سوالات کو بہت مختصر، کم سے کم لاین میں بیان کریں اور لمبی عبارت لکھنے سے پرہیز کریں.

خواب کی تعبیر، استخارہ اور اس کے مشابہ سوال کرنے سے پرہیز کریں.

captcha
انصراف
انصراف
چینش بر اساس: حروف الفبا جدیدترین مسائل پربازدیدها

حملہ آور کو قتل کرنے کے سلسلہ میں شریعت کا حکم

کیا اُس حملہ آور یا چور کو قتل کرنا جائز ہے جو کسی انسان پر حملہ کرے یا اس کے گھر میں چوری کرنے آئے؟

اس وقت جائز ہے جب قتل کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہ ہو اور اس صورت میں اس کا خون ہدر ہے (یعنی قصاص وغیرہ نہیں کیا جاسکتا)

فیصلہ میں تحریری سندوں کی حجیت

ذیل میں دیئے گئے مطالب کو ملحوظ رکھتے ہو ئے کیا دور حاضر میں قاضی حکومتی سفروں (یا داستانوں ، تحریروں ) پر اعتماد کرتے ہوئے ان کو اپنے فیصلہ کی دلیل قرار دے سکتا ہےالف )کچھ حالات ، نشانات اور علامتیں پائی جاتی ہیں جو معاشرہ میں اس طرح کی سندوں کو منظم و مرتب کرنے والوں پر اعتماد ا سبب نیز حکومتی سندوں پر اعتماد کا باعث ہوتی ہیں جیسے خلاف ورزی کرنے والے ہیڈ کلرک یا افسروں کے لئے مقررات اور سزاوٴں کا معین ہونا اور ہمیشگی تحقیق اور تفتیش کرنے والے افسروں کا موجود ہونا جو حکومتی سندوں کے دفتروں کی تفتیش و دیکھ بھال کرتے ہیں اور دوسری طرف ہیڈ کلرک اور ذمہ دار افراد دفتر میں آنے والے لوگوں کا اعتماد حاصل کرنے کے لئے اپنے کام کو نہایت دقت سے انجام دیتے ہیںب)حقوقی اور اقتصادی روابط کا زیادہ حصہ اور قضاوت کے مسائل سرکاری کاغذات اور سندوں پر طے پاتے ہیں اس نرح کے ان کاغذات کے بغیر (جیسے شناختی کارڈ یا شاد ی کی سند ، زمین اور مکان کے کاغذات بیع نامہ وغیرہ ، گاڑی کے کاغذات اور اسی طرح کی دوسری سندیں معاشرہ کے معشیتی نظام کا یہ قضیہ بے کار ہو کر رہ جائے گاج)مجتہدین کرام نے مجتہدین کرام نے تحریر اور مکتوبات کے معتبر نہ ہونے پر جو دلیلیں قائم کی ہیں جیسے دھوکہ یا فریب یعنی جعلی ہونے کا امکان یا قاصد کا تحریر شدہ مضمون کے قصد نہ کرنے کا امکان وہ سب دلیلیں ان سندوں اور سرکاری کاغذات کے بارے میںعام طور پر منتفی ہیں

جواب : تحریری دستخط لفظی ، (زبانی ) انشاء کا حکم رکھتے ہیں لہٰذا دور حاضر کی موجودہ سندیں (سرکاری کاغذات ) حجت ہیں اور ہم نے تعلیقہ عروة الوثقیٰ جلد دوم کے آخر میں اس مسئلہ کے سلسلے میں کافی دلائل تحریر کئے ہیں

دسته‌ها: قضاوت

ہڑتال کرنے والوں کو زبردستی کھانا کھلانا

ایسا شخص جس نے بھوک ہڑتال کر دی ہو اور اپنی جان کو یا کم سے کم اپنی سلامتی خطرہ میں ڈال دیا ہو، اس حالت میں صرف ڈاکٹر کے ذریعہ اس کو زبردستی غذا دیا جانا ہی اس کی جان کو بچا سکتا ہے، اس ضمن میں درج ذیل سوالوں کے جوابات عنایت فرمائیں:الف۔ کیا ڈاکٹر کے لیے ایسا کرنا واجب ہے یا وہ اس سے کوئی مطلب نہ رکھے؟ب۔ اگر اسے کھانا کھلانا واجب نہ ہو اور اس کام کے لیے انہیں زبردستی مارا پیٹا جائے تو اس کی جان بچانے کے لیے کس حد تک اسے مارا پیٹا جا سکتا ہے؟ج۔ اگر اس کی پٹائی اس کے بدن یا پوشت کی رنگت بدل جائے تو کیا اس کی دیت واجب ہے اور دیت کس کے ذمہ ہوگی؟د۔ مذکورہ بھوک ہڑتال میں اگر کسی کو یقین ہو کہ وہ اس میں اپنی جان دے دیگا جبکہ کسی دوسرے اپنے انجام کی کوئی خبر نہ ہو، کیا ان دونوں کی حالت میں فرق ہے؟ اگر فرق ہے تو اس میں ڈاکٹر کا اس دوسرے کے بارے میں کیا فریضہ ہے؟ھ۔ اگر ڈاکٹر کو زبردستی انہیں کھانا کھلانے کے لیے مجبور کیا جائے، اس غرض سے نہیں کہ ان کی جان بچ جائے بلکہ اس غرض سے وہ کسی بات کو ثابت کر سکیں اور اس کے لیے اس سے اقرار لے سکیں، اس صورت میں ڈاکٹر کا شرعی فریضہ کیا ہے؟

جواب: الف۔ ایسا کرنا ڈاکٹر اور تمام مسلمانوں کے لیے جہاں پر یہ واجب ہو جائے، واجب ہے ۔ب۔ بھوک ہڑتال کرنے والوں کے لیے خطرہ کے احساس کی صورت حد اقل ضرورت کے وقت جائز ہے ۔ج۔ جہاں پر واجب ہو جائے وہاں دیت نہیں ہے ۔د۔ ڈاکٹر کے لیے دونوں صورت حال میں کوئی فرق نہیں ہے ۔ھ۔ اگر مریض کی جان کو خطرہ نہ ہو تو ڈاکٹر اسے کھانا کھانے پر مجبور نہیں کر سکتا مگر یہ کہ ان موارد میں جہاں ملک اور اسلامی معاشرہ کی مصلحت کا تقاضا ہو۔

ہبہ شدہ مکان پر خمس

میرے والد محترم نے مجھے ایک گھر دیا ہے اور کچھ رقم میں نے بھی اس گھر پر خرچ کی ہے کیا مذکورہ گھر پر خمس ہے ؟

جواب:۔ اگر وہ گھر جو آپ کو آپ کے والد نے عطا کیا ہے سکونت کے لئے ضروری تھا تو خمس نہیں ہے لیکن احتیاط یہ ہے کہ جو رقم آپ نے گھر کے کام میں لگائی ہے اس کا خمس ادا کریں نیز اپنے والد کے کام کو صحیح ہونے پر حمل کریں اور کہیں کہ ان شاء اللہ ان کا عمل صحیح تھا ۔

پیشاب کی تھیلی کا نجاست سے آلودہ ہونا

وہ شخص جس کا پائخانہ یا پیشاب بے اختیار نکل جاتا ہو اور ایک تھیلی کے ذریعہ بدن تک پہنچنے سے روکے رکھتا ہو ، اب اگر نماز سے پہلے وہ تھیلی آلودہ ہوجائے تو کیا اس کو بدلنا واجب ہے؟اگر تھیلی پاک ہو اور نماز کے دوران پائخانہ یا پیشاب بے اختیار خارج ہوجائے تو کیا حکم ہے؟

جواب: وہ شخص جس کا پائخانہ یا پیشاب پے در پے نکلتا ہو اسے چاہئے کہ ہر وضو کے بعد فوراً نماز میں مشغول ہوجائے اور نماز احتیاط اور بھولے ہوئے سجدے اور تشہد کے لئے وضو کرنا لازم نہیں ، بشرطیکہ نماز اور ان کاموں کے درمیان فاصلہ نہ ڈالے، نماز کی حالت میں نجس تھیلی ساتھ رکھنے سے نماز باطل نہیں ہوتی۔

قرآن و تفسیر نمونه
مفاتیح نوین
نهج البلاغه
پاسخگویی آنلاین به مسائل شرعی و اعتقادی
آیین رحمت، معارف اسلامی و پاسخ به شبهات اعتقادی
احکام شرعی و مسائل فقهی
کتابخانه مکارم الآثار
خبرگزاری رسمی دفتر آیت الله العظمی مکارم شیرازی
مدرس، دروس خارج فقه و اصول و اخلاق و تفسیر
تصاویر
ویدئوها و محتوای بصری
پایگاه اطلاع رسانی دفتر حضرت آیت الله العظمی مکارم شیرازی مدظله العالی
انتشارات امام علی علیه السلام
زائرسرای امام باقر و امام صادق علیه السلام مشهد مقدس
کودک و نوجوان
آثارخانه فقاهت