصاص کا حق ہے
کیا میراث کے دوسرے طبقہ کے وارثوں کو، قصاص کا حق ہے؟
جواب: تما م وارثوں کو جنھیں میراث ملتی ہے، قصاص کا حق ہے، مگر شوہر اور زوجہ کہ انھیں قصاص کا حق نہیں ہے البتہ دیت کی رقم میں حصّہ دار ہیں ۔
جواب: تما م وارثوں کو جنھیں میراث ملتی ہے، قصاص کا حق ہے، مگر شوہر اور زوجہ کہ انھیں قصاص کا حق نہیں ہے البتہ دیت کی رقم میں حصّہ دار ہیں ۔
مذکورہ شخص بہت بڑا منحرف تھا، اور قومی تعصبات کی خاطر اس کے پیچھے نہ لگیں، اور اس راہ میں بیت المال یا غیر بیت المال کو خرچ کرنا جائز نہیں ہے
جواب:۔ طویل مدت تک تعلیم حاصل کرنے کا مقام وطن کے حکم میں ہے ، اس بناء پر مذکورہ مسئلہ کثیرالسفر کے مسئلے سے مربوط نہیں ہے ، لہٰذا اس طرح کے طلاب اور اسٹوڈینٹس حضرات ، اپنے وطن او تعلیم گاہ ، دونوں جگہ پر نمازکامل پڑھیں اور روزہ رکھیں ، لیکن دونوں مقامات کے درمیان اگر سفر کی حالت میں ہوں جیسا کہ ہر ہفتہ ایک مرتبہ سفر کرتے ہیں تو نماز اور روزہ قصر ہے ۔
جواب: جامع الشرائط ، مجتہد کی اجازت کے بغیر، ایسا کرنے میں اشکال ہے۔
جواب : پہلے قصاص کیا جائے گا پھر محارب کی حد جاری ہوگی۔
جواب: ”حارصہ“”دامیہ“ اور سمحاق جیسے زخموں کی دیت گردن میں بھی صادق ہے ۔ لیکن ان کی دیت بدن کی دیت کے مانند ہے ؛ نہ سر و صورت کی دیت کے مانند ، دیت کے علاوہ موار د میں ارش ثابت ہے ۔
جواب: قصاص اور تعذےرات کو بھی شامل ہے۔جواب: ثبوت حد یا قصاص کی دلیل حد اقل حجیّت نہ رکھتی ہوبلکہ حد ےا قصاص کو جاری کرنے کی دلیل ہر چند ظنی ہولیکن محکم دلیل شمار ہونا چاہئے؛ اس طرح کے عرفاً حد یا قصاص کی نسبت شبہ پیدا نہ کرتی ہو۔جواب: معیار تشخیص قاضی ہے۔جواب: قاعدہ درء ان تمام موارد کو شامل ہوتا ہے۔جواب: کوئی فرق نہیں ہے۔
جواب: ٹوٹے بغیر اندر کی طرف دھنسے کی کوئی دیت نہیں ہے، بلکہ اس کے لئے ارش ہے اور اگر عضو میں کوئی نقص پیدا نہ ہوا ہو تو اس کا ارش کم ہے اور اگر عضو ناقص ہوگیا ہو تو اس کا ارش زیادہ ہے اور ارش فیصد کے معیار پر طبیب حاذق کی نظر سے معین ہوگا۔
جواب:۔ کوئی حرج نہیں ہے ۔
جواب: اس صورت میں جبکہ قاتل کا تصور یہ تھا کہ وہ شخص حملہ آور ہے، اس نے اپنے اور اپنے دوسرے بہن بھائیوں سے کی طرف سے دفاع کرتے ہوئے اس کو قتل کردیا تو مقتول کا خون ہدر ہے۔
جواب:۔ قیمت کا معیار بیج ڈالنے کا دن ہے ، لیکن ہمارے فتوے کے مطابق ، احتیاط واجب کی بناپر زراعت کے لئے جو بیج بویا گیا ہے اس کی قیمت کوپیداوارسے کم نہیں کرنا چاہئیے البتہ اس مسئلہ میں دیگر مجتہد ین کرام کی جانب، رجوع کرسکتے ہیں ۔
جواب: حاکم شرع یا اس کے نمائندے کی اجازت سے، جائز ہے۔
ہر اس چیز کا استعمال جو مفید اور بے خطر جانداروں کی جان کو خطرہ میں ڈالے، اشکال سے خالی نہیں ہے۔
پانی چاہے پینے کا ہو یا کھیتی کے استعمال کا اس کا بیجا استعمال کسی بھی زمانہ میں جایز نہیں ہے، اللہ کی اس عظیم نعمت میں سب کو بچت کرنا چاہیے اور اصراف اور زیادہ روی سے بچنا چاہیے۔