سوالات کو بہت مختصر، کم سے کم لاین میں بیان کریں اور لمبی عبارت لکھنے سے پرہیز کریں.

خواب کی تعبیر، استخارہ اور اس کے مشابہ سوال کرنے سے پرہیز کریں.

captcha
انصراف
انصراف
چینش بر اساس: حروف الفبا جدیدترین مسائل پربازدیدها

لواط کرنے والے کا لواط کئے جانے والے کے ہاتھوں قتل

دوافراد نے ایک سولہ (۱۶) سالہ جوان کے ہاتھ پیر باندھ کر اس سے منھ کالا کیا، متجاوزین اس گھناؤنے فعل کے بعد سوجاتے ہیں، اس جوان نے ان کی اس غفلت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ان میں سے ایک کو لوہے کے ایک ٹکڑے سے ضرب لگاکر اور دوسرے کو ایک تیز دھار والے آلے (چاقو) سے قتل کردیا، اس بات کو کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ ملزم نے یہ کام اپنے دفاع اور اس تصور سے انجام دیا ہے کہ مقتولین مہدور الدم ہیں، کیا اس صورت میں ملزم کو قصاص کیا جائے گا؟

جواب: چنانچہ ثابت ہوجائے کہ قاتل نے یہ کام اپنے دفاع کے عنوان سے اور اس خوف کی بنیاد پر کہ مبادا اس پر دوبارہ تجاوز کیا جائے ، انجام دیا ہے تواس صورت میں نہ قصاص ہے اور نہ دیت؛ لیکن اگر ثابت ہوجائے کہ اس کا تصور یہ تھا کہ وہ مہدور الدم ہےں اور وہ حکم خدا کو ان کے اوپر جاری کررہا ہے تو اس صورت میں قصاص نہیں ہے لیکن دیت ہے۔

دسته‌ها: قصاص کے احکام

پیشاب کی تھیلی کا نجاست سے آلودہ ہونا

وہ شخص جس کا پائخانہ یا پیشاب بے اختیار نکل جاتا ہو اور ایک تھیلی کے ذریعہ بدن تک پہنچنے سے روکے رکھتا ہو ، اب اگر نماز سے پہلے وہ تھیلی آلودہ ہوجائے تو کیا اس کو بدلنا واجب ہے؟اگر تھیلی پاک ہو اور نماز کے دوران پائخانہ یا پیشاب بے اختیار خارج ہوجائے تو کیا حکم ہے؟

جواب: وہ شخص جس کا پائخانہ یا پیشاب پے در پے نکلتا ہو اسے چاہئے کہ ہر وضو کے بعد فوراً نماز میں مشغول ہوجائے اور نماز احتیاط اور بھولے ہوئے سجدے اور تشہد کے لئے وضو کرنا لازم نہیں ، بشرطیکہ نماز اور ان کاموں کے درمیان فاصلہ نہ ڈالے، نماز کی حالت میں نجس تھیلی ساتھ رکھنے سے نماز باطل نہیں ہوتی۔

زناء عنف (زنابالجبر) کا حکم

تعذیرات اسلامی کے مادّہ ۸۲ کے بند ”د“ کے مطابق زناء عنف موجب قتل ہوتاہے اورآپ جانتے ہیں کہ اکراہ اور اجبار میں فرق پایاجاتا ہے ، اس لئے کہ اکراہ اس وقت محقق ہوتا ہے جب مکرَہ شخص ، فعل کو انجام دینے کا ارادہ تو رکھتا ہو، لیکن دل سے راضی نہ ہو، جبکہ اجبار میں فعل کو انجام دینے کا ارادہ بھی نہیں ہوتا، التماس ہے کہ زناء مکرَہ کے بارے میں فرمائیں:الف) کیا ایسی عورت کے ساتھ زنا جو مستی کی حالتمیں ہو، یا خواب آلودہ ہو، یا بیہوش ہو، یا زنا کی حلّیت کی معتقد ہوزنا کرنا اکراہ کے مصادیق میں سے ہیںکہ زانی پر قتل کا حکم لگایا جائے؟ب) کیا اس صورت میںجب زانی، زانیہ کو زنا کے لئے مست یا بیہوش کرے اور اس صورت میں جب زانی کا زانیہ کے مست یا بیہوش کرنے میں کوئی کردار نہ ہو کوئی فرق پایا جاتا ہے؟ج) کیا عنف (زور زبردستی) سے مراد، نارضایتی کا اظہار ہے، یا راضی نہ ہونا ہے۔

جواب: الف سے ج تک: اس صورت میں جب عورت زنا کے لئے حاضر نہیں تھی، لیکن مرد نے مستی یا بیہوشی یا سونے کی حالت میں ، اس پر تجاوز کیا، زناء عنف شمار ہوتا ہے اور سزائے موت کا حکم رکھتا ہے نیز اس مسئلہ میں زانی کے زانیہ کو مست یا بیہوش وغیرہ کرنے کے اقدام وعدم اقدام میں کوئی فرق نہیں ہے ، یہ روایات میں زنائے عنف سے تعبیر نہیں ہوا ہے، بلکہ غصب سے تعبیر ہوا ہے جو ان تمام موارد پر صادق آتا ہے۔

دسته‌ها: زنا کی حد

گناہ سے توبہ، بخشش کا سبب ہے

میں ایک بہت بڑا گناہ کار شخص ہوں اور بہت سے وحشتناک گناہوں کا مرتکب ہوا ہوں، میں نے اپنے گذشتہ اعمال سے توبہ کرلی ہے اور پہلی فرصت میں نادم اور شرمسار ہوں، کیا خدا مجھے بخش دے گا؟ کون سے وہ کام ہیں جن کا اجر زیادہ ہے اور ان کو انجام دوں تاکہ سکون قلب حاصل ہوجائے؟

سب سے بڑا عمل عفو وبخشش الٰہی پر اُمیدوار رہنا ہے اور ان کاموں سے پرہیز ہے جن کو خداوندعالم نے قرآن مجید میں اور پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم اور آئمہ طاہرین علیہم السلام نے اپنے ارشادات میں بیان فرمائے ہیں اور علماء اور مجتہدین نے اپنی کتابوں میں لکھے ہیں، کوشش کریں کہ مستقبل میں اچھے کاموں خصوصاً لوگوں کی زبان یا مال کے ذریعہ خدمت کرنے سے گذشتہ اعمال کی تلافی کریں۔

دسته‌ها: توبہ

شعر کی صورت میں قرآن کا ترجمہ

یہ فرمائیں کہ اگر کوئی ادارہ قرآن کو فروغ دینے اور نظم و شعر کے عمیق اثرات کے پیش نظر اسے طبع کرنا چاہے تو آپ کا اس بارے میں کیا حکم ہے؟

اگر بقیہ اشعار بھی اس جیسے یا اس سے بہتر ہوں اور اس کے مضامین کسی علمی گروہ کے ذریعہ چیک ہونے کے بعد اس پر لکھے گیے مقدمہ میں یہ بات لکھی جائے کہ یہ ترجمہ آزاد ہے بلکہ ترجمانی ہے تو اس کی طباعت میں کوئی حرج نہیں ہے۔

دسته‌ها: شعر

ہڑتال کرنے والوں کو زبردستی کھانا کھلانا

ایسا شخص جس نے بھوک ہڑتال کر دی ہو اور اپنی جان کو یا کم سے کم اپنی سلامتی خطرہ میں ڈال دیا ہو، اس حالت میں صرف ڈاکٹر کے ذریعہ اس کو زبردستی غذا دیا جانا ہی اس کی جان کو بچا سکتا ہے، اس ضمن میں درج ذیل سوالوں کے جوابات عنایت فرمائیں:الف۔ کیا ڈاکٹر کے لیے ایسا کرنا واجب ہے یا وہ اس سے کوئی مطلب نہ رکھے؟ب۔ اگر اسے کھانا کھلانا واجب نہ ہو اور اس کام کے لیے انہیں زبردستی مارا پیٹا جائے تو اس کی جان بچانے کے لیے کس حد تک اسے مارا پیٹا جا سکتا ہے؟ج۔ اگر اس کی پٹائی اس کے بدن یا پوشت کی رنگت بدل جائے تو کیا اس کی دیت واجب ہے اور دیت کس کے ذمہ ہوگی؟د۔ مذکورہ بھوک ہڑتال میں اگر کسی کو یقین ہو کہ وہ اس میں اپنی جان دے دیگا جبکہ کسی دوسرے اپنے انجام کی کوئی خبر نہ ہو، کیا ان دونوں کی حالت میں فرق ہے؟ اگر فرق ہے تو اس میں ڈاکٹر کا اس دوسرے کے بارے میں کیا فریضہ ہے؟ھ۔ اگر ڈاکٹر کو زبردستی انہیں کھانا کھلانے کے لیے مجبور کیا جائے، اس غرض سے نہیں کہ ان کی جان بچ جائے بلکہ اس غرض سے وہ کسی بات کو ثابت کر سکیں اور اس کے لیے اس سے اقرار لے سکیں، اس صورت میں ڈاکٹر کا شرعی فریضہ کیا ہے؟

جواب: الف۔ ایسا کرنا ڈاکٹر اور تمام مسلمانوں کے لیے جہاں پر یہ واجب ہو جائے، واجب ہے ۔ب۔ بھوک ہڑتال کرنے والوں کے لیے خطرہ کے احساس کی صورت حد اقل ضرورت کے وقت جائز ہے ۔ج۔ جہاں پر واجب ہو جائے وہاں دیت نہیں ہے ۔د۔ ڈاکٹر کے لیے دونوں صورت حال میں کوئی فرق نہیں ہے ۔ھ۔ اگر مریض کی جان کو خطرہ نہ ہو تو ڈاکٹر اسے کھانا کھانے پر مجبور نہیں کر سکتا مگر یہ کہ ان موارد میں جہاں ملک اور اسلامی معاشرہ کی مصلحت کا تقاضا ہو۔

قرآن و تفسیر نمونه
مفاتیح نوین
نهج البلاغه
پاسخگویی آنلاین به مسائل شرعی و اعتقادی
آیین رحمت، معارف اسلامی و پاسخ به شبهات اعتقادی
احکام شرعی و مسائل فقهی
کتابخانه مکارم الآثار
خبرگزاری رسمی دفتر آیت الله العظمی مکارم شیرازی
مدرس، دروس خارج فقه و اصول و اخلاق و تفسیر
تصاویر
ویدئوها و محتوای بصری
پایگاه اطلاع رسانی دفتر حضرت آیت الله العظمی مکارم شیرازی مدظله العالی
انتشارات امام علی علیه السلام
زائرسرای امام باقر و امام صادق علیه السلام مشهد مقدس
کودک و نوجوان
آثارخانه فقاهت